Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

اقوام متحدہ، انسانی حقوق کا چارٹر اور عالمِ اسلام

اقوام متحدہ کی صورتحال یہ ہے کہ اس میں فیصلوں کی اصل قوت سلامتی کونسل کے پاس ہے اور سلامتی کونسل کی چابی ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک کے ہاتھ میں ہے اور عملاً ان پانچ ممالک کی مرضی کے بغیر پوری اقوام متحدہ کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ یہ صورتحال دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک، بالخصوص عالم اسلام کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے اور عالم اسلام کے لیے اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ اور توہین آمیز معاملہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے پالیسی میکر حلقے مسلم امہ کا اسلامی تشخص قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اس کی دلیل صرف یہ ہے کہ چونکہ مغربی دنیا نے مذہب کے معاشرتی کردار سے دست برداری اختیار کر لی ہے اور اسے قومی اور سیاسی معاملات سے بے دخل کر دیا ہے، اس لیے باقی ساری دنیا کو بھی یہی فلسفہ اختیار کرنا چاہیے اور عالم اسلام کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ مغرب کی طرح مذہب کے معاشرتی کردار سے دست بردار ہو کر سیکولر فلسفہ حیات کو قبول کرے۔
سوال یہ ہے کہ مغرب اس حوالہ سے اپنا فلسفہ پوری دنیا پر ٹھونسنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟ مغرب اگر مذہب سے کنارہ کش ہو گیا ہے تو اسے اس کا اختیار ہے، لیکن اگر دنیا کی کوئی دوسری قوم اپنے مذہب اور اس کے معاشرتی کردار سے دست برداری اختیار نہیں کرنا چاہتی تو مغرب کے پاس اس کے لیے اس قوم پر جبر کرنے اور اس جبر کے لیے اقوام متحدہ کے فورم کو استعمال کرنے کا کیا جواز ہے؟
اس پس منظر میں ورلڈ اسلامک فورم نے اس سال جون کے دوران لندن میں اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایک میمورنڈم پیش کیا جائے گا، جس کے ذریعے اقوام متحدہ اور مسلم حکومتوں کو اقوام متحدہ کے نظام اور طریق کار کے بارے میں مسلم دنیا کی بڑی بڑی شکایات سے آگاہ کیا جائے گا اور اصلاح احوال کی طرف توجہ دلائی جائے گی۔ اس فیصلہ کے مطابق ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے مندرجہ ذیل میمورنڈم اقوام متحدہ اور مسلم حکومتوں کو ارسال کیا، جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ستمبر ۲۰۰۵ء کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں اخباری اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات کے حوالے سے چند اصلاحات کی تجاویز پیش کی جانے والی ہیں، اس لیے اس موقع عالم اسلام میں اقوام متحدہ کے بارے میں پائی جانے والی شکایات اور عالم اسلام کے مسائل کے حل کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے طرز عمل پر مسلسل بڑھنے والی بے چینی اور اضطراب کے پس منظر میں ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے چند گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔
اب سے کم و بیش ساٹھ برس قبل جب اقوام متحدہ وجود میں آئی تھی تو بیشتر مسلم ممالک آزاد نہیں تھے، اس لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل میں عالم اسلام کی متوازن نمائندگی اور شرکت موجود نہیں تھی۔ اس وجہ سے انسانی حقوق کے چارٹر میں
مسلم دنیا کے عقائد، تہذیبی تشخص و روایات کو نظر انداز کر دیا گیا اور اس کا نتیجہ ہے کہ انسانی حقوق کے موجودہ چارٹر کی متعدد دفعات اسلامی احکام و قوانین سے متصادم ہیں اور ان کی بنیاد پر مسلمانوں کے معتقدات، دینی احکام اور تہذیبی روایات کی مسلسل نفی کی جا رہی ہے، اس لیے اس حوالہ سے اس چارٹر پر نظر ثانی ناگزیر ہو گئی ہے۔
عسکری ٹیکنالوجی اور جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری کے استحقاق پر چند ممالک کی اجارہ داری اور باقی تمام ممالک کے لیے اس کی ممانعت اقوام و ممالک کے مابین برابری اور مساوات کے اصول کے منافی ہے اور اس کی زد سب سے زیادہ مسلم دنیا پر پڑ رہی ہے، اس لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اس اجارہ دارانہ، غیرمساویانہ اور غیرمنصفانہ قانون و فلسفہ پر نظر ثانی کی جائے اور طاقت کے عالمی توازن پر چند ممالک کی اجارہ داری کے قوانین و ضوابط کو ختم کر کے برابری اور مساوات کے اصول پر نیا نظام وضع کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے تنظیمی ڈھانچے اور سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے مستقل ارکان میں دنیا کی ایک چوتھائی آبادی یعنی عالم اسلام کی کوئی نمائندگی نہیں ہے، بلکہ اسے عملاً اس سے دور رکھا جا رہا ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ کے نظام میں انصاف اور توازن کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے مستقل ارکان میں مسلم امہ کو دنیا میں اس کی مجموعی آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی جائے۔ اقوام متحدہ کا موجودہ سسٹم، طریق کار اور پالیسیاں دنیا بھر کی غریب، پسماندہ، غیر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر اقوام و ممالک کے مفادات، ضروریات اور مجبوریوں کا لحاظ اور پاسداری کرنے کی بجائے امیر ترین ممالک اور ترقی یافتہ اقوام کی اجارہ دارانہ اور استحصالی مفادات کی محافظ و نگران بن کر رہ گئی ہیں، اس لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ غریب اور پسماندہ ممالک کو الگ سے اعتماد میں لینے کا اہتمام کیا جائے اور ان کی تجاویز و سفارشات کی روشنی میں پورے نظام پر نظر ثانی کی جائے۔میمورنڈم میں مسلم حکومتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ان تجاویز کو جنرل اسمبلی کے فورم پر لانے کا اہتمام کریں۔

یہ بھی پڑھیں