Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

صنفِ آہن حوصلے کی علامت

انسانی تہذیب جب اپنے اولین دور سے سفر شروع کرتی ہے تو وہاں صرف پتھر کے زمانے کی سختی، جسمانی طاقت اور بقا کی جنگ ہی نہیں تھی بلکہ ساتھ ساتھ ایک ایسی رحمت بھری اور انسانیت نکھارنے والی قوت بھی تھی جس نے زندگی کو وحشت سے نکال کر محبت، ہم آہنگی، ترتیب اور احساس کی پختگی میں بدلنے کا کردار ادا کیا اور یہ قوت عورت تھی۔عورت صرف جسمانی وجود نہیں بلکہ احساس، جذبہ، محبت، قربانی، برداشت، حوصلہ اور مضبوط ارادے کا نام ہے۔اسی کے وجود سے گھرآباد ہوتے ہیں ، خاندان وجود میں آتے ہیں، تمدن پروان چڑھتا ہے، نسلیں تربیت پاتی ہیں اور معاشرے میں نرمی، حساسیت اور انسانی شان برقرار رہتی ہے ۔ اگر تاریخ کے باب کھولے جائیں تو ہر دور، ہر تہذیب اور ہر معاشرے میں عورت کی قربانی، محنت، برداشت، تربیت اور خلوص کی داستانیں بکھری ملتی ہیں۔اسلام نے جب دنیا کے سامنے عورت کے حقوق کا اعلان کیا تو اس نے نہ صرف عورت کو عزت دی بلکہ اسے قانوناً، اخلاقاً اور معاشرتی سطح پر مکمل انسانی حیثیت دی۔ماں کے قدموں تلے جنت کا تصور دیا، بیٹی کو رحمت قرار دیا، بیوی کو لباس کہا، بہن کو عزت کی علامت بنایا اور وراثت، حق ملکیت، تحفظ، عزت اور وقار کے اصول واضح کر دیے۔یہی وجہ ہے کہ جہاں عورت کو عزت ملی وہاں تمدن نکھرا، معاشرہ مہذب ہوا، سوچ میں توازن آیا، انسانیت میں نرمی پیدا ہوئی اور ترقی نے جنم لیا جبکہ جہاں عورت کو محض کمزور سمجھ کر کچلا گیاوہاں معاشرے بگڑے، سوچ تنگ ہوئی، ظلم بڑھا اور انسانیت کمزور پڑگئی۔ آج بھی دنیا کے کئی خطوں میں عورت کو تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے، اسے حقوق سے محروم کیا جاتا ہے، اس کے خوابوں کو کچلا جاتا ہے، اس کی محنت کو کم سمجھا جاتا ہے اور اسے محض کمزور سمجھ کر اس کی رائے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے بھی اس حقیقت سے مکمل آزاد نہیں، یہاں بھی عورت کو کئی سماجی، نفسیاتی، معاشی اور قانونی مسائل کا سامنا رہتا ہے، کہیں اسے تعلیم کے راستے میں روکا جاتا ہے، کہیں ملازمت کے دروازے بند ہوتے ہیں، کہیں اسے وراثت نہیں ملتی، کہیں اسے گھریلو تشدد سہنا پڑتا ہے، کہیں اس کی صلاحیتیں صرف اس لیے نظر انداز کر دی جاتی ہیں کہ وہ عورت ہے جبکہ عملی حقیقت یہ ہے کہ تعلیم یافتہ، باشعور اور بااختیار عورت پورے معاشرے کے لیے طاقت بنتی ہے۔آج دنیا بھر میں صنفی مساوات کو صرف سماجی تقاضا نہیں بلکہ اقتصادی ضرورت سمجھا جا رہا ہے کیونکہ جب خواتین معیشت میں شامل ہوتی ہیں تو قومی آمدن بڑھتی ہے، غربت کم ہوتی ہے، معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے اور معاشرہ زیادہ منظم ہوتا ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان میں بھی یہ شعور بڑھ رہا ہے کہ عورت کو تعلیم، صحت، روزگار، فیصلہ سازی اور قیادت میں مضبوط مقام دینا ناگزیر ہے۔حالیہ برسوں میں اور موجودہ حکومت کے دور میں خواتین کی تعلیم کے فروغ کے لیے اسکالرشپس، تعلیمی سہولتوں کی فراہمی، ٹرانسپورٹ، ہاسٹل، ڈیجیٹل تعلیم کے مواقع، اسکولوں کی بہتری، ٹرانسپورٹ اور ہائیر ایجوکیشن تک رسائی بڑھانے کے اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ کوئی لڑکی محض سماجی مجبوریوں یا سہولتوں کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔ اسی طرح معاشی میدان میں خواتین کے لیے خصوصی کاروباری اسکیمیں، آسان قرضے، ہنر مندی پروگرام، آن لائن کاروبار کی حوصلہ افزائی، ڈیجیٹل اکنامی میں شمولیت کے مواقع، گھر بیٹھے کمائی کے پروگرام اور ملازمت میں آسانیاں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ عورت محض گھر کی معاشی ضرورت پوری کرنے والی نہیں بلکہ قومی معیشت کی مضبوط کردار ادا کرنے والی قوت بن سکے۔
صحت کے شعبے میں موجودہ حکومت ماں اور بچے کی صحت کے پروگرام، بہتر طبی سہولتیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز نیٹ ورک کی مضبوطی، زچگی کے دوران محفوظ طبی نظام، خواتین کے لیے خصوصی ہیلتھ یونٹس اور ہیلتھ کارڈ جیسی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ عورت صحت مند ہو تو گھر، نسل اور معاشرہ صحت مند ہو سکے۔قانونی میدان میں بھی خواتین کے تحفظ کے قوانین، گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی، ہراسانی کے خلاف اقدامات، وراثتی حقوق کی حفاظت، کام کی جگہ پر محفوظ ماحول اور شکایت کے نظام جیسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست خواتین کے حقوق کو محض لفظوں میں نہیں بلکہ قانونی قوت کے ساتھ تسلیم کر رہی ہے۔سیاسی سطح پربھی خواتین کی نمائندگی بڑھانے، انہیں مقامی حکومتوں، پارلیمان اور فیصلہ سازی کے اداروں میں جگہ دینے کی کوششیں بھی جاری ہیںکیونکہ جب عورت فیصلہ سازی کا حصہ بنتی ہے تو اس کی آواز صرف سنی نہیں جاتی بلکہ اثر بھی رکھتی ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف حکومت یا قانون سب کچھ نہیں کر سکتا جب تک معاشرہ اپنی سوچ نہ بدلے، جب تک گھروں میں بیٹی کو بوجھ نہیں بلکہ فخر سمجھا جائے، جب تک بیوی کو حقیقی شریک حیات تسلیم نہ کیا جائے، جب تک ماں کو صرف ذمہ داری نہیں بلکہ عظمت سمجھا جائے، جب تک بہن کو اعتماد نہ دیا جائے، جب تک میڈیا عورت کو محض مظلوم یا محض تماشہ بنا کر پیش کرنے کے بجائے ایک باشعور اور باوقار شخصیت کے طور پر دکھانا شروع نہ کرے، جب تک تعلیم کے نصاب میں عورت کے احترام کو بنیادی نہ قرار دیا جائے، جب تک لڑکوں کی تربیت اس سوچ کے ساتھ نہ ہو کہ عورت کمزور نہیں بلکہ قابل احترام انسان ہے، تب تک تبدیلی مکمل نہیں ہو سکتی۔ صنفی مساوات دراصل مرد اور عورت کی جنگ نہیں بلکہ توازن، ہم آہنگی، احترام، اعتماد اور ایک ساتھ آگے بڑھنے کے نظریے کا نام ہے۔یہ معاشرے کو توڑنے نہیں بلکہ جوڑنے کا عمل ہے۔ جب عورت محفوظ ہوگی تو گھر محفوظ ہوگا، جب عورت باشعور ہوگی تو نسل باشعور ہوگی، جب عورت بااختیار ہوگی تو ریاست مضبوط ہوگی۔اسی لیے لازمی ہے کہ حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے، قوانین پر عملدرآمد بہتر بنایا جائے، ادارے فعال ہوں، عدالتی تحفظ مضبوط ہو، سب سے بڑھ کر معاشرہ اپنی سوچ بدلے اور عورتوں کے پورے حقوق ادا کرے۔ہمیں اپنے مستقبل کی نسلوں کے لئے ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں عورت محض ایک رشتہ نہیں بلکہ مکمل شخصیت کے طور پر پہچانی جائے۔ اسے بولنے، جینے، پڑھنے ،سیکھنے، آگے بڑھنے اور اپنی پہچان بنانے کا پورا حق حاصل ہو۔اسی میں ہماری ترقی، ہماری تہذیب اور ہماری اصل کامیابی چھپی ہے۔
وہ صرف رشتہ نہیں، مکمل کائنات کی شان ہے
عورت کی عظمت ہی انسانیت کی اصل پہچان ہے

یہ بھی پڑھیں