(گزشتہ سے پیوستہ)
حضرت بلالؓ کہتے ہیں اس طرح اللہ تعالٰی نے میری جان بچا لی ورنہ یا تو میں کہیں دور دراز نکل جاتا اور یا غلام بنا لیا جاتا ۔بہرحال غلام بنانے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ تاوان اور قرضے میں سے غلام بنا کر بیچ دیا جاتا تھا۔
غلام بنانے کا تیسرا طریقہ یہ تھا کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنایا جاتا۔ اس زمانے میں اجتماعی قید خانے نہیں ہوتے تھے جنگی قیدیوں کے بارے میں تین چار آپشن ہوتے تھے: (۱) انہیں قتل کر دیتے تھے (۲) ویسے چھوڑ دیتے تھے (۳) فدیہ لے کر چھوڑ دیتے تھے (۴) یا قیدیوں کا تبادلہ کر لیتے تھے۔ قرآن کریم نے بھی مختلف آپشن ذکر کیے ہیں ’’فاما منا بعد واما فداءً حتٰی تضع الحرب اوزارھا‘‘ (سورہ محمد ۴)۔
جنگ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑا گیا، ان کے بارے میں حضرت عمرؓ کا مشورہ قتل کرنے کا تھا، اس طرح کہ آپؐ اپنے چچا کو خود ماریں، ابوبکر اپنے بیٹے کو ماریں، میں اپنے ماموں کو ماروں۔ جس جس کا جو رشتہ دار ہے وہ خود اسے قتل کرے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ کی رائے نرمی کرنے کی تھی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، تو آپؐ نے فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اللہ تعالٰی نے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ ایسے کیوں کیا؟ عمرؓ کی رائے ٹھیک تھی۔ اب فیصلہ ہو گیا ہے تو ٹھیک ہے لیکن ایسا کرنا نہیں چاہیے تھا۔ فرمایا ’’ما کان لنبی ان یکون لہ اسرٰی حتی یثخن فی الارض تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الاخرۃ‘‘ (سورہ الانفال ۶۷)۔ اس لہجے میں بات اللہ تعالٰی ہی کر سکتے ہیں، فرمایا دنیا کے چار پیسوں کے لیے تم نے قیدی چھوڑ دیے۔ عمرؓ کی بات کیوں نہیں مانی؟ اللہ تعالٰی نے تنبیہ کی کہ ان کو قتل کرنا چاہیے تھا، فدیہ لے کر آزاد نہیں کرنا چاہیے تھا۔
ایک آپشن یہ بھی تھا کہ قیدیوں کا تبادلہ کر لیا جائے۔ آج کل زیادہ تر جنگی قیدیوں کا تبادلہ ہی ہوتا ہے۔ اس پر ایک واقعہ نقل کرتا ہوں، ابوداؤد میں روایت ہے کہ کسی جنگ میں ایک خوبصورت لونڈی قیدی بن کر آ گئی جو حضرت سلمہ بن الاکوعؓ کے حصے میں آئی۔ جناب نبی کریمؐ نے ان سے کہا یہ لونڈی مجھے دے دو میں اس کے بدلے اور دے دوں گا۔ وہ حیران ہوئے کہ لونڈی میرے حصے میں آئی ہے اور حضورؐ فرما رہے ہیں کہ مجھے دے دو۔ بہرحال انہوں نے دے دی۔ آپؐ نے وہ لونڈی سنبھال کر رکھی، جس قبیلے کی وہ لڑکی تھی اس قبیلے کے پاس حضورؐ کے کچھ ساتھی قید تھے۔ حضورؐ نے اس لونڈی کے ساتھ اپنے قیدیوں کا تبادلہ کروایا کہ ہمارے قیدی واپس کر دو اور اپنی لڑکی واپس لے لو۔ عرب میں یہ سب رواج موجود تھے کہ قیدیوں کو یا قتل کر دیتے تھے یا ویسے چھوڑ دیتے تھے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیتے تھے یا تبادلہ کر لیتے تھے۔
ایک آپشن قتل کرنے کا بھی تھا جیسا کہ حضرت عمرؓ کی رائے تھی اور اللہ تعالٰی نے بھی فرمایا قتل کرنے چاہیے تھے۔ اگر قیدیوں کو ویسے نہ چھوڑنا ہوتا، نہ فدیہ لے کر چھوڑنا ہوتا، نہ تبادلہ کرنا ہوتا، نہ قتل کرنا ہوتا تو جیل خانے تو ہوتے نہیں تھے، تو اب اتنے زیادہ قیدیوں کا کیا کریں، ان کو کہاں رکھیں؟ اس لیے یہ آپشن موجود تھا کہ ان کو تقسیم کر دیا جاتا تھا، یہ غلام اور باندیاں کہلاتے تھے اور بکتے تھے، خریدے جاتے تھے۔
مذکورہ بالا تین طریقے غلام بنانے کے تھے۔ حضورؐ نے یہ کیا کہ پہلے دو طریقے حرام قرار دے دیے۔ آزاد انسان کو بیچنے اور غلام بنانے کا طریقہ ممنوع قرار دیا اور فرمایا ’’بیع الحر حرام، ثمن الحر حرام‘‘ کسی آزاد کو پکڑ کر بیچ دینے کو حضورؐ نے حرام قرار دے دیا۔ دوسرا طریقہ کہ تاوان میں کسی کو غلام بنا لیا جائے اس کو بھی حضورؐ نے حرام قرار دے دیا۔ ویسے جو سزا چاہیں دیں لیکن تاوان میں غلام بنا کر بیچ دینا درست نہیں۔ یہ دونوں طریقے حرام قرار دیے۔ آپؐ کے اس اعلان کے بعد اس حوالے سے ہمارے ہاں نہ کوئی آدمی غلام بنا ہے اور نہ بکا ہے۔ جبکہ تیسرا طریقہ باقی رکھا، بطور حکم کے نہیں بلکہ مختلف آپشنز میں سے ایک آپشن کے طور پر۔ اس لیے کہ اس کی ضرورت تھی کیونکہ جنگی قیدیوں کو اکٹھا رکھنے کی صورت نہیں تھی اور انہیں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔
جبکہ آپؐ نے غلاموں کے حقوق بیان فرمائے کہ یہ بھی تمہاری طرح انسان ہیں ’’اخوانکم‘‘ تمہارے بھائی ہیں، آدم کی اولاد ہیں ’’خولکم‘‘ تمہارے خادم ہیں ’’جعلھم اللہ تحت ایدیکم‘‘ اللہ تعالٰی نے انہیں تمہارا ماتحت بنا دیا ہے ’’اطعموھم مما تطعمون والبسوھم مما تلبسون‘‘ جو خود کھاتے ہو ان کو بھی وہی کھلاؤ، جو خود پہنتے ہو ان کو بھی وہی پہناؤ۔ ان کو اپنے برابر رکھو، ان کے ساتھ زیادتی نہ کرو ’’ولا تکلفوھم بما لا یطیقون‘‘ ان سے کام لو لیکن اگر کام ان کی ہمت سے زیادہ ہو تو پھر ان کے ساتھ کام میں معاونت کرو۔ ان سے اتنا ہی کام لو جتنا وہ کر سکیں۔
چنانچہ اسلام نے غلام بنانے کا آخری آپشن باقی رکھا ہے لیکن ان شرائط کے ساتھ۔ خود تو حضورؐ کا مزاج ہی اور تھا۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال حضورؐ کی خدمت میں گزارے ہیں، میں نے حضورؐ کو کسی پر ہاتھ اٹھاتے نہیں دیکھا، نہ بچے پر، نہ عورت پر، نہ غلام پر۔ حضورؐ کے سامنے ایک دفعہ ایک صحابی حضرت ابو مسعود انصاریؓ نے باندی کو تھپڑ مارا تو حضور کا طرز عمل کیا تھا؟ ابو مسعودؓ کہتے ہیں میری لونڈی بکریاں چرا رہی تھی کہ کچھ دیر وہ بے پرواہ ہو گئی۔ اس کی بے پرواہی سے بھیڑیا آیا اور ایک بکری لے گیا۔ ابومسعود دیکھ رہے تھے، وہ لونڈی کے پاس گئے اور غصے میں اسے زور سے تھپڑ مارا اور کہا بے پرواہ بیٹھی ہوئی ہو، بھیڑیا بکری لے گیا ہے۔ جب زور سے تھپڑ مارا تو پیچھے سے آواز آئی۔ ابو مسعود اس کو تھپڑ مارنے سے پہلے یہ سوچ لو کہ تم سے طاقتور بھی کوئی ہے جو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو یہ کہنے والے رسول اللہؐ تھے۔ ذرا غور کریں کہ انہوں نے تھپڑ کس کو مارا تھا؟ نوکرانی کو، اور بے قصور بھی نہیں مارا تھا بلکہ غلطی کرنے پر مارا تھا۔ پھر بھی حضورؐ ناراض ہوئے کہ اس کو کیوں مارا ہے۔ حضورؐ نے جب ڈانٹا تو ابومسعودؓ نے عرض کیا، یارسول اللہ! میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں، میں نے اپنی اس غلطی کے کفارے میں اللہ کے لیے اس لونڈی کو آزاد کیا۔ رسول اللہؐ نے فرمایا، اگر تم اس کو آزاد نہ کرتے تو دوزخ میں جاتے ’’للفحتک النار‘‘ آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتی، اس تھپڑ کا صلہ یہی تھا کہ تم اسے آزاد کر دو۔ ایک تھپڑ جو کہ جرم کرنے پر مارا اس پر یہ وعید فرمائی۔ ہمارے ہاں تو نہ معلوم ماتحتوں کے ساتھ کیا کیا ہوتا ہے۔ ابھی چند سال پہلے گوجرانوالہ کچہری میں ایک کمی کو مار مار کر اس کا برا حال کر دیا گیا، اس بات پر کہ اس نے ایک چوہدری کو گزرتے ہوئے سلام کر دیا تھا کہ اس کی کیا جرأت کہ اس نے مجھے سلام کہا۔
(جاری ہے)