Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا عملی ایجنڈا

(گزشتہ سے پیوستہ)
ان گزارشات کے بعد میں آپ حضرات کو اس طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ آج کی روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا عملی ایجنڈا کیا ہے اور اس خوبصورت نعرے کے ذریعے ہم سے جو عملی تقاضے کیے جا رہے ہیں ان کی فہرست اور تفصیل کیا ہے؟ کیونکہ یہ تو صرف نظری اور خیالی بات ہے کہ روشن خیالی کو فروغ دینا چاہیے اور اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی عملی شکل کیا ہوگی اور وہ کون سے کام ہیں جنہیں پورا کر کے ہم اپنے ان دوستوں کے نزدیک روشن خیال اور اعتدال پسند ہونے کا مقام حاصل کر سکیں گے؟
اس حوالے سے دیکھا جائے تو آج کی روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے جو عملی تقاضے ہمارے سامنے آتے ہیں، ان میں سے دو سب سے زیادہ اہم ہیں اور میں انہی کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔
ایک یہ کہ مذاہب کے درمیان مکالمہ اور مفاہمت کی صورت پیدا کی جائے اور ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی ختم کر کے باہمی تعاون و اشتراک کا ماحول بنایا جائے۔ ایک دوسرے کی نفی نہ کی جائے اور اتحاد بین المذاہب کو فروغ دیا جائے۔ اس کی ضرورت اس لیے پیش آ رہی ہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام حق مذہب ہے اور باقی مذاہب باطل ہیں تو بعض حلقوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ آپ دوسرے مذاہب کی نفی کر رہے ہیں اور منفی بات کر رہے ہیں۔ یہ بات ان حلقوں کے خیال میں غلط ہے اور ان کا کہنا ہے کہ مثبت بات کریں، منفی نہ کریں۔ اپنے مذہب کو پیش کریں، دوسرے مذہب کو غلط نہ کہیں۔ اس طرح مذہبی رواداری اور مفاہمت کا ماحول بنے گا جو آج کے گلوبلائزیشن کے دور کے لیے ضروری تصور کیا جا رہا ہے۔
دوسری بات جس کا ہم سے عملی تقاضا کیا جا رہا ہے، یہ ہے کہ قرآن کریم کے بعض احکام سخت ہیں اور تشدد کے ذیل میں آتے ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم کے بعض احکام آج کے جدید عالمی ماحول اور مسلم قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مثلاً مجرموں کو سنگسار کرنے اور کوڑے مارنے کی بات آج کی عالمی دنیا کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور عورت کو طلاق کا حق نہ دینے کا قانون مرد اور عورت میں مکمل مساوات کے اس تصور کے منافی ہے جو آج کی دنیا میں قبول کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے قرآنی احکام و ضوابط ہیں جو ہمارے معترضین کے نزدیک تشدد کی نمائندگی کرتے ہیں، عدمِ مساوات پر مبنی ہیں اور جدید عالمی فلسفے اور اس پر مبنی بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہیں۔ اس لیے ہمارے ان دوستوں کا خیال ہے کہ ان احکام پر نظر ثانی ہونی چاہیے اور انہیں یا تو نظرانداز کر دینا چاہیے یا پھر جدید تعبیر و تشریح کے ذریعے ان کی کوئی ایسی صورت متعین کرنی چاہیے جو آج کے عالمی ماحول کے لیے قابل قبول ہو۔
یہ دو بڑے مطالبات ہیں جو آج کی روشن خیالی اور اعتدال پسندی کی طرف سے کیے جا رہے ہیں اور ان مطالبات کو پورا کیے بغیر ہم ان دوستوں کی نظر میں روشن خیال اور اعتدال پسند کا درجہ کسی صورت میں حاصل نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہمیں ان مطالبات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا ہو گا اور ان کے بارے میں دو ٹوک موقف پیش کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں دو گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔
ایک یہ کہ یہ بات اس وقت سوچی جا سکتی ہے جب ہم آج کے جدید عالمی ماحول کو حق اور نجات کا حتمی معیار تصور کر لیں اور مغرب کے اس دعویٰ کو تسلیم کر لیں کہ ان کی تہذیب و معاشرت کے ارتقاء کا آخری نقطہ یہ مغربی تہذیب ہے، یہ ”اینڈ آف دی ہسٹری“ ہے، اس کے بعد انسانی سوسائٹی میں تہذیبی ارتقاء کی کوئی اور پیش رفت ممکن نہیں ہے، اس لیے یہی حتمی معیار ہے اور انسانی سوسائٹی کی آخری اور آئیڈیل منزل ہے۔ یہ مغرب کا دعویٰ ہے، اسے جن دوستوں نے ذہنی طور پر قبول کر لیا ہے، وہ اس بات پر مصر ہیں کہ اس کی بنیاد پر اسلامی احکام و قوانین کی نئی تعبیر کی جائے اور قرآن و سنت کی جدید تشریح کر کے انہیں اس جدید اور آخری عالمی فلسفہ سے ہم آہنگ کیا جائے۔
لیکن ہم اس کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہیں اور آج کے جدید مغربی یا عالمی فلسفہ و تہذیب کو انسانی سوسائٹی کا ارتقاء سمجھنے کی بجائے اسے اسی جاہلیت قدیم کا ایک نیا دور تصور کرتے ہیں جسے اس سے قبل حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کئی بار کراس کر کے انسانی سوسائٹی کا رُخ آسمانی تعلیمات کی طرف موڑ چکے ہیں۔ اس لیے جب ہم اس عالمی فلسفہ و تہذیب کو حق، انصاف، نجات اور فلاح کا معیار ہی تصور نہیں کرتے تو اس سے ہم آہنگ ہونے کے لیے قرآن و سنت کے احکام میں رد و بدل کا خیال ہمارے ذہنوں میں کس طرح آ سکتا ہے؟ ہم آج بھی آسمانی تعلیمات کو ہی انسانی سوسائٹی کی فلاح اور کامیابی کا صحیح معیار سمجھتے ہیں، اس لیے آج کے جدید فلسفہ و تہذیب سے مطابقت کے لیے آسمانی تعلیمات میں رد و بدل کی بجائے ہمارے نزدیک آسمانی تعلیمات سے مطابقت اور ہم آہنگی کے لیے جدید عالمی فلسفہ و تہذیب میں رد و بدل ضروری ہے اور یہی ہمارے درمیان اصل نکتہ اختلافی ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں