تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں اس دن کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں جب وہ سوال سے خوف زدہ ہو جائیں۔ جب چند نہتی عورتیں، چند سو عام شہری، یا ایک قیدی نمبر محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک علامت بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ آخر تین نہتی عورتوں اور چند سو لوگوں سے نظام کو کیا خطرہ ہے؟ سوال یہ ہے کہ نظام اتنا ناتواں کیوں ہوچکا ہے کہ اسے کمزور، بے سروسامان اور غیر مسلح آوازیں بھی لرزا دیتی ہیں۔ طاقتور ریاستیں لاٹھیاں نہیں، دلیلیں استعمال کرتی ہیں۔ کمزور نظام ہی احتجاج کو بغاوت اور سوال کو سازش سمجھتا ہے۔
قیدی نمبر 804دراصل ایک فرد نہیں، ایک استعارہ ہے۔ استعارہ اس سوچ کا جو عوام کو یہ یقین دلانے پر قادر ہو جائے کہ طاقت کا سرچشمہ ایوانوں میں نہیں بلکہ شعور میں ہوتا ہے۔ اگر بوڑھی بہنیں بھی یہ شعور پا لیں کہ ان کے پاس سوال کرنے کا حق ہے، تو یقینا وہ پورے ڈھانچے کو ہلا سکتی ہیںکیونکہ تاریخ میں انقلاب ہمیشہ تلوار سے نہیں، سوال سے آیا ہے۔ریاست اور حکومت کا بنیادی معاہدہ آئین ہوتا ہے۔ آئین کی روح عدلیہ ہے۔ لیکن جب ریاست خود عدلیہ کے احکامات پر عمل سے انکار کرے تو عوام کے ذہن میں سب سے خطرناک پیغام جاتا ہے: قانون کمزور ہے اور طاقتور جواب دہ نہیں۔
یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں ریاست شہریوں کو باغی بناتی ہے، اور پھر انہی باغیوں کو کچلنے کے لیے طاقت استعمال کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا شیطانی چکر ہے جس سے تاریخ کی کوئی ریاست باعزت نہیں نکل سکی۔نواز سرکار ہو یا کوئی اور حکمران خاندان، اقتدار کا تسلسل اگر احتساب سے خالی ہو تو دھبے لازم آتے ہیں۔ چالیس برس کا اقتدار، بار بار کے تجربات، اور پھر بھی وہی الزامات، وہی شکایات، وہی سوالاتیہ سب محض سیاسی پراپیگنڈا نہیں، بلکہ تاریخ کا ریکارڈ ہے۔ تاریخ نہ اشتہار سے بدلتی ہے، نہ عدالتی فیصلوں کو روندنے سے۔ سپریم کورٹ پر جارحانہ حملہ کوئی وقتی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس ذہنیت کا اظہار تھا جو اداروں کو اپنی جاگیر سمجھتی ہے۔ اسی طرح طارق جہانگیری جیسے عہدوں کی بے حرمتی محض افراد کی تذلیل نہیں، بلکہ ریاستی وقار کی تذلیل تھی۔
یہ مان لینا چاہیے کہ طاقت کے نشے میں کیے گئے فیصلے تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔ چاہے وہ فیصلے کتنے ہی قانونی لبادے میں کیوں نہ لپٹے ہوں۔ ایک نہ ایک دن حساب ہوتا ہے قوموں کا بھی، افراد کا بھی۔سیاسی انتقام وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ ریاست کے پورے جسم میں پھیل جاتا ہے۔ معیشت کی کشتی اگر منجدھار میں ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ یہی انتقامی سیاست ہے۔ سرمایہ خوف سے بھاگ جاتا ہے، دماغ مایوسی میں ہجرت کر جاتے ہیں، اور عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور جہالت کے شکنجے میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بربادی کا مداوا کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا یہ عوام کا فرض ہے کہ وہ خود پر ظلم سہتے رہیں، یا حکمرانوں کا کہ وہ اپنی انا قربان کر کے ریاست کو بچائیں؟سول بیوروکریسی ہو یا مقتدرہان کی خاموشی سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ جب اختیار رکھنے والے چپ ہو جائیں تو اس کا مطلب یا تو رضا ہے یا خوف۔ دونوں صورتیں ریاست کے لیے زہر قاتل ہیں۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ روم کا زوال خاموش سینیٹ سے شروع ہوا، اور عباسی خلافت کا زوال درباری خوشامد سے۔چاروں طرف سازشوں اور کاسہ لیسیوں کے جال بچھے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کس کو پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ کیا وہی عوام جنہوں نے ریاست کو وجود دیا؟ یا وہ ادارے جو خود اس کھیل کا حصہ بن چکے ہیں؟ ہر صاحبِ دستار کی دستار پر ہاتھ ڈالنے کی روش دراصل سماج کو بے توقیر کرنے کا عمل ہے۔ جب عزت محفوظ نہ رہے تو وفاداری بھی باقی نہیں رہتی۔نئی نسل کے راستے میں پتھر بچھانا دراصل اپنے مستقبل کو زخمی کرنا ہے۔ تعلیم، روزگار اور آزادیِ فکر کے بغیر نوجوان یا تو شدت پسند بنتا ہے یا بے حس۔ دونوں صورتوں میں ریاست ہار جاتی ہے۔ یہ وہ سوال ہیں جو آج ہر شہری کے دل و دماغ میں گونج رہے ہیں، اور جن کا جواب محض تقریروں یا طاقت سے نہیں دیا جا سکتا۔
ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ خوف کے سہارے چلے گی یا اعتماد کے بل پر۔ تاریخ کے آئینے میں دیکھنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا، کیونکہ جو قومیں آئینے توڑ دیتی ہیں، وہ اپنا چہرہ بھی کھو دیتی ہیں۔یہ محض احتجاج نہیں، ایک دستک ہے اس دروازے پر جو اب بھی کھل سکتا ہے، اگر سننے کا حوصلہ باقی ہو۔ اگر حکمران عزیمت کا راستہ بھلا نہیں چکے۔