Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

اسلام میں عقیدہ ختمِ نبوت کی عظمت و شان

عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تحفظ اس خاکسار کا ایمان بھی ہے اور ایقان بھی،چونکہ اس عظیم اور پاکیزہ عقیدے کے خلاف ہونے والی اکثر سازشوں کا تعلق اقتدار کے ایوانوں سے ہوتا ہے،اس لئے میری کوشش ہوتی ہے کہ عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحفظ اور اس مقدس عقیدہ کی عظمت وشان کو اپنے کالموں کے ذریعے واضح کیا جائے ۔
اسلام ایک مکمل اور آفاقی دین ہے، جس کی بنیاد چند ایسے بنیادی عقائد پر قائم ہے جن کے بغیر ایمان کی تکمیل ممکن نہیں۔ ان ہی بنیادی عقائد میں سے ایک نہایت اہم، حساس اور فیصلہ کن عقیدہ ختمِ نبوت ہے۔ اس عقیدے کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی آیا ہے، نہ آ سکتا ہے اور نہ ہی قیامت تک کسی شخص کو منصبِ نبوت عطا کیا جائے گا۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس پر پوری امتِ مسلمہ کا آغازِ اسلام سے لے کر آج تک مکمل اجماع رہا ہے۔
حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کا دعویٰ نبوت کرنا نہ صرف باطل اور گمراہی ہے بلکہ دینِ اسلام سے صریح بغاوت کے مترادف ہے۔ قرآنِ مجید نے واضح الفاظ میں اعلان فرمایا کہ محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں، اور اسی اعلان کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا۔ نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس محض ایک قوم یا خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت بلکہ جنات تک کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ آپ ﷺ کی رسالت عالمگیر ہے اور یہی عالمگیریت اس بات کی دلیل ہے کہ اب کسی نئے نبی یا رسول کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
آپ ﷺ پر نازل ہونے والی شریعت آخری، کامل اور محفوظ شریعت ہے۔ اس میں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق واضح اصول اور رہنمائی موجود ہے۔ عبادات ہوں یا معاملات، اخلاقیات ہوں یا معاشرت، سیاست ہو یا معیشت اسلام نے انسان کو مکمل ضابط حیات عطا کیا ہے۔ جب دین مکمل ہو چکا، شریعت مکمل ہو گئی اور پیغام پوری انسانیت تک پہنچا دیا گیا تو پھر کسی نئی شریعت یا نبی کی حاجت باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ ختمِ نبوت کا انکار دراصل دین کی تکمیل کے انکار کے مترادف ہے۔
عقیدہ ختمِ نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے نبی اکرم ﷺ کے وصال کے فوراً بعد سب سے پہلے اسی عقیدے کے تحفظ کو اپنی ترجیح بنایا۔ جب جھوٹے مدعیانِ نبوت سامنے آئے تو صحابہ ؓنے ان کے خلاف پوری قوت سے کھڑے ہو کر امت کو فتنہ اور انتشار سے بچایا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ختمِ نبوت محض ایک نظری مسئلہ نہیں بلکہ اسلام کی بنیاد اور اس کی فکری سرحد ہے۔
امتِ مسلمہ کے تمام مکاتبِ فکر، فقہی مذاہب اور دینی مکاتبِ فکر اس عقیدے پر متفق ہیں کہ ختمِ نبوت ایمان کا لازمی جز ہے۔ جو شخص اس عقیدے کا انکار کرے یا نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی کو نبی مانے، وہ دائر اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی جذباتی یا سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط دینی اجماع اور قرآن و سنت کی واضح تعلیمات کا تقاضا ہے۔
ختمِ نبوت کا عقیدہ دراصل دینِ اسلام کو تحریف، انتشار اور خودساختہ مذہبی قیادت سے محفوظ رکھتا ہے۔ اگر نبوت کا دروازہ کھلا رہتا تو ہر دور میں نئے مدعیانِ نبوت دین کو اپنی خواہشات کے مطابق بدل دیتے اور یوں دینِ اسلام اپنی اصل شکل برقرار نہ رکھ پاتا۔ اللہ تعالیٰ نے ختمِ نبوت کے ذریعے دین کو محفوظ بنا دیا اور امت کو ایک مرکز پر جمع رکھا۔
آج کے دور میں جہاں مذہبی آزادی کے نام پر ہر طرح کے نظریات کو فروغ دیا جا رہا ہے، وہاں ختمِ نبوت کے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ یہ عقیدہ کسی کے خلاف نفرت یا تعصب کا نام نہیں بلکہ اپنے ایمان کی حفاظت کا تقاضا ہے۔ مسلمان اپنے عقیدے پر سمجھوتا نہیں کر سکتا، کیونکہ یہی عقیدہ اس کی دینی شناخت اور آخرت کی نجات سے جڑا ہوا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ عقیدہ ختمِ نبوت اسلام کی فکری بنیاد، امت کی وحدت اور دین کی حفاظت کی ضمانت ہے۔ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیںیہی ایمان، یہی اسلام اور یہی امتِ مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے۔ اس عقیدے کا تحفظ دراصل اسلام کے تحفظ کے مترادف ہے، اور یہی ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں