Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

انسانی حقوق کا عالمی دن یا ان کا مرثیہ؟

دس دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا گیا۔ ۱۹۴۸ء میں آج کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کے اس چارٹر کی منظوری دی تھی جسے آج کی دنیا میں بین الاقوامی قانون کا درجہ حاصل ہے۔ اس چارٹر پر کم و بیش تمام ممالک نے دستخط کر کے اس کی پابندی کا عہد کر رکھا ہے، اس کے تحت بین الاقوامی ادارے کام کر رہے ہیں، اس کی خلاف ورزی پر بہت سے ملکوں کو چارج شیٹ کیا جاتا ہے، سالانہ رپورٹیں جاری ہوتی ہیں، دنیا بھر کے ممالک کی صورتحال کا انسانی حقوق کے اس چارٹر کے حوالہ سے جائزہ لیا جاتا ہے، خلاف ورزی کے مختلف پہلوؤں کی نشاندہی ہوتی ہے، متعلقہ حکومتوں کو توجہ دلائی جاتی ہے، ان پر خلاف ورزی روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، خلاف ورزی پر اڑ جانے والوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے، اقتصادی بائیکاٹ کی نوبت آتی ہے، ناکہ بندی کا مرحلہ پیش آتا ہے، اور جہاں اقوام متحدہ کے اصل چودھریوں کی مرضی اور مفاد کا معاملہ ہو فوج کشی سے بھی گریز نہیں کیا جاتا اور حکومتوں کو طاقت کے بل پر گرانے اور ان کے ساتھ ان ملکوں کے غریب عوام پر ڈیزی کٹر برسانے کا شوق بھی پورا کر لیا جاتا ہے۔ ایک عالمی عدالت موجود ہے جہاں ملکوں اور قوموں کے درمیان ہونے والے تنازعات فیصلے کے لیے لائے جاتے ہیں، عدالت فیصلے کرتی ہے اور جو فیصلے اقوام متحدہ کے چودھریوں کی مرضی کے مطابق ہوں ان پر عملدرآمد کا اہتمام بھی ہو جاتا ہے۔ ایک جنرل اسمبلی بھی قائم ہے جس کا اجلاس سال میں ایک دفعہ ہوتا ہے، مختلف ممالک کے سربراہ اور نمائندے آکر جنرل اسمبلی میں اپنی اپنی بھڑاس نکالتے ہیں، مسائل پیش کرتے ہیں، ان پر بحث ہوتی ہے اور قراردادیں بھی پاس ہو جاتی ہیں جن میں سے کسی پر سلامتی کونسل کی صوابدید اور مرضی سے عمل کی صورت بھی نکل آتی ہے۔
اقوام متحدہ میں فیصلوں کی اصل اتھارٹی سلامتی کونسل ہے جس کے پانچ مستقل ارکان ہیں: امریکہ، برطانیہ، چین، روس اور فرانس۔ انہیں ویٹو پاور حاصل ہے کہ بین الاقوامی سطح کا کوئی فیصلہ ان پانچ کی مرضی کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی قرارداد اور فیصلے کو ان میں سے کوئی بھی ویٹو کر سکتا ہے اور اس ویٹو کے بعد اس قرارداد یا فیصلے کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی۔ ان کے علاوہ دس غیر مستقل ارکان ہیں جو باری باری مختلف براعظموں سے دو دو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں، انہیں ووٹ کا حق حاصل ہے، سلامتی کونسل میں کسی مسئلہ پر بحث کرنے اور کوئی مسئلہ پیش کرنے کا حق حاصل حاصل ہے لیکن یہ دونوں حق اس وقت اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں جب پانچ بڑے چودھریوں میں سے کوئی ایک ویٹو کے لیے ہاتھ کھڑا کر دے۔ اس طرح عملاً اقوام متحدہ کو دنیا کی عالمی حکومت کا مقام حاصل ہے اور یہ ان پانچ ملکوں کی مرضی، مفاد اور صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ کس چیز کو جائز قرار دیں اور کس کو ناجائز کا درجہ دے دیں۔ قوموں، ملکوں اور افراد کا کون سا حق تسلیم کریں اور کس حق پر خط تنسیخ کھینچ دیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو تیس نکات پر مشتمل انسانی حقوق کے عالمی منشور کی منظوری دیتے ہوئے تمہید میں ان کے مندرجہ ذیل مقاصد بیان کیے تھے کہ:چونکہ ہر انسان کی ذاتی عزت اور حرمت اور انسانوں کے مساوی اور ناقابل انتقال حقوق کو تسلیم کرنا دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔
چونکہ انسانی حقوق سے لاپروائی اور ان کی بے حرمتی اکثر ایسے وحشیانہ افعال کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے جن سے انسانیت کے ضمیر کو سخت صدمے پہنچے ہیں اور عام انسانوں کی بلند ترین آرزو یہ رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آئے جس میں تمام انسانوں کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی حاصل ہو اور خوف اور احتیاج سے محفوظ رہیں۔
چونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ انسانی حقوق کو قانون کی عملداری کے ذریعے محفوظ رکھا جائے، اگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ انسان عاجز آکر جبر اور استبداد کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور ہوں۔
چونکہ اقوام متحدہ کی ممبر قوموں نے اپنے چارٹر میں بنیادی انسانی حقوق، انسانی شخصیت کے حرمت اور قدر، اور مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کے بارے میں اپنے عقیدے کی دوبارہ تصدیق کر دی ہے، اور وسیع تر آزادی کی فضا میں معاشرتی ترقی کو تقویت دینے اور معیار زندگی کو بلند کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔
چونکہ ممبر ملکوں نے یہ عہد کر لیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اشتراک عمل سے ساری دنیا میں اصولاً اور عملاً انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا زیادہ سے زیادہ احترام کریں گے اور کرائیں گے۔
چونکہ اس عہد کی تکمیل کے لیے بہت ہی اہم ہے کہ ان حقوق اور آزادیوں کی نوعیت کو سب سمجھ سکیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں