Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

تحریک انصاف کی مزاحمتی سیاست اور ناکامیاں

پاکستان آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سیاسی جوش موجود ہے، ریاستی طاقت بھی برقرار ہے مگر قومی ہم آہنگی ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کے گرد گھومنے والی سیاست اب صرف ایک جماعت کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ریاست اداروں اور عوام کے باہمی تعلق کا سوال بن چکی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ پوچھنا ناگزیر ہو گیا ہے کہ اتنی عوامی حمایت کے باوجود تحریک انصاف حکومت کو فیصلہ کن دبائو میں کیوں نہیں لا پا رہی ہے؟
اس سوال کا سب سے پہلا اور تلخ جواب یہ ہے کہ فوج کے ساتھ براہِ راست لڑائی تحریک انصاف جیت نہیں سکتی۔ یہ حقیقت جذبات سے نہیں طاقت کے توازن سے جڑی ہے سیاست میں بعض اوقات موقف درست ہوتا ہے مگر درست موقف کو بھی حکمت تدبر اور وقت کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا جاتا ہے مسلسل تصادم نے تحریک انصاف کے لئے راستے تنگ کئے ہیں اور سختیاں بڑھائی ہیں جن کا خمیازہ پارٹی قیادت سے زیادہ عام کارکن اور ہمدرد بھگت رہے ہیں۔تحریک انصاف کے اندرونی مسائل بھی اس تعطل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں پارٹی کی سب سے بڑی کمزوری اس وقت قیادت کی قید اور فیصلہ سازی کا فقدان ہے عمران خان جیل میں ہیں مرکزی قیادت بھی جیلوں میں یا بند ہے یا منتشر ہے اور واضح کمانڈ اسٹرکچر موجود نہیں جب تک عمران خان کی قید کے دوران عملی فیصلہ سازی کم از کم ان کی بہن علیمہ خانم کے پاس واضح طور پر منتقل نہیں ہوتی پارٹی کنفیوژن کا شکار رہے گی۔ اس خلا میں نہ فوری فیصلے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی کسی بڑی تحریک کی منصوبہ بندی ممکن ہے۔
حال ہی میں لندن لوٹن میں مجھے تحریک انصاف کے ایک جلسے میں شرکت کا موقع ملا ہال کی گنجائش تقریباً تین سو افراد کی تھی مگر چھ سو سے زائد لوگ موجود تھے یہاں تک کہ سڑکیں بلاک ہو گئیں۔ جوش و جذبہ ایسا تھا کہ خود منتظمین بھی حیران نظر آئے قابلِ غور بات یہ تھی کہ وہاں موجود تمام شرکا تحریک انصاف کے باقاعدہ کارکن نہیں تھے۔ بڑی تعداد عام پاکستانیوں کی تھی جو کسی جماعت سے وابستہ نہیں مگر موجودہ سیاسی اور معاشی حالات سے شدید نالاں ہیں۔ یہی کیفیت لندن ہائی کمیشن اور پاکستان کے چاروں قونصلیٹس کے باہر ہونے والے گزشتہ منگل کو ہونے والے مظاہروں میں بھی دیکھی گئی ہے ۔یہ عوامی ابال اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ قومی بنتا جا رہا ہے مگر بدقسمتی سے یہی صورتحال پاکستانیوں کی باہمی تقسیم اور اداروں کے خلاف نفرت میں اضافے کا سبب بھی بن رہی ہے یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست رک کر سیز فائر کا مطالبہ کرتی ہے بیانیاتی بھی اور عملی بھی۔ تصادم کا تسلسل نہ ملک کو فائدہ دے رہا ہے اور نہ کسی جماعت کو۔ ایک اور افسوس ناک پہلو مین اسٹریم میڈیا کا کردار ہے جہاں جہاں تحریک انصاف کے جلسے یا احتجاج ہوتے ہیں صحافی موجود ہوتے ہیں جو اپنے اپنے سوشل میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کرتے ہیں مگر مین اسٹریم میڈیا پر نہ کچھ لکھا جا سکتا ہے اور نہ نشر کیا جا سکتا ہے یہ خاموشی خود ایک سیاسی پیغام بن چکی ہے اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اجتماعات میں قید سینئر قیادت کے نام تک لینے سے گریز کیا جاتا ہے گویا وہ سیاسی منظرنامے سے غائب کر دیے گئے ہوں یہ صورتحال کسی بھی صحت مند سیاسی نظام کے لئے خطرے کی بڑی گھنٹی ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی اس پورے بحران میں خاموش فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ یہ دونوں جماعتیں ایک تیر سے دو شکار کر رہی ہیںیہاں یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل کی سفارتی حکمتِ عملی قابلِ تحسین رہی ہے بیجنگ، واشنگٹن اور ریاض کے ساتھ بیک وقت متوازن تعلقات قائم کرنا کوئی معمولی کامیابی نہیں۔ اسی طرح خطے میں بھارت کی بالادستی کے بیانیے کو بھی مثر انداز میں چیلنج کیا گیا ہے یہ وہ کامیابیاں ہیں جو ریاست کے لیے اہم ہیں اور جن کا اعتراف ہونا چاہیے۔
مگر سوال یہ ہے کہ خارجہ سطح پر کامیابی کے باوجود اندرونی محاذ پر کمزوری کیوں بڑھ رہی ہے؟
کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں عوامی سطح پر پھیلتی ہوئی باہمی انتشار کو ختم کیا جائے۔ معیشت کو سیاسی کشمکش سے نکال کر ترجیح بنایا جائے۔ نظام اور عوام کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک صف میں کھڑا کیا جائے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ وہ ریاست کا حصہ ہیں تو پھر سیکیورٹی چیلنجز بھی عوامی تائید اور حمایت سے فول پروف بنائے جا سکتے ہیں۔
بین السطور حقیقت یہی ہے کہ نہ مسلسل تصادم تحریک انصاف کے حق میں ہے نہ سیاسی اسپیس کا مکمل خاتمہ ریاست کے فائدے میں۔ سیاست کو زیرو سم گیم بنا دینا سب کو کمزور کرتا ہے۔ تحریک انصاف کو بھی اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی، اور ریاستی اداروں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی عمل کو محدود کر کے وہ خود اپنا اخلاقی جواز کمزور کر رہے ہیں۔
سوال اب یہ نہیں کہ جلسوں میں لوگ آ رہے ہیں یا نہیں لوگ آ رہے ہیں جوش بھی موجود ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس جوش کو تصادم کے بجائے قومی مفاہمت معاشی بحالی اور اجتماعی سلامتی کی طرف موڑا جا سکتا ہے؟
اگر ایسا نہ کیا گیا تو نقصان سب کا ہوگا۔اسلام آباد میں دو روزہ قومی کانفرنس کا اعلامیہ ہو یا خواجہ سعد رفیق کے والد کی برسی پر ہونے والی تقاریر ہوں یا پھر حامد میر کی کتاب کی تقریب رونمائی ہو یا انٹرنیشنل سطح پر ہونے والی پاکستان کے حوالے سے ہونے والی ڈویلپمنٹس ہوں نتیجہ صرف ایک ہی ہے ملک کی سیاسی فضا کو سازگار بنایا جائے ٹمبرچر کم کیا جائے ملک جمہوریت کے تحت چلایا جائے سیاست کو پنپنے اور آزاد کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں