(گزشتہ سے پیوستہ)
سب سے اونچی ذات برہمن کی ہے، جس کا کام لوگوں کی مذہبی رہنمائی کرنا ہے۔ انہیں مذہبی طور پر یہ معاشرتی تحفظ حاصل ہے کہ کسی جرم میں انہیں جسمانی سزا نہیں دی جا سکتی، ان پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا اور ان کی خدمت و احترام باقی تمام طبقات کے لیے لازمی ہے۔ دوسرے نمبر پر کھتری ہیں، جن کا کام لوگوں کی حفاظت کرنا اور حکومت کرنا ہے۔
تیسرے درجہ پر ویش ہیں، جن کی ذمہ داری میں تجارت، کھیتی باڑی اور مویشی پالنا ہے۔ اور چوتھا اور آخری درجہ شودر کا ہے، جو ان تینوں طبقوں کے خدمت گزار کے طور پر پیدا کیا گیا ہے۔
ہندو معاشرہ میں وید کی تعلیم اور مذہبی رسومات کی قیادت صرف برہمن ذات تک محدود ہے، کسی دوسری ذات کا شخص اس کی جرأت نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ کسی شودر نے اگر وید کو ہاتھ لگا دیا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دینے کے احکام بھی موجود ہیں۔
عورت کے بارے میں ہندو تعلیمات میں بتایا گیا ہے کہ اس کے وجود کا مقصد صرف بچے پیدا کرنا، ان کی پرورش کرنا اور امور خانہ داری انجام دینا ہے۔ وہ باپ کی وراثت کی حقدار نہیں ہے، شوہر کی وراثت اگر اسے مل جائے تو اسے فروخت کرنے کی مجاز نہیں ہے۔
عورت اگر بیوہ ہو جائے تو اس کے لیے عزت کا راستہ یہی ہے کہ وہ خاوند کی لاش کے ساتھ اسی کی چتا کی آگ میں جل مرے۔ اسے دوسرے نکاح کا حق نہیں ہے اور بقیہ زندگی میں وہ دیگر بہت سی سہولتوں سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔
ہندو مذہب میں ”نیوگ“ کا تصور بھی موجود ہے کہ اگر کسی عورت کی اپنے خاوند سے اولاد نہ ہوتی ہو تو وہ خاوند کی مرضی سے کسی اور مرد کے ساتھ جنسی تعلق استوار کر کے اولاد پیدا کر سکتی ہے اور یہی حق مرد کو بھی حاصل ہے۔
وہ چند باتیں ہیں جو ہندو مذہب کے تعارف میں خود اس مذہب کے لٹریچر میں بھی پائی جاتی ہیں اور ان میں سب سے نمایاں بت پرستی اور ذات پات کا فرق ہے، جس نے مختلف ادوار میں خود ہندو دانشوروں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا۔ بہت سے مصلحین نے بت پرستی اور ذات پات کے فرق کے خلاف آواز بلند کی اور ہندو مذہب میں اصلاحات کی تحریک کی۔
سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک کی تحریک دراصل ہندو مذہب کی انہی باتوں کے خلاف بغاوت تھی اور حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکرؒ اور دیگر مسلم صوفیاء کے زیر اثر انہوں نے بت پرستی کو مسترد کرتے ہوئے توحید کے عقیدہ کی طرف واپسی کی دعوت پیش کی، لیکن مسلم صوفیاء سے متاثر ہونے کے باوجود زبردست معاشرتی دباؤ کے باعث اسلام کی طرف آنے کی بجائے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھ دی۔
سولہویں صدی عیسوی میں مشرقی پنجاب کے بیربھان نے بھی توحید کے تصور کو اجاگر کرنے کی کوشش کی اور مورتیوں اور انسانوں کے سامنے سر جھکانے اور ہاتھ پھیلانے کی نفی کرتے ہوئے جو تعلیمات پیش کیں وہ اکثر و بیشتر اسلامی تعلیمات کا پرتو دکھائی دیتی ہیں۔
اٹھارہویں صدی عیسوی میں بنگال کے راجہ موہن رائے نے صرف ایک خدا کی عبادت کا تصور پیش کیا، بیوہ عورت کے ستی ہونے یعنی اپنے خاوند کی لاش کے ساتھ جل مرنے کے خلاف آواز اٹھائی اور بیوہ عورت کی دوبارہ شادی کو رواج دینے کی کوشش کی۔ معروف بنگلہ شاعر اور دانشور راندر ناتھ ٹیگور کے والد دیوندر ناتھ ٹیگور کو بھی راجہ موہن رائے کی اس تحریک کے ایک راہنما کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور یہ تحریک تاریخ میں ”برہمو سماج“ کے نام سے موسوم ہے۔
انیسویں صدی میں پنڈت دیانند سرسوتی نے ”آریہ سماج“ کے نام سے ایک اور اصلاحی تحریک کا آغاز کیا، بت پرستی کو مسترد کرتے ہوئے ویدوں کی نئی تشریح کی اور ذات پات کے فرق کو بھی رد کر دیا، لیکن خدا کے ساتھ روح اور مادہ کے ازلی ہونے اور دیگر بہت سی روایات سے پیچھا نہ چھڑا سکے۔
ہندو مذہب کو اپنی طویل تاریخ میں ایسی بہت سی اصلاحی تحریکات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان اصلاحی تحریکات نے ہر دور میں اپنا اپنا حلقہ ضرور قائم کیا ہے، لیکن ہندو مذہب کو مجموعی طور پر یہ تحریکات متاثر نہیں کر سکیں۔ البتہ مغرب کے سیکولر فلسفہ نے مسیحیت اور بدھ ازم کی طرح ہندومت کو بھی عملی معاشرتی زندگی سے بے دخل کر کے مندر کی حدود میں محصور کر دیا ہے اور ہندو مذہب کی جن تعلیمات کا تعلق معاشرتی زندگی سے ہے، وہ رفتہ رفتہ قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہیں۔ مغرب کے اس سیکولر فلسفہ کو جاندار مزاحمت کا سامنا صرف اسلام کی طرف سے کرنا پڑ رہا ہے اور یہ حق بھی اسی کا ہے کہ اس وقت روئے زمین پر فطری اور زندہ مذہب کا ٹائٹل صرف اسی کے پاس ہے۔