Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا عملی ایجنڈا

روشن خیالی اور اعتدال پسندی دو خوبصورت اصطلاحیں ہیں، جو اپنے لغوی مفہوم و معنی کے اعتبار سے بہت بہتر اور خوب ہیں اور اسلام کے مزاج کا حصہ ہیں۔ قرآن کریم میں یہ کہا گیا ہے کہ اسلام لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لاتا ہے اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشن شاہراہ پر گامزن کرتا ہے۔ یہ اسلام کا بنیادی تعارف ہے کہ وہ روشنی کا علمبردار ہے اور اسی کی طرف نسل انسانی کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ روشنی عقیدہ کی بھی ہے، خیال کی بھی ہے، کردار کی بھی ہے، عمل کی بھی ہے اور علم کی بھی ہے۔ اس لیے اسلام بذات خود روشنی کا علمبردار ہے اور روشن خیالی کا سبق دیتا ہے۔
اسی طرح اسلام اعتدال اور توازن کا دین ہے۔ قرآن کریم اس امت کو ”امت وسط“ قرار دیتا ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اعتدال اور توازن کی علمبردار ہے، میانہ روی پر قائم ہے۔ اسے بہت سے حوالوں سے واضح کیا جا سکتا ہے، مگر میں اس وقت دو حوالوں سے امت محمدیہ کے اعتدال اور میانہ روی کا ذکر کرنا چاہوں گا۔
سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہودی اور عیسائی دونوں افراط و تفریط کا شکار تھے۔ عیسائیوں نے انہیں خدا کا بیٹا اور اس کی خدائی میں شریک بنا رکھا تھا، جبکہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی معصوم و مقدس ماں حضرت مریم علیہا السلام کے خلاف مکروہ الزام تراشی کرتے تھے جو تاریخ کا ایک افسوس ناک باب ہے۔ اسلام نے ان دونوں انتہاؤں کے درمیان یہ کہہ کر اعتدال اور میانہ روی کا راستہ اختیار کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے اور خدائی میں شریک تو نہیں ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ نیز بغیر باپ کے پیدا ہونے اور زندہ آسمانوں پر اٹھائے جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار اور نشانی ہیں۔ یہ دو انتہا پسندانہ رویوں کے درمیان اعتدال کا راستہ ہے جو اسلام نے اختیار کیا۔
عمل و کردار کے حوالے سے انسانی سوسائٹی کو دو انتہاؤں کا ہر دور میں سامنا رہا ہے۔ ایک طرف ترکِ دنیا اور رہبانیت کا تصور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور حقوق میں انسان اس قدر محو ہو جائے کہ انسانوں کے حقوق و تعلقات کا لحاظ نہ رہے اور دوسری طرف طلبِ دنیا اور انسانی معاشرت میں اس حد تک گم ہو جانے کا تصور کہ اپنے خالق و مالک کے حقوق سے ہی انسان غافل ہو جائے۔ اسلام نے ان دو انتہاؤں کے درمیان بھی اعتدال اور توازن کا راستہ بتایا کہ انسان کے لیے اپنے خالق و مالک کی بندگی اور اس کے حقوق ادا کرنا بھی ضروری ہے اور انسانی تعلقات، رشتوں اور ان کے حقوق کی پاسداری بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر میں سیدنا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد کا حوالہ دینا چاہوں گا جب انہوں نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو شب و روز خدا کی بندگی میں مصروف اور گھر والوں کے حقوق و معاملات سے بے پروا دیکھا تو انہیں نصیحت کی کہ ”تجھ پر تیرے رب کا بھی حق ہے، تیری جان کا بھی حق ہے، تیری بیوی کا بھی حق ہے، تیرے مہمان کا بھی حق ہے۔ اس لیے دین اس کا نام ہے کہ ہر ایک کو اس کا حق ادا کرو۔“ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی تصدیق کر دی کہ ”صدق سلمان۔“
تو گویا اسلام بذات خود روشن خیالی کا علمبردار ہے اور اعتدال و میانہ روی کا دین ہے اور اعتدال اور روشن خیالی خود اسلام کے مزاج اور مقاصد میں شامل ہے، البتہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک اصطلاح کو کسی خاص معنی کے لیے مخصوص کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ معنی و مفہوم اس کے لغوی تقاضوں سے مطابقت نہ رکھتا ہو تو الجھن پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال اسلام کے دور اول میں خوارج کے گروہ کا وہ نعرہ بھی ہے جو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف لگایا کرتے تھے۔ خوارج کو یہ اعتراض تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف صفین کی جنگ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصالحت کے لیے فیصل اور حکم کیوں بنا لیا تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ قرآن کریم کے اس حکم کے خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکم صرف اللہ تعالیٰ کا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حکم دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اسی بنا پر خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کر دی تھی اور ان کے ساتھ نہروان کی جنگ بھی لڑی تھی۔ خوارج جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جذبات کا اظہار کرتے تو قرآن کریم کا جملہ ”ان الحکم الا للہ“ نعرہ کے طور پر بلند کیا کرتے تھے اور غالباً حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس نعرے پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ جملہ فرمایا تھا کہ ”کلمۃ حق ارید بھا الباطل“ یعنی کلمہ تو حق ہے، لیکن اس سے جو معنی مراد لیا جا رہا ہے وہ باطل ہے۔ گویا قرآن کریم کے جملے کو غلط مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
میرے خیال میں روشن خیالی اور اعتدال پسندی کی خوبصورت اصطلاحات کا بھی یہی حال ہے کہ اتنے خوبصورت الفاظ کو جس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وہ محل نظر ہے اور اس کا بہرحال جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں