ریاستیں صرف سرحدوں،قوانین اور اداروں سے نہیں بنتیں، بلکہ رویوں، اقدار اور اخلاقی حدود سے پہچانی جاتی ہیں۔ جب کوئی ریاستی منصب پر فائز شخص کسی فرد کے جسم، لباس یا شناخت کو نشانہ بناتا ہے تو دراصل وہ صرف ایک شخص کی نہیں، پورے معاشرے کی تہذیبی روح کو مجروح کررہا ہوتا ہے۔
انڈیا کے صوبہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب زبردستی نوچنا اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ایک ایسا مذموم عمل جو محض ایک فرد کی تذلیل نہیں بلکہ ریاستی طاقت کے اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت بن گیا۔ یہ واقعہ کسی نجی محفل میں نہیں، ایک سرکاری تقریب میں پیش آیا۔ اسٹیج پر ایک خاتون ڈاکٹر، جو اپنی قابلیت کی بنیاد پر ریاستی ملازمت کا پروانہ حاصل کرنے کے لئے عزت و وقار کے ساتھ اسٹیج پر آئی ۔ اس کے پروقار لباس سے نہ ریاست کو کوئی خطرہ لاحق تھا، نہ اس نے قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔ مگر طاقت کے نشے میں چور ایک وزیر اعلیٰ نے یہ طے کر لیا کہ وہ نہ صرف اقتدار رکھتا ہے بلکہ جسمانی اور مذہبی حدود کی تعریف بھی وہی کرے گا۔یہ محض غلطی یا غیر ارادی حرکت نہیں تھی یہ ریاستی اختیار کا استعماری اظہار تھا۔
نوآبادیاتی ذہنیت کی وہ باقیات، جو سمجھتی ہیں کہ حکمران کو رعایا کے جسم اور عقیدے پر بھی اختیار حاصل ہے۔بھارتی آئین مذہبی آزادی، شخصی وقار اور نجی حدود کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 21 انسانی وقار اور ذاتی آزادی کی بات کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 مذہبی آزادی کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ نقاب یا حجاب کوئی ریاستی مسئلہ نہیں، یہ فرد کا ذاتی اور مذہبی انتخاب ہے۔نتیش کمار کا یہ عمل محض ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ آئین کی روح کے منہ پر طمانچہ ہے۔
زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد ریاستی مشینری کی خاموشی نے اس جرم کو ایک طرح کی اخلاقی سرپرستی فراہم کی۔یہ واقعہ صنفی تناظر میں اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ ایک عورت کے جسم، چہرے یا لباس پر زبردستی اختیار جمانا دنیا بھر میں جنسی اور نفسیاتی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ رضامندی کے بغیر کسی عورت کے لباس کو چھونا، چاہے وہ نقاب میں ہو یا دوپٹہ اوڑھے ہو، طاقت کے ذریعے ذلت آمیز پیغام دینا ہے۔
سوال یہ اہم ہے کہ ا گر یہی عمل کسی ہندو خاتون کے ساڑھی کے پلو یا کسی سکھ خاتون کے دوپٹے کے ساتھ ہوتا، تو کیا ردِعمل مختلف نہ ہوتا؟ اصل مسئلہ مذہب نہیں، کمزور شناخت پر طاقت آزمانے کی علامت ہے۔نتیش کمار طویل عرصے سے خود کو سیکولر سیاست کا علمبردار جتلاتا آیا ہے ، ایسے ہی جیسے مودی سرکار کا دعوی۔ مگر یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ برصغیر میں سیکولرازم اکثر اکثریتی نارملٹی کو نافذ کرنے کا دوسرا نام بن چکا ہے۔ مسلمان کا لباس مسئلہ ہے، مگر اکثریت کی علامتیں ثقافت کہلاتی ہیں۔یہ رویہ صرف بی جے پی یا ہندوتوا سیاست تک محدود نہیں رہا اب وہ سیاست دان بھی اسی لغزش میں مبتلا نظر آتے ہیں جو خود کو اعتدال پسند کہتے ہیں۔ یہ واقعہ ہندوستانی سیاست میں مسلم شہری کے لیے نمو پاتی فکری کج روی کا برہنہ ثبوت ہے۔
کسی بھی ریاست کا کام شہری کو تحفظ دینا ہوتا ہے، اس کی شناخت کو کنٹرول کرنا نہیں۔ جب ریاست لباس، عبادت، زبان اور اظہار پر حکم چلانے لگے تو وہ جمہوریت نہیں رہتی وہ فسطائیت کا روپ ہوتا ہے۔نقاب ہو یا نہ ہو، سوال یہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی عورت کے چہرے تک ہاتھ بڑھانے کی جسارت ناروا کرے؟اگر آج نقاب اتارا گیا ہے، تو کل زبان، نام، اور عقیدہ بھی نشانے پر ہو سکتے ہیں۔اگر نتیش کمار اس عمل پر محض معذرت کر بھی لے تو یہ کافی نہیں۔ اس واقعے کو ایک مثالی کیس بنا کر یہ طے کرنا ہوگا کہ ریاستی منصب پر فائز افراد کی اخلاقی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں۔یہ صرف ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا مسئلہ نہیں ، یہ ہر اس شہری کا مسئلہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ریاست اس کی محافظ ہے، مالک نہیں۔
اور اگر آج ہم نے اس واقعے کو معمول سمجھ کر نظر انداز کر دیا، تو کل شاید آئین بھی کسی اسٹیج پر کھڑا ہو ، اور کوئی طاقتور ہاتھ اسے بھی نقاب سمجھ کر نوچ ڈالے۔ ستیش کمار کا یہ عمل ایک شخص کی کج روی کا شاخسانہ نہیں بلکہ پوری بھارتی ریاست کی ذہنی نفسیات کا اظہار ہے۔اور پاکستان کے لئے بھی یہ واقعہ جشن تنقید کا نہیں بلکہ خود احتسابی ہے۔ کیونکہ جب ریاستی عہدیدار شہریوں کے جسم تک رسائی پر تل جائیں تو سرحدیں بے معنی ہوجاتی ہیں اور اس حقیقت سے مفرنہیں کہ جبر کا مذہب ایک ہی ہوتا ہے ۔