موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں صراحت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ حالات کسی طرح بھی خوش کن نہیں۔سیاسی ادراک رکھنے والے تجزیہ کار موجودہ سیاسی حالات کی جو تصویر کشی کر رہے ہیں۔اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ آنے والے دن اور مہینے اسی طرح سیاسی ابتری کا شکار رہیں گے جن کے باعث ہم کئی انہونی مصیبتوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ماضی کا عمیق جائزہ لیں تو ان ایام میں بھی ہمیں کوئی سیاسی ہم آہنگی یا میچورٹی نظر نہیں آتی۔گزری دہائیوں میں یہ سیاسی مہم جوئی اپنے پورے عروج پر رہی۔لگتا ایسے ہے جیسے ہمارے اندر برداشت ہی ختم ہو گئی ہے۔ناپید بھی۔اس تمام تر صورت حال اور پیش آمدہ حالات کی ذمہ دار پی ٹی آئی کو ٹھہرانا درست ہو گا؟ یہ سوال مارکیٹ میں بہت گردش کر رہا ہے اور اس پر ہر مکتبہ فکر کے افراد میں بات بھی کی جا رہی ہے۔پی ٹی آئی پر سیاسی ابتری پھیلانے کا محض الزام ہے یا اس الزام میں کسی حد تک صداقت بھی ہے۔آج اس پر بات کریں گے،سمجھنے کی کوشش ہو گی ملک کی ایک بڑی اور مقبول سیاسی جماعت پر ایسا الزام کیوں دھرا جا رہا ہے؟گزشتہ نصف صدی میں جہاں سیاسی ابتلا نے ہمارا سماجی حلیہ بگاڑا ہے،وہاں ترقی کا پہیہ بھی رک سا گیا ہے۔اگرچہ حکومت دعویدار ہے کہ سب معاشی اعشاریے ٹھیک جا رہے ہیں لیکن غیر جانبدار معاشی ماہر کہتے ہیں سب اچھا نہیں ہے۔عام رائے پائی جاتی ہے عوام کے حالات جب بدلیں گے تو تبھی کہہ سکتے ہیں معیشت ٹھیک اور عوام خوشحال ہیں۔روزگار مل رہا ہے،چل بھی خوب رہا ہے۔دعوے کتنے بھی کر لیں اس میں حرج ہی کیا ہے۔اس پر قدغن بھی کوئی نہیں۔لیکن لازم ہے کہ معیشت کو ٹھیک چلنا چاہیے۔معیشت ٹھیک ہو گی تو لوگ بھی خوشحال ہوں گے-کہتے ہیں معیشت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔معیشت ٹھیک رکھنے کے لئے سیاست کو ٹھیک رکھنا پڑتا ہے۔بدقسمتی سے پی ٹی آئی نے جب سے عملی سیاست کا آغاز کیا ہے سیاست میں ہڑبونگ نظر آتی ہے-ایسی دھینگا مشتی کہ جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔پی ٹی آئی ایسی جماعت ہے جس نے سیاست میں برداشت کا کلچر ختم کر دیا ہے۔رواداری کے سارے سلسلے ناپید ہو چکے ہیں۔بدتہذیبی امڈ آئی ہے،گالی گلوچ کے کلچر نے فروغ پایا ہے۔گمان ہوتا ہے جیسے تہذیب پاس سے بھی ہو کر نہیں گزری۔کہتے ہیں سیاستدان رول ماڈل ہوتے ہیں۔اپنا نیگیٹو تاثر دیں گے تو لوگ خاص کر نوجوان ان سے کیا سیکھیں گے، کیسا سبق حاصل کریں گے؟ پی ٹی آئی کی سیاست میں اسلام اور ریاست مدینہ کا نام بار بار استعمال ہوا۔کیا کسی کو شک ہے کہ ہم دین اسلام کے ماننے والوں میں سے نہیں۔رہی ریاست مدینہ کی بات،تو کوئی ریاست اس وقت ہی ریاست مدینہ بنتی ہے جب اس کے لئے عملی طور پر کام کیا جائے۔ اس عمل میں سب سے پہلا کام خود اپنی کردار سازی ہے۔ ملک کبھی نعروں،تمنائوں اور خواہشوں پر نہیں چلتا۔اپنی مطلب براری کے لئے اسلام یا ریاست مدینہ کا نام استعمال کریں گے تو یہ سودا کتنی دیر بیچیں گے۔بڑی سے بڑی طاقت یا بڑی سے بڑی حکومت بھی ہو تو خود کو کسی عتاب سے نہیں بچا سکتی۔پی ٹی آئی کے ساتھ جو ہوا،بانی پی ٹی آئی نے جتنے بھی تکبر کے بول بولے خود کو مطلق العنان سمجھتے ہوئے تکبر کو جب انتہائی بلندیوں پر لے گئے۔تو مقبول ہونے کے باوجود مکافات عمل کا حصہ بن گئے۔حالات کی ایسی آندھی چلی کہ ان کی مقبولیت خس و خاشاک کی طرح بہا لے گئی۔
بانی دو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے جیل میں ہیں۔جہاں ایک بیرک میں بقول بہن عظمی اور علیمہ خان قید تنہائی کاٹ رہے ہیں۔عیش و آرام میں پلنے والے ایک شخص (بانی پی ٹی آئی) کے لئے یہ بہت ہی ابتلا کی گھڑی ہے۔ان کا شمار سینئر سٹیزن میں ہوتا ہے۔عمر 73 برس کے قریب ہے۔سیاست نے یہ بھی دن دکھانے تھے کہ پلے گرائونڈ کا ہیرو جیل میں اب زیرو نظر آتا ہے۔دو مختلف کیسوں میں 27 سال قید ہو چکی ہے۔ان میں سے ایک کیس 190 ملین پائونڈ جبکہ دوسرا توشہ خانہ کیس ہے۔دونوں کیسوں کی لمبی سماعت رہی۔عدالت نے گواہان کے بیانات،پھر گواہان پر وکلا صفائی کی جرح اور حتمی دلائل سننے کے بعد استغاثہ کا کیس ثابت ہونے پر دونوں سزائیں سنائیں۔دونوں کیسوں میں بانی کی اہلیہ بھی شریک جرم ثابت ہوئیں۔سزا یاب ہو کر جیل کی بیرکس لمبے عرصے کے لئے ان کا مقدر بن گئی ہیں۔سزائوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہیں تو ریلیف ملتا نظر نہیں آتا۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔ایک قانونی اور دوسری سیاسی۔ اپیل دائر ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ بانی اور اہلیہ بشری بی بی کی قانون کے مطابق ضمانت پر رہائی بنتی ہے یا نہیں؟ بعض سیاسی اور قانونی ماہرین کے مطابق،توشہ خانہ اور 190 ملین پائونڈ کے دونوں کیس اتنے مضبوط اور ان میں جو شواہد پائے جاتے ہیں۔پھر گواہان نے جس مضبوطی سے استغاثہ کے موقف کو ثابت کیا ہے یہ سزا تو بنتی ہے،اگر سزائیں قانون کے مطابق نہیں،ان میں کوئی سقم ہے تو ہائی کورٹ سے انہیں ریلیف مل جائے گا پھر سزائوں پر لایعنی بحث کیوں؟ تاہم ایک نئی بحث نئے امکانات کو جنم دے رہی ہے کہ پی ٹی آئی تحریک تحظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے جس نئی ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کرنے جارہی ہے اس کی قیادت محمود خان اچکزئی کریں گے۔جو قوم پرست رہنما اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین ہیں۔بانی پی ٹی آئی نے انہیں اختیار سونپا ہے کہ احتجاج کے لئے وہ جو بھی فیصلہ کریں گے،پی ٹی آئی من و عن قبول کرے گی۔
دوسری جانب عظمی خان اور علیمہ خان نے وزیر اعلیٰ کے پی سے کہا ہے اور بانی کا پیغام پہنچایا ہے کہ وہ تحریک کی تیاری کریں حکومت مخالف اس احتجاجی تحریک کے لئے خیبر پختونخوا اہم مرکز ہو گا۔سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ احتجاجی تحریک گلی گلی،کوچہ کوچہ،چلائی جائے گی۔ چاروں صوبے اس کا مرکز ہوں گے۔ لیڈروں کی یہ بیان بازی ہے یا عملی طور پر وہ ایسا کر پائیں گے جبکہ اسٹیبلشمنٹ بھی تحریک کو دبانے، روکنے اور ناکام بنانے کے لئے سرگرم ہو گی۔تو ایسے میں مشکل نظر آتا ہے کہ تحریک کامیاب ہو۔وفاقی وزرا تحریک سے متعلق دیئے جانے والے بیانات کے بعد برملا کہہ چکے ہیں کہ احتجاج اگرچہ سب کا حق ہے لیکن احتجاج کی آڑ میں تجاوز کیا گیا،لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوا تو قانون حرکت میں آئے گا،اپنا راستہ لے گا قانون توڑنے والا قانون کے شکنجے میں ہو گا۔اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ارادہ ہے کہ 8 فروری کو تحریک کا آغاز کرے۔سہیل آفریدی نے اپنی تیاری شروع کر دی ہے۔مختلف جماعتوں اور لوگوں سے رابطے کئے جا رہے ہیں تاکہ تحریک کو کامیاب بنایا جا سکے۔لیکن تحریک کو ناکام بنانے کے لیئے حکومت کے بھی ارادے بہت توانا ہیں۔دیکھتے ہیں 8 فروری کے بعد تحریک کا کیا بنتا ہے؟