یہ بات اب کسی ابہام کی محتاج نہیں رہی کہ پاکستان اس وقت کسی جمہوری ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک یرغمال بنے ہوئے استحصالی نظام کے تحت چل رہا ہے یہ نظام نہ حادثاتی ہے نہ وقتی بلکہ دانستہ، منصوبہ بند اور طاقت کے چند مراکز کے مفاد میں ترتیب دیا گیا ہے یہاں عوام مالک نہیں محض تماشائی اور متاثرین ہیں ووٹ دینے والے ضرور ہیں مگر فیصلہ کرنے والے بالکل نہیں سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب دیکھ کر بھی خاموش رہنا حب الوطنی کا تقاضا ہے؟ یا خاموشی دراصل اس جرم میں شراکت ہے؟
یہ ملک ہمارا ہے اس کی مٹی اس کی شناخت، اس کا مستقبل سب ہی تو ہمارا ہے۔ اور اور وطن سے محبت کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ ظلم دیکھ کر منہ موڑ لیا جائے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ سچ بولا جائے سچ کا ساتھ دیا جائے چاہے وہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو اور اس کی کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔
اگر آج کے اقتدار کو دیکھا جائے تو نواز شریف کے بھائی وزیراعظم کے منصب پر فائز ہیں حقیقت یہ ہے کہ نوازشریف ایک سیاسی قیدی جیسے آزاد انسان نظر آتے ہیں جو تین بار عوامی مینڈیٹ لینے والا لیڈر آج فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں ہے۔بلکہ فیصلوں کو قبول کرنے پر مجبور ہے اقتدار ان کے پاس بلواسطہ یا بلاواسطہ انہی کے پاس ہے لیکن اختیار نہیں ان کی خاموشی، مفاہمت اور بے عملی چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ پاکستان میں منتخب وزیرِاعظم کی حیثیت اب محض ایک نمائشی مہرے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
یہی وہ نواز شریف ہیں جو کبھی ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتے تھے مگر آج وہی ووٹ کو عزت دینے والا لیڈر غیر منتخب قوتوں کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے کھڑا ہے سوال یہ بھی نہیں کہ نواز شریف کیوں خاموش ہیں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں کوئی بھی منتخب لیڈر واقعی بولنے کی اجازت رکھتا ہے؟
اس کے برعکس عمران خان یا بانی پی ٹی آئی کا انجام اس نظام کی اصل فطرت کو بے نقاب کر دیتا ہے عمران خان پر تنقید کی جا سکتی ہے ان کی سیاست سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے قید تنہائی، سزائیں، نااہلی، جماعت کو توڑنے کی کوششیں کارکنوں پر مقدمات کی بھرمار ۔ یہ سب اس لیے نہیں کہ وہ کرپٹ تھے بلکہ اس لیے کہ وہ طاقت کے طے شدہ دائرے سے باہر نکل آئے تھے۔ انہوں نے اندورنی اور بیرونی طاقت کے سارے مراکز کو چیلنج کیا تھا اس چیلنج کی سزا کے زریعے یہ پیغام نہ صرف عمران خان کو دیا گیا بلکہ پوری قوم کو بھی سنایا گیا عمران خان کے لئے پیغام یہ ہے کہ عوامی مقبولیت کی ایک حد ہے اس حد سے آگے جانے کی سزا جیل ہے۔یہ جمہوریت نہیں یہ خوف کی حکمرانی ہے۔
پیپلز پارٹی کا ذکر کئے بغیر یہ تصویر نامکمل اور کہانی پوری نہیں ہوتی ایک جماعت جو کبھی مزاحمت، قربانی اور عوامی سیاست کی علامت تھی آج مفادات کی سیاست کا بدترین نمونہ بن چکی ہے۔ بھٹو کا نظریہ اب صرف پوسٹروں اور تقریروں میں زندہ ہے عملی سیاست این،آر،او اقتدار میں شراکت اور طاقتور حلقوں کی خوشنودی کے گرد گھومتی ہے محترمہ بینظیر کی شہادت کے بعد پاور پالیٹکس میں یہ پارٹی محض زرداری لمیٹڈ کمپنی کا نقشہ پیش کررہی ہے۔
سندھ میں دہائیوں سے حکومت کرنے کے باوجود عوام آج بھی پینے کے صاف پانی، علاج، تعلیم اور انصاف کو ترس رہے ہیں مگر قیادت کے لیے اصل مسئلہ وزارتیں، فنڈز اور مفاہمت ہے پیپلز پارٹی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اقتدار کی خاطر نظریہ دفن کیا جا سکتا ہے۔ کائرہ، اعتزاز احسن، بڑے بڑے جیلے لیڈر خاطر جمع رکھیں انکی باری اوپر آنے کی نہیں آئے گی جمہوریت میں تو پارٹی کے اندر جمہوریت لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح مسلم ن کی قیادت بھی شریف خاندان سے باہر کسی کو نہیں دی جاسکتی۔ مولانا فضل الرحمن کی پارٹی کا بھی یہی حال ہے ۔
ان سب سیاسی کرداروں کے اوپر ایک سایہ مستقل موجود ہے مقتدرہ یا اسٹبلشمنٹ کی قیادت کا ریاستی نظام پر فیصلہ کن اثر و رسوخ لامتناہی سلسلہ قائم ہے سیاست میں مداخلت یہ اثر اب خفیہ نہیں رہا بلکہ ایک کھلی حقیقت ہے سیاست کی تشکیل، حکومتوں کی آمد و رفت، خارجہ پالیسی کی سمت، حتیٰ کہ معیشت کی ترجیحات تک، سب کچھ اسی اثر کے زیرِ سایہ طے ہو رہا ہے۔
یہاں مسئلہ کسی مخصوص دفاعی ادارے کے وجود کا نہیں مسئلہ یہ ہے کہ جب ایک ادارے کی قیادت اپنی آئینی حدود سے آگے بڑھ کر سیاست، معیشت اور عدلیہ پر اثر انداز ہونے لگے تو ریاست کا توازن بگڑ جاتا ہے، اور اس بگاڑ کی قیمت ہمیشہ عوام ادا کرتے ہیں اور یہ بات پاکستان کا ہر فرد اب کہہ رہا ہے مجھے افسوس ہے کہ یہ جو حجاب تھا یہ جو پردہ تھا اب وہ نہیں رہا ہے سوال یہ بھی ہے کہ قیادت کو خود ہی عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لئے اقدامات کرنے کے لئے پہل کرنی پڑے گی۔
دوسری طرف اس اس یرغمالی نظام میں عوام کا استحصال ہورہا ہے اور وہ کہاں ہیں؟
عوام مہنگائی کے نیچے دبے ہوئے انصاف سے محروم، ووٹ کی بے توقیری پر مجبور اور روزمرہ کی بقا ء کی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں وہ ٹیکس دیتے ہیں مگر سہولت نہیں پاتے، قربانیاں دیتے ہیں مگر اختیار نہیں ملتا۔ احتجاج کریں تو غدار، سوال کریں تو باغی اور خاموش رہیں تو استحصال ان کا مقدر ہے ۔
میڈیا، جو سچ بولنے کا آخری مورچہ تھا یا تو خریدا جا چکا ہے یا ڈرا دیا گیا ہے سچ بولنے والوں کو نوکریوں سے نکالا جاتا ہے غائب کیا جاتا ہے یا مثال بنا دیا جاتا ہے عوام کو وہی دکھایا جاتا ہے جو طاقتور دکھانا چاہتے ہیں۔
مگر اس سب کے باوجود ایک بات واضح ہے قوم ابھی زندہ ہے۔ غصہ موجود ہے شعور بیدار ہو رہا ہے نوجوان سوال کر رہے ہیں بیرونِ ملک پاکستانی سچ بول رہے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ عوام کو احساس نہیں مسئلہ یہ ہے کہ اس احساس کو منظم جدوجہد میں بدلنے کی ہمت ابھی پیدا نہیں ہوئی، اور یہاں وہ نکتہ سب سے اہم ہے جسے بار بار دبایا جاتا ہے۔یہ ملک ہمارا ہے۔
اس سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی بربادی پر خاموش رہا جائے۔اس سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ غلط کو غلط کہا جائے چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔