Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا عملی ایجنڈا

(گزشتہ سے پیوستہ)
دوسری گزارش یہ ہے کہ یہ مطالبات ہمارے لیے نئے نہیں ہیں، ہم اس سے قبل بھی اس قسم کے مطالبات کا سامنا کر چکے ہیں۔ حتیٰ کہ روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا یہ ایجنڈا خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ان کے سامنے بھی پیش ہو چکا ہے، اس لیے ہمیں اس ایجنڈے اور ان مطالبات پر ازسرنو غور کرنے اور ان کا کوئی نیا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ قرآن و سنت کے ذخیرے میں اور تاریخ کے ریکارڈ پر یہ مطالبات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیے گئے ان کے جوابات پوری طرح محفوظ و موجود ہیں اور ہماری رہنمائی کے لیے وہی کافی ہیں۔ میں اس محفل میں ان میں سے صرف تین مواقع کا تذکرہ کروں گا، جب جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح کے مطالبات رکھے گئے اور اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبرؐ نے ان کے دو ٹوک جوابات مرحمت فرمائے۔
یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ میں نے ان واقعات کا انتخاب جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے دونوں ادوار سامنے رکھ کر کیا ہے۔ ایک واقعہ مکی دور کا ہے جو محکومیت اور مظلومیت کا دور تھا اور کفار کے غلبے و قہر کا دور تھا اور دوسرے دو واقعات مدنی دور کے ہیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاکم اور غالب کی پوزیشن حاصل تھی۔ یہ اس لیے کہ ہمارے بعض دوست کہتے ہیں کہ آپ اسلامی احکام و عقائد اس دور کے حوالے سے بیان کرتے ہیں جب مسلمان غالب تھے اور اسلام کی حکمرانی قائم تھی۔ آج وہ صورتحال نہیں ہے، اس لیے آج آپ دنیا سے اس لہجے میں بات نہ کریں۔ آج دنیائے کفر غالب اور ہم مغلوب ہیں، لہٰذا آج ہمیں غلبہ کے دور کی طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ اس وجہ سے میں مغلوبیت کے مکی دور اور حکمرانی کے مدنی دور کے واقعات کی طرف توجہ دلا رہا ہوں، یہ بتانے کے لیے کہ ہمارا لہجہ دونوں دوروں میں یکساں تھا اور حالات کی تبدیلی نے اسلام کے بارے میں ہمارے لہجے میں کبھی تبدیلی پیدا نہیں کی۔
مکی دور کا واقعہ یہ ہے کہ جو سیرت کی کم و بیش سبھی کتابوں میں مذکور ہے، البتہ ”الرحیق المختوم “ میں یہ زیادہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے کہ جب مکہ مکرمہ کے مشرکین جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو توحید کی دعوت سے روکنے کے لیے ہر حربہ میں ناکام ہو گئے، تو ان کا ایک بڑا وفد جناب ابوطالب کی وساطت سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا۔ اس وفد میں ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور دیگر اکابر قریش شامل تھے۔ انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کش کی کہ آپ اپنا دین پیش کرتے رہیں، لیکن ہمارے معبودوں کی نفی کرنا چھوڑ دیں۔ اپنے خدا کی بات کریں، مگر ہمارے بتوں کو باطل کہنا ترک کر دیں۔ یہ ان کے نزدیک اعتدال کی بات تھی اور وہ یہ پیش کش کر کے میانہ روی اور رواداری کا پیغام دے رہے تھے، مگر نہ صرف یہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ”الکافرون“ کے نام سے مستقل سورت نازل کر کے قیامت تک کے لیے دو ٹوک اعلان کر دیا کہ عقیدہ کے مسئلے میں کوئی رواداری نہیں ہے اور حق اور باطل کے درمیان کوئی میانہ روی نہیں ہے۔ حق کو حق کہنا اور باطل کو باطل کہنا ہی دین کی بنیاد ہے، جس میں کوئی لچک نہیں ہو سکتی۔
دوسرا مکالمہ میں وہ پیش کرنا چاہوں گا جس میں نجران کے عیسائی رہنماؤں اور مذہبی پیشواؤں کے ساتھ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو فرمائی تھی۔ یہ حضرات مدینہ منورہ آئے تھے، ان سے مذاکرات ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خدا کا بیٹا ہونے کے مسئلے پر گفتگو کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تھی۔ اس کے بعد مباہلہ کی دعوت کی نوبت آئی اور بالآخر ایک معاہدے پر بات منتج ہوئی، جس میں ان مسیحیوں نے اسلام قبول کرنے کی بجائے مسلمانوں کی رعیت کے طور پر رہنا منظور کر لیا۔
اس موقع پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مکتوب گرامی کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں جو آپؐ نے نجران کے سرداروں کو بھجوایا تھا اور جس کے نتیجے میں یہ وفد مدینہ منورہ آیا تھا۔ اس خط میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”میں تمہیں بندوں کی عبادت سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف اور بندوں کی ولایت سے اللہ تعالیٰ کی ولایت کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہوں۔“ اور جب مذاکرات اور مباہلہ کی دعوت کسی مثبت نتیجے پر نہیں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر قرآن کریم میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ ”اے اہل کتاب! آؤ اس قدر مشترک کی طرف جو ہمارے اور تمہارے یہاں موجود ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے بعض دوسرے بعض کو اللہ کے علاوہ رب نہ بنا لیں۔“
گویا قرآن کریم نے توحید اور انسان پر انسان کی خدائی یا حکمرانی کی نفی کو آسمانی مذاہب کے درمیان قدر مشترک قرار دیا ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ پھر ان جملوں سے آگے قرآن کریم نے مسلمانوں کو یہ بھی حکم دیا کہ ”اگر اہل کتاب اس قدر مشترک کو نہ مانیں تو تم ضرور یہ اعلان کر دو کہ ہم اس پر بہرحال قائم ہیں۔“
انسانوں کو انسانوں پر رب ماننے کا مطلب کیا ہے؟ اس پر میں بخاری شریف کی ایک روایت پیش کروں گا کہ حاتم طائی کے بیٹے حضرت عدی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو اس سے قبل وہ عیسائی تھے، بلکہ عیسائیوں کے سردار تھے۔ انہوں نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ کے بارے میں دریافت کیا کہ اس میں کہا گیا ہے کہ اہل کتاب نے اپنے علماء اور مشائخ کو اللہ تعالیٰ کے سوا رب بنا لیا تھا، حالانکہ ہم نے تو ایسا نہیں کیا تھا اور نہ ہی ہم اپنے علماء اور مشائخ کو اپنا رب سمجھتے تھے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”کیا تم حلال و حرام میں اپنے مشائخ اور علماء کو آخری اتھارٹی نہیں سمجھتے تھے کہ وہ جسے حلال کر دیں وہ حلال ہے اور جسے حرام کر دیں وہ حرام ہے؟“ حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ایسا تو تھا۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”انسانوں کو اپنے اوپر رب بنانے کا یہی مطلب ہے۔“
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں