Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

There Must Be a Mother

تاریخ جب عظیم انسانوں کے تذکرے کرتی ہے تو عموماً نگاہیں ان کی فکری بلندی، روحانی عظمت اور سماجی اثرات پر ٹھہر جاتی ہیں۔ ہم ان کے اقوال، خدمات اور کارناموں کو محفوظ کرتے ہیں، مگر اکثر اس خاموش حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہر عظمت کے پسِ پردہ کارفرما ہوتی ہے۔ یہ حقیقت نہ کسی ادارے کی عمارت میں جنم لیتی ہے، نہ کسی نصاب کی کتاب میں، بلکہ ایک ایسی گود میں پروان چڑھتی ہے جہاں آنسو دعائوں میں ڈھلتے ہیں اور خواہشات اللہ کے حضور امانت رکھی جاتی ہیں۔
حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کے وصال نے ایک بار پھر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ روحانی قیادت، اخلاقی استقامت اور فکری تاثیر محض ذاتی محنت کا نتیجہ نہیں ہوتیں۔ ان کے پس منظر میں ایک ایسا غیر مرئی کردار ہوتا ہے جس کا ذکر کم اور اثر بے حد گہرا ہوتا ہے۔ یہی وہ کردار ہے جو نسلوں کی سمت متعین کرتا ہے اور تاریخ کو خاموشی سے نیا رخ دے دیتا ہے۔محترم مفتی مصطفی عزیز نے پیر ذوالفقار احمد نقشبندی ؒ کے سانحہ ارتحال پر ایک بہت ہی روح پرور مضمون انگریزی میں “There Must Be a Mother” کے عنوان سے تحریر فرمایا ہے۔اس اظہاریئے میں اس کا ترجمہ پیش ہے ۔
زیرِ نظر مضمون ایک نظر انداز کیے گئے مگر فیصلہ کن کردار کی طرف توجہ دلاتا ہے‘ اس ماں کی طرف، جس کی دعائیں وقت سے پہلے قبول ہو جاتی ہیں اور جس کی تربیت آنے والے عہدوں کی بنیاد رکھتی ہے۔
حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کے وصال پر دنیا بھر میں غم، محبت، وابستگی اور عقیدت کی جو لہریں اٹھیں، دراصل وہ ایک پورے عہد کی رخصتی تھی۔لاکھوں مریدین، غیر معمولی اجتماعات، دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلا ہوا ایک وسیع فکری و روحانی نیٹ ورک، اور بالخصوص جدید، تعلیم یافتہ، سنجیدہ اور باوقار طبقے کی اخلاقی و روحانی اصلاح یہ سب کچھ کسی ایک دن کی محنت کا نتیجہ نہیں تھا۔لیکن اگر اس شاندار منظر کے پسِ پردہ جھانکا جائے تو ایک خاموش، گمنام اور بے مثال حقیقت سامنے آتی ہے،کوئی ماں ضرور ہوتی ہے۔
حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی خود فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ روتے ہوئے جس شخصیت کو دیکھا، وہ ان کی ماں تھیں۔تین برس کی عمر میں، تہجد کے وقت، ان کی والدہ اللہ کے حضور گریہ و زاری کرتیں، دعائیں مانگتیں ، اور ننھا ذوالفقار جاگ کر ان کے پاس بیٹھ جاتا۔ کبھی کبھی وہ دعا میں اپنے بیٹے کا نام لے کر بھی مانگتیں۔
یہ آنسو دنیاوی کامیابی کے لیے نہیں تھے، بلکہ اللہ سے ایک مخلص بندہ مانگنے کے آنسو تھے۔آج جب ہم پیر ذوالفقار کے لاکھوں مریدین کو دیکھتے ہیں تو اصل میں ہمیں یہ کہنا چاہیے ’’کوئی ماں ضرور ہوتی ہے‘‘۔امام محمد بن اسماعیل البخاری کو دیکھ لیجیے۔سات برس کی عمر میں ان کی بینائی چلی گئی۔ ایک ماں تھی جو نہ ہاری، نہ مایوس ہوئی، راتوں کو اٹھ کر رو رو کر دعا کرتی رہی۔بالآخر حضرت ابراہیم ؑخواب میں آ کر انہیں بشارت دیتے ہیں کہ تمہاری دعائوں کے سبب اللہ نے تمہارے بیٹے کی بینائی لوٹا دی ہے۔نہ صرف بینائی واپس آئی بلکہ ایسی غیر معمولی ذہانت عطا ہوئی کہ وہ امام بخاری بن گئے۔ہم امام بخاری کو دیکھتے ہیں، مگر تاریخ کہتی ہے۔کوئی ماں ضرور ہوتی ہے۔
حضرت ابو الحسن علی حسنی ندوی(علی میاں، میاں جی) کو دیکھیے۔غیر عرب ہونے کے باوجود عرب دنیا میں ایسی قبولیت ملی کہ بڑے بڑے عرب علما نے ان کے علم کا اعتراف کیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔اس کے پیچھے بھی ایک ماں تھی جو دعا میں ڈوبی ہوئی، آنسوئوں میں بھیگی ہوئی، اپنے بیٹے کو ہر لمحہ اللہ کے سپرد کرتی رہیں۔عظمت خود بخود پیدا نہیں ہوتی؛ اس کے پیچھے بھی وہی راز ہے ‘ کوئی ماں ‘ضرور ہوتی ہے۔دعوت و تبلیغ کے عالمی کام کو دیکھ لیجیے۔حضرت مولانا محمد الیاس، جن کے ذریعے اللہ نے ایک عالمی دعوتی تحریک قائم کی۔ظاہر میں یہ ایک جماعت، ایک تنظیم، ایک تحریک نظر آتی ہے، مگر اس کے پیچھے بھی ایک ماں کا درد، ایک ماں کی قربانی اور ایک ماں کی دعائیں ہیں۔دعوت کی تاریخ بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے:کوئی ماں ضرور ہوتی ہے۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ قطبِ زمان، غوثِ اعظم‘بچپن میں ڈاکوئوں کے سامنے بھی جھوٹ نہ بولنا کوئی وقتی نیکی نہ تھی، بلکہ وہ تربیت تھی جو انہیں ماں کی گود میں ملی۔سچائی کا وہ سبق جس نے عبدالقادر کو غوثِ اعظم بنا دیا۔ایسے کردار اتفاق سے نہیں بنتے؛ ان کے پیچھے بھی وہی حقیقت ہے۔کوئی ماں ضرور ہوتی ہے۔اب ایک معاصر مثال دیکھ لیجیے مسجدِ حرام کے امام، شیخ عبدالرحمن السدیس (حفظہ اللہ)۔
روایت ہے کہ جب وہ بچپن میں شرارت کرتے تو ان کی ماں محبت اور دعا کے ساتھ کہتیں:جا، اللہ تمہیں حرم کا امام بنائے!یہ جملہ ماں کی زبان سے نکلا، مگر دعا بن کر آسمانوں تک پہنچا ۔ آج وہی بچہ حرم کا امام ہے، اور دنیا بھر کے لاکھوں دل اس کی آواز سے جڑے ہوئے ہیں۔یہ بھی کوئی اتفاق نہیں تھا؛ اس کے پیچھے بھی وہی راز ہے:کوئی ماں ضرور ہوتی ہے۔یہ تحریر نہ کسی ایک شخصیت کی مدح ہے اور نہ کسی ایک جدائی کا نوحہ؛ بلکہ یہ نسلوں کے نام ایک پیغام ہے۔ہم کہتے ہیں کہ ہمیں بہتر نسل چاہیے، ہمیں علما، داعی اور مصلح چاہیے مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ نسلیں صرف اداروں میں نہیں بنتیں۔ اصل نسل ماں کی گود میں بنتی ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ پیر ذوالفقار جیسے لوگ پیدا ہوں،امام بخاری جیسے محقق ابھریں،علی میاں جیسے مفکر سامنے آئیں،مولانا الیاس جیسے داعی کھڑے ہوں،اور سدیس جیسے ائمہ پیدا ہوں،تو ہمیں یہ ماننا ہوگا,کوئی ماں ضرور ہوتی ہے۔تاریخ جب عظیم انسانوں کے تذکرے کرتی ہے تو عموما نگاہیں ان کی فکری بلندی، روحانی عظمت اور سماجی اثرات پر ٹھہر جاتی ہیں۔ ہم ان کے اقوال، خدمات اور کارناموں کو محفوظ کرتے ہیں، مگر اکثر اس خاموش حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہر عظمت کے پسِ پردہ کارفرما ہوتی ہے۔ یہ حقیقت نہ کسی ادارے کی عمارت میں جنم لیتی ہے، نہ کسی نصاب کی کتاب میں، بلکہ ایک ایسی گود میں پروان چڑھتی ہے جہاں آنسو دعاں میں ڈھلتے ہیں اور خواہشیں اللہ کے حضور امانت رکھی جاتی ہیں۔
حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کے وصال نے ایک بار پھر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ روحانی قیادت، اخلاقی استقامت اور فکری تاثیر محض ذاتی محنت کا نتیجہ نہیں ہوتیں۔ ان کے پس منظر میں ایک ایسا غیر مرئی کردار ہوتا ہے جس کا ذکر کم اور اثر بے حد گہرا ہوتا ہے۔ یہی وہ کردار ہے جو نسلوں کی سمت متعین کرتا ہے اور تاریخ کو خاموشی سے موڑ دیتا ہے۔زیرِ نظر مضمون اسی نظر انداز کیے گئے مگر فیصلہ کن کردارکی طرف توجہ دلاتا ہے اس ماں کی طرف، جس کی دعائیں وقت سے پہلے قبول ہو جاتی ہیں اور جس کی تربیت آنے والے عہدوں کی بنیاد رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں