Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

ایک دفعہ پھر علما ء متحد اور مشترکہ اعلامیہ

پیر کی شام کراچی کے ایک نجی ہوٹل میں تمام مکاتبِ فکر و دینی تنظیموں کے متفقہ قومی مشاورتی اجلاس ایک اہم اور مستحسن پیش رفت ہے ۔ تمام مکاتب فکر کے اکابر علما ء کا ایک ہی پیج پر جمع ہوکر درج ذیل نکات پر متفق ہونا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کرنا صرف علما ء کرام ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے خوش آئند ہے،تمام مکاتب فکر کے اکابر علما ء کے اس مشترکہ اجلاس کے بعد مولویوں پر فرقہ واریت پھیلانے کا الزام لگانے والوں کو اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر جھانکنے کی ضرورت ہے۔مولانا فضل الرحمن ،مفتی منیب الرحمن ، مولانا مفتی تقی عثمانی ،ابوالخیر محمد زبیر ،مولانا حنیف جالندھری ،علامہ ابتسام الٰہی ظہیر سمیت تمام مکاتبِ فکر کے درجنوں علماء و قائدین نے اتفاقِ رائے سے اجلاس میں درج ذیل امور پر مکمل اتفاقِ رائے کرتے ہوئے کہا:-1 آئینِ پاکستان کی دفعہ 277 کے تحت یہ واضح ہے کہ کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ اس غرض کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی سفارشات تیار کی ہوئی ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ماضی میں حکومتِ وقت نے ان سفارشات کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا۔باجود اس کے، یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ نفاذِ شریعت و اسلامی قوانین کے حوالے سے سفارشات پارلیمنٹ میں پیش کر کے ان کے مطابق قانون سازی کی جائے۔-2ملک میں اسلامی قوانین کے جاری رہنے اور غیر اسلامی قوانین کے خاتمے کے لیے موثر ترین ادارہ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کی شریعت اپیلٹ بنچ ہے۔ آئین کے رو سے وفاقی شرعی عدالت میں تین علماء ہونا چاہئیں، لیکن عرصہ دراز سے یہ عدالت علما کے بغیر غیر شریعت اپیلٹ بنچ بھی علماء سے خالی ہے۔ غیر شریعت اپیلٹ بنچ بھی علما ء کی موجودگی ایک سوالیہ نشان ہے، اور شریعت اپیلٹ بنچ کی عدم موجودگی کی وجہ سے عوام کو شریعت سے متعلق انصاف حاصل نہیں ہو رہا۔یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ آئین کے مطابق علما کو فوری طور پر ان عدالتوں میں تعینات کیا جائے۔-3 آئین کی شقوں میں ترمیم کا ایک سنگین فیصلہ ملک کے مقابلے میں پارلیمنٹ کے لیے ایک مہلت مقرر کر دی گئی ہے جو 31 دسمبر 2027 ء کو ختم ہو رہی ہے، اور یکم جنوری 2028 ء سے سودی نظام مکمل طور پر ختم ہو کر اسلامی مالیاتی اور بینکاری نظام کو نافذ ہونا تھا۔اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک سے تمام بینکوں کو ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ مقررہ مدت میں اپنے تمام معاملات کو سود سے پاک کر لیں۔لیکن اس دوران اسٹیٹ بینک عملی طور پر سود کو بڑھانے اور برقرار رکھنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ وفاقی وزارتِ قانون سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وزارتِ قانون کی طرف سے ایک بل ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے جس میں اس حکم کو مستثنی کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس میں غیر ملکی قرضوں(مثلاً ورلڈ بینک) اور وفاقی ترقیاتی بینکوں کے بڑے بینکوں کی کمپنیوں کو مستثنیٰ بھی کر دیا گیا ہے۔اس استثنائی کوشش سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کچھ بین الاقوامی معاہدات کی بنیاد پر سود کو باقی رکھا جا رہا ہے۔ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے کسی بھی معاہدے میں سود کو غیر قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ پاکستان کے قانون کے تابع ہر معاہدہ قابلِ عمل ہونا چاہیے۔ یہ ایک مسلم اصول ہے کہ بین الاقوامی معاہدات جب تک پارلیمنٹ کے ذریعے قانون نہ بن جائیں، انہیں دستور اور قانون پر بالاتر حیثیت نہیں دی جاسکتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے جنگ جاری رکھنے کے مترادف ہے۔ان حالات میں یہ اجتماع متفقہ طور پر مطالبہ کرتا ہے کہ سود کے خاتمے کے لیے جو مدت مقرر کی گئی ہے، اس پر بلا تاخیر مکمل طور پر عمل کیا جائے۔
-4 حال ہی میں دستورِ پاکستان میں ستائیسویں آئینی ترمیم منظور کی گئی ہے۔ اس ترمیم میں متعدد امور شامل کیے گئے جو بظاہر قومی مفاد کے عکاس ہیں، لیکن ایک اہم اور حساس پہلو قرآن و سنت سے صریح تصادم ہے۔یہ ترمیم صدرِ مملکت اور افواجِ پاکستان کے بعض اعلی مناصب پر فائز افراد کو مدت سے زیادہ توسیع کا اختیار دیتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے کام کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذاتی خواہش پر انہیں عہدوں پر برقرار رکھا جا سکتا ہے، جو شریعتِ اسلامیہ کے واضح احکام کے خلاف ہے۔
شعار نبوت تو یہ ہے کہ رسول اللہ علی یا ہم نے غزوہ بدر میں عین حالت جنگ میں خود اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کیا، خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے عہد میں اپنے آپ کو عدالت میں فریق ثانی کے ساتھ مساوی حیثیت میں پیش کر کے بلا امتیاز اور شفاف عدل کا نمونہ پیش کیا۔ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ بنیان مرصوص” کے معرکہ میں کامیابی پر فوج پاکستان مبارک باد کی مستحق ہیں لیکن ان کے اعلی مناصب کو استثنا دین ان کے مناصب جلیلہ کے شایان شان نہیں ہے بلکہ کردار پر دھبہ لگانے کے مرادف ہے۔ بفضلہ تعالیٰ ہمارا آئین سن 1973 سے تمام حلقوں کی طرف سے متفقہ چلا آرہا تھا، تا ئیسویں ترمیم کی بنا پر آئین کو بھی متنازنہ بنادیا گیا ہے، لہذا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ اس ترمیم کو منسوخ کیا جائے یا قومی مشاورت اور پارلیمنٹ کے اتفاق سے دستور پاکستان کی روح کے مطابق ڈھالا جائے۔
(5) جون 2025 ء میں اسلام آباد دارالحکومت کے علاقے کے لیے ایکٹ نمبر 11 نافذ کیا گیا ہے، اس میں اٹھارہ سال سے کم عمر لڑ کے یا لڑکی کے نکاح کرنے ، کرانے اور نکاح پڑھانے کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے ، اور اس کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اندیشہ ہے کہ یہ قانون تمام صوبوں سے بھی منظور کرایا جا سکتا ہے ، جبکہ سندھ کی حکومت پہلے ہی ایک ایسا قانون بنا چکی ہے۔ یہ اجلاس واضح الفاظ میں قرار دیتا ہے کہ یہ قانون قرآن و سنت کے بالکل خلاف ہے۔ اسلام میں نکاح کی کوئی عمر مقرر نہیں ہے۔ بالخصوص بلوغ کے بعد جو ہمارے ملک میں عموما بارہ سے پندرہ سال کی عمر تک ہو جاتا ہے، کسی شخص کے لیے نکاح پر پابندی عائد کرنا موجودہ ماحول میں ناجائز تعلقات اور زناکاری پر آمادہ کرنے کے مرادف ہے، لہٰذا اس اجلاس کا متفقہ مطالبہ ہے کہ اس وفاقی قانون اور سندھ کے پابندی کے قانون کو منسوخ کیا جائے یا۔(6) ٹرانس جینڈر ایکٹ سن 2018 ء میں نافذ ہوا تھا جسے وفاقی شرعی عدالت نے قرآن و سنت کے خلاف قرار دے دیا تھا، لیکن حکومت نے اس کے خلاف سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بیچ میں اپیل دائر کر دی جو ابھی تک زیر التوا ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ معطل ہے، اور قانون فی الحال جوں کا توں موجود ہے ، البتہ شنید ہے کہ پارلیمنٹ کی کوئی کمیٹی اس میں ترمیم پر غور کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں