(گزشتہ سے پیوستہ)
حضرت ابوذر غفاریؓ کا معمول یہ تھا کہ جیسے کپڑے خود پہنتے تھے ویسے ہی نوکروں کو پہناتے تھے۔ ایک دن آپؓ کے ایک دوست نے آپؓ سے کہا آپ نے جو اتنا قیمتی لباس پہنا ہوا ہے اسی کپڑے سے اپنے غلام کو پہنا رکھا ہے، اس کو کوئی ہلکی پھلکی چادر کافی تھی۔ فرمایا، نہیں بھئی! میں نے رسول اللہؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ تمہارے ماتحت ہیں ’’اطعموھم مما تطعمون والبسوھم مما تلبسون‘‘ جو خود کھاتے ہو ان کو بھی وہی کھلاؤ، جو خود پہنتے ہو ان کو بھی وہی پہناؤ اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر کام نہ ڈالو۔ جتنا کر سکتے ہیں ان سے اتنا کام لو، اور اگر زیادہ کام اس کے ذمہ لگا دیا ہے اور تمہیں اندازہ ہے کہ یہ اکیلے نہیں کر سکے گا تو ’’اعینوھم‘‘ اس کے ساتھ مل کر کام کرو۔
غلامی کا مسئلہ آج کی دنیا کا ایک بڑا مسئلہ ہے، جبکہ معروضی صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ دو سو سال سے کسی جہاد میں ہم نے غلام یا لونڈی نہیں بنائے۔ جہاد فلسطین، جہاد کشمیر، جہاد افغانستان کسی میں بھی غلام اور لونڈی نہیں بنایا گیا۔ اقوام متحدہ کا ہم پر اعتراض یہ ہے کہ جب آپ نے غلامی کا سلسلہ ترک کر رکھا ہے تو قرآن کریم سے غلامی کے متعلق آیات نکالتے کیوں نہیں؟ حدیث میں غلامی کے ابواب کیوں پڑھاتے ہو؟ آپ کی فقہ کی کتابوں میں مکاتبت، تدبیر، استیلاد کے ابواب کیوں پڑھائے جاتے ہیں؟ مجھ سے ایک مذاکرے میں یہ سوال ہوا کہ تم نے غلام بنانا کیوں چھوڑا ہوا ہے، اور اگر غلام بناتے نہیں تو یہ مسائل پڑھانا کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں؟ میں نے کہا ہم نے غلام بنانا چھوڑ اس لیے دیا کہ یہ آنحضرت کا حکم نہیں تھا بلکہ مختلف آپشنز میں سے ایک آپشن تھا۔ بعض صورتوں میں اجازت دی تھی کہ اگر یہ کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔ موجودہ حالات میں یہ موافق نہیں ہے اس لیے ہم تبادلہ والا آپشن اپنا لیتے ہیں۔ اور پڑھاتے اس لیے ہیں کہ یہ منسوخ نہیں ہوا، قرآن میں اس کے احکام موجود ہیں اور احادیث میں موجود ہیں تو اسے کون منسوخ کر سکتا ہے؟ تاکہ کل اگر پھر خدانخواستہ وہ حالات بن جائیں اس لیے پڑھانا بھی ضروری ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہم نے غلامی کے احکام نہ منسوخ کیے ہیں اور نہ ہم منسوخ کر سکتے ہیں۔ ایک ہوتا ہے حکم، اور ایک ہوتا ہے حکم کا محل۔ وہ حکم جس ماحول کے لیے تھا اگر وہ ماحول دوبارہ آگیا تو وہ حکم بھی قائم ہے، ماحول بدلنے سے حکم بدل جاتا ہے۔
اس پر ایک مثال دوں گا، قرآن کریم نے صلٰوۃ الخوف کی جو تفصیل بیان کی ہے ’’واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلٰوۃ‘‘ (سورہ النساء ۱۷۶)۔ یہ قرآن کریم کا حکم اور جناب نبی کریمؐ کا عمل ہے لیکن آج کے دور میں میدان جنگ میں صلٰوۃ الخوف اس کیفیت میں نہیں پڑھیں گے جو قرآن کریم نے بیان کی ہے۔ آج اگر فوج کو مورچوں سے نکال کر اجتماعی صلٰوۃ الخوف کے لیے اکٹھا کریں گے تو یہ اجتماعی خودکشی ہو گی۔ اب جنگ کا ماحول بدل گیا ہے۔ اس زمانے میں صف بندی کی جنگ ہوتی تھی، اس میں نماز کی یہی ترتیب تھی۔ لیکن آج کل جنگ صف بندی میں نہیں مورچوں میں ہوتی ہے بلکہ اب تو مورچوں کی بھی نہیں رہی اب تو سنٹر میں بیٹھ کر جنگ ہوتی ہے اور کمپیوٹر کے ذریعے لڑائی کنٹرول کی جاتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن کریم کا حکم منسوخ ہو گیا ہے، حکم موجود ہے، حکم کا محل نہیں رہا۔ کل اگر دوبارہ صف بندی کی جنگ کا ماحول آگیا تو صلٰوۃ الخوف کی وہی ترتیب ہو گی جو قرآن کریم نے بیان کی ہے۔ اسی طرح غلامی کا مسئلہ بھی ہے کہ ماحول بدلنے سے اس کی کیفیت بدل گئی ہے، کل اگر یہ معاہدات ختم ہو جاتے ہیں اور باقی سارے آپشنز ختم ہو جاتے ہیں تو وہی حکم اپنا محل واپس آنے پر ویسے کا ویسا رہے گا اور غلام اور باندیاں بنائے جائیں گے، اس لیے ہم نے یہ پڑھنا پڑھانا ترک نہیں کیا۔