جناب نبی کریمؐ سے پہلے بھی غلاموں کا سلسلہ جاری تھا، غلام جانوروں کی طرح خریدے اور بیچے جاتے تھے اور ان سے کام لیا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں تو یہ سلسلہ اسلام کے آغاز سے کچھ عرصہ بعد ہی کنٹرول ہو گیا تھا لیکن باقی دنیا میں یہ سلسلہ جاری رہا، مثلاً امریکہ میں اب سے ایک صدی پہلے ۱۹۲۴ء، ۱۹۲۵ء تک غلاموں کی منڈیاں لگتی تھیں اور انہیں خریدا اور بیچا جاتا تھا۔ اب بھی لوگ خریدے بیچے جاتے ہیں لیکن اب اس کو غلامی نہیں، بردہ فروشی کہتے ہیں۔ جناب نبی کریمؐ کی بعثت کے وقت غلام کس طرح بنائے جاتے تھے؟ عام طور اس کے تین طریقے ہوتے تھے:
ایک یہ کہ کسی بھی کمزور، بے سہارا، لاوارث آدمی کو کوئی بھی طاقتور آدمی پکڑ کر غلام بنا کر بیچ دیتا تھا اور وہ پھر جانوروں کی طرح بکتے بکاتے رہتے تھے۔ ہمارے دو بزرگ صحابی اسی طریقے سے غلام بنے تھے۔ حضرت زیدبن حارثہؓ جو صرف صحابی نہیں بلکہ حضورؐ نے تو انہیں بیٹا بنا لیا تھا، لیکن اللہ نے قبول نہیں کیا، وہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن میں آیا ہے۔ اصلاً آزاد خاندان کے فرد تھے، راہ جاتے کہیں لوگوں نے پکڑا اور بیچ دیا، اس طرح غلام بن گئے۔ پھر بکتے بکاتے مکہ مکرمہ آگئے، مکہ میں آنحضرتؐ کے حصے میں آئے اور حضورؐ نے آزاد کر دیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ بھی اسی طرح غلام بنے۔ وہ بھی ایک آزاد خاندان کے فرد تھے، مذہب تبدیل کیا، گھر سے پناہ کی تلاش میں نکلے، راستے میں لوگوں نے پکڑا اور غلام بنا کر بیچ دیا۔ فرماتے ہیں کہ میں دس سے بھی زیادہ مالکوں کے ہاتھ بکتا بکتا مدینہ پہنچا، دس سے زیادہ مالکوں کی غلامی میں نے گزاری ہے۔ خیر ان دونوں صحابہ کے لیے تو غلامی خیر کا باعث بن گئی۔ حضرت زیدؓ غلام بنے تو اللہ تعالٰی نے مکہ پہنچا دیا اور حضرت سلمانؓ کو بکتے بکاتے یثرب پہنچا دیا، وہ اس تلاش میں تھے کہ جناب نبی آخر الزمان آنے والے ہیں، میری ان سے ملاقات ہو جائے۔ ادھر سے اسی وقت نبی اکرمؐ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تھے، جب آپؐ قبا میں تھے اس وقت حضرت سلمانؓ ایک یہودی آقا کے غلام بن کر آئے تھے۔ پھر اللہ تعالٰی نے انہیں اسلام کی توفیق دی اور وہ حضورؐ کی غلامی میں چلے گئے۔ اکثر لوگوں کو غلامی راس نہیں آتی لیکن ان کے لیے تو غلامی اللہ کی رحمت ثابت ہوئی، نعمت ثابت ہوئی۔ غلام نہ بنتے تو نہ معلوم یہاں تک پہنچتے یا نہ پہنچتے۔ بہرحال غلامی کا ایک سبب یہ تھا کہ کوئی طاقتور آدمی کسی بے سہارا کو پکڑ کر بیچ دیتا اور وہ بک کر غلام ہو جاتا تھا۔
دوسرا طریقہ یہ تھا کہ کوئی آدمی تاوان یا قرضے میں پھنس گیا ہے، یا یا کوئی مالی ذمہ داری اس پر آگئی ہے اور وہ ادا نہیں کر پا رہا اور قرض خواہ مجبور کر رہے ہیں تو یا تو وہ خود پیشکش کر دیتا تھا کہ مجھے بیچ کر اپنی قیمت پوری کر لو، یا عدالت، جرگہ، پنچائت فیصلہ کرتی تھی کہ یہ قرضہ ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور تم اپنے حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہو تو ٹھیک ہے اس کو بیچ کر اپنا قرضہ پورا کر لو۔ یہ رواج حضورؐ کے زمانے بھی موجود تھا۔ اس پر ایک بڑا دلچسپ واقعہ ابوداؤد شریف میں مذکور ہے۔
حضرت بلالؓ مکہ مکرمہ میں امیہ بن خلف کے غلام تھے، حضرت صدیق اکبرؓ نے آزادی دلوائی تھی۔ ہجرت کر کے آئے تو مدینہ منورہ میں آزاد کردہ غلام تھے، حضورؐ کے ساتھی اور خادم تھے۔ آپؐ کے گھریلو معاملات کے ذمہ دار حضرت بلالؓ تھے۔ گھر کا خرچہ، غلہ، پانی، مہمانوں کا سنبھالنا، اس سب کی ذمہ داری حضرت بلالؓ پر تھی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ حضرت بلالؓ حضورؐ کے وزیر امور خانہ داری و مہمانداری تھے۔ یہ معروف بات ہے کہ حضورؐ کے یہ معاملات حضرت بلالؓ کے ذمے تھے، حضرت بلالؓ کے پاس گھر کے لیے خرچہ موجود ہوتا تو کرتے رہتے ورنہ قرضہ لے لیتے تھے، خرچہ تو نہیں رکتا کرنا ہی پڑتا ہے، قرضہ لے کر خرچہ پورا کرتے۔ بعد میں حضورؐ کے پاس کوئی رقم آتی خمس وغیرہ کی تو اس سے قرضہ ادا ہو جاتا تھا۔ حضرت بلالؓ اور جناب نبی کریمؐ کا آپس میں یہ معاملہ چلتا رہتا۔ مدینہ منورہ کا ایک یہودی تھا، حضرت بلالؓ اکثر اس سے قرضہ لیتے تھے۔ اتفاق سے ایک دفعہ ایسا ہوا کہ قرضہ بڑھتے بڑھتے خاصا بڑھ گیا۔ اس یہودی نے کہا قرضہ واپس کرو۔ ان کے پاس گنجائش نہیں تھی۔ قرض خواہ نے ایک دن دھمکی دے دی کہ تین دن کے اندر اندر میرا قرضہ واپس کر دو ورنہ تمہارے گلے میں رسی ڈال دوں گا۔ اس زمانے میں گلے میں رسی ڈالنے کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ تمہیں غلام بنا کر بیچ دوں گا اور اپنا قرض پورا کروں گا۔ حضرت بلالؓ بہت پریشان ہوئے کہ یہ رواج عرب میں عام تھا۔ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ اس نے تو دھمکی دے دی ہے، لہٰذا آپ کچھ کریں۔ آپؐ نے فرمایا اس وقت تو میرے پاس گنجائش نہیں ہے۔ ایسے ہی تین دن گزر گئے، تیسرے دن اس نے پھر کہہ دیا کہ اگر آج رات تک میرے پیسے نہ ملے تو میں تمہارے گلے میں رسی ڈال دوں گا۔ اب پھر حضرت بلالؓ حضورؐ کی خدمت میں آئے کہ آج میرے گلے میں رسی پڑ جائے گی، میں ایک دفعہ غلامی بھگت چکا ہوں دوسری دفعہ غلام بننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ یارسول اللہ! کوئی راستہ نکالیے۔ آپؐ کے پاس کوئی گنجائش نہیں تھی، کیا کرتے۔ حضرت بلالؓ نے کہا اچھا اگر انتظام آپ کے پاس بھی نہیں ہے اور میرے پاس بھی نہیں ہے اور اس نے کل صبح ہی مجھے غلام بنا لینا ہے اور بازار میں لے جا کر بیچ دینا ہے تو مجھے پھر ایک بات کی اجازت دیجیے کہ میں چپکے سے رات کہیں کھسک جاؤں، جب کہیں سے گنجائش ہو جائے گی تو آجاؤں گا، حضورؐ نے اجازت عطا فرما دی۔ حضرت بلالؓ کہتے ہیں رات میں نے سونے پہلے سواری تیار کی، سفر کا سامان تیار کیا اور عشاء کے بعد تیاری کر کے لیٹ گیا۔ پروگرام یہ تھا کہ آدھی رات کے بعد اٹھوں گا اور سفر شروع کر دوں گا، صبح ہوتے ہی میں دور کہیں پہنچ جاؤں گا ۔کہتے ہیں کہ میں سارا بندوبست کر کے ابھی لیٹا ہی تھا کہ کسی نے آواز دی بلال! رسول اللہؐ بلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں میں اٹھا حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپؐ مسجد کے باہر تشریف فرما تھے اور حضورؐ کے سامنے چار اونٹ سازوسامان سمیت کھڑے تھے۔ سازوسامان میں غلہ، کپڑے اور دیگر ضروریات کی چیزیں ہوتی تھیں۔ حضورؐ نے فرمایا بلال دیکھو اس سے قرضہ پورا ہو جائے گا؟ میں نے اندازہ کیا اور کہا یارسول اللہ! قرضہ بھی ادا ہو جائے گا اور کچھ بچ بھی جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا یہ فلاں قبیلے کے سردار نے مجھے ہدیہ بھیجے ہیں، ان سے قرضہ ادا کر دو اور اگر ان میں سے کچھ بچ گیا تو وہ میرے گھر نہیں لانا صدقہ کر دینا۔
(جاری ہے )