Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

پاکستان کا اعتماد و حکمت کا عالمی سفر

عالمی سیاست کے اس ہنگامہ خیز منظرنامے میں پاکستان ایک اہم، حساس اور نہایت فیصلہ کن مقام رکھتا ہے۔ یہ محض ایک ملک نہیں بلکہ جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے انتہائی اہم خطے کا مرکز، اسلامی دنیا کی ایک بڑی طاقت، ایٹمی قوت اور عالمی فیصلوں میں دیرینہ اثر رکھنے والی ریاست ہے۔ ایسے میں خارجہ پالیسی کے میدان میں ذرا سی لغزش بھی آنے والے وقتوں کو متاثر کر سکتی ہے جبکہ دانشمندی، توازن اور بصیرت نہ صرف موجودہ وقت بلکہ مستقبل کے لیے بھی امن، احترام اور اعتماد کے دروازے کھول دیتی ہے۔ یہ حقیقت موجودہ حکومت نے شدید ذمہ داری کے ساتھ محسوس کی اور اسی احساس کے تحت پاکستان کی خارجہ پالیسی کو جذباتی نعروں، وقتی فائدوں اور غیر سنجیدہ حکمت عملی کے بجائے عقل، دلیل، وقار اور قومی مفاد کے روشن اصولوں پر استوار کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔پاکستان کی تاریخ سفارتی نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔ کبھی ہم عالمی طاقتوں کے دبا میں آئے، کبھی وقتی فیصلوں نے دیرپا مسائل پیدا کیے، کبھی اندرونی سیاسی کشمکش نے بیرونی محاذ کو متاثر کیا، کبھی عالمی معاہدات میں کمزور پوزیشن اختیار کرنا پڑی، کبھی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا، کبھی اعتماد مجروح ہوا اور کبھی عالمی سطح پر پاکستان کو غلط فہمیوں کا سامنا رہا۔ مگر ہر مشکل لمحے نے ہمیں یہ سبق دیا کہ خارجہ پالیسی جذبات کا کھیل نہیں بلکہ ریاستی بصیرت، قومی اتحاد، حکمت اور طویل المدتی سوچ کا تقاضا کرتی ہے۔ آج خوشی کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے اس حقیقت کو سمجھا اور اسے عملی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کو نئی روح ملی، نئی سمت ملی، نیا وقار ملا اور نئی ذمہ داری کا احساس پیدا ہوا۔اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ اسے عوامی مفاد سے جوڑا گیا ہے۔ اب سفارت کاری کا مقصد محض بیانات جاری کرنا یا رسمی دورے کرنا نہیں بلکہ ایسے فیصلے کرنا ہیں جن کا اثر عام پاکستانی کی زندگی تک پہنچے۔ موجودہ حکومت نے یہی راستہ اپنایا، اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھا اور یہی طرزِ فکر آج پاکستان کو عالمی دنیا میں نئی عزت، نیا احترام اور نئی حیثیت عطا کر رہا ہے۔ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات ہمیشہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون رہے ہیں۔ افغانستان کی صورتِ حال کسی بھی لمحے دنیا کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے مگر پاکستان کے لیے یہ ہمیشہ ایک انسانی، معاشرتی اور سلامتی کے پہلوں سے جڑا ہوا مسئلہ رہا ہے اورحکومت نے اس محاذ پر ذمہ داری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ ایران کے ساتھ تعلقات میں نرمی، تعاون اور باہمی احترام کی فضا قائم ہوئی، سرحدی معاملات بہتر ہوئے، تجارتی امکانات کو آگے لایا گیا اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔
چین کے ساتھ بھی پاکستان کا رشتہ محض سفارتی تعلق نہیں بلکہ دوستی، اعتماد، باہمی احترام اور مشترکہ مستقبل کی علامت ہے۔ سی پیک نہ صرف ایک منصوبہ ہے بلکہ پاکستان کے لیے ترقی اور معاشی انقلاب کا ایک روشن دروازہ ہے۔ موجودہ حکومت نے اس منصوبے پر نئے عزم کے ساتھ کام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ سی پیک کے تحت منصوبے دوبارہ متحرک ہوئے، چین کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور پاکستان کی اقتصادی سمت مزید واضح ہوئی۔مشرقِ وسطی کے ساتھ تعلقات ہمیشہ پاکستان کے لیے جذباتی حرارت، مذہبی وابستگی، تاریخی قربت اور عملی ضرورتوں کا حسین امتزاج رہے ہیں۔ مگر محض جذبات پر سفارت کاری نہیں چلتی۔ موجودہ حکومت نے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو محض دوستی کے دعوں پر نہیں بلکہ عملی تعاون، سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع، توانائی کے اشتراک اور معاشی تعاون کے عملی منصوبوں میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ خلیجی قیادت کے ساتھ مضبوط روابط، باہمی احترام اور کھلے دل سے تعاون کے فیصلوں نے پاکستان کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ محنت کش پاکستانیوں کے لیے بہتر مواقع پیدا ہوئے، سرمایہ کاری کے امکانات بڑھے، دنیا نے دیکھا کہ پاکستان اپنی دوستیوں کو صرف نعروں سے نہیں بلکہ عمل سے نبھاتا ہے۔ موجودہ حکومت نے امریکہ، یورپ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات میں نہ کمزوری دکھائی نہ غیر ضروری ضد۔ عزت و وقار کے ساتھ مکالمہ کیا، عالمی اداروں سے تعلقات بہتر کیے، پاکستان کے موقف کو دلیل، سنجیدگی اور وقار کے ساتھ پیش کیا۔ اس کے نتیجے میں عالمی اعتماد بڑھااورپاکستان کو ایک ذمہ دار، امن دوست اور خوددار ریاست کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
پاکستان کی آواز آج کسی شور کا حصہ نہیں بلکہ ایک مستنند، باوقار اور ذمہ دار آواز کے طور پر گونج رہی ہے۔ کشمیر کے مظلوم عوام کے حقوق کے لیے پاکستان کی آواز خاموش نہیں ہوتی، فلسطین کے معاملے پر پاکستان کی پوزیشن عدم استحکام کا شکار نہیں ہوتی، اسلاموفوبیا کے خلاف پاکستان کی جدوجہد صرف تقریری نعرہ نہیں بلکہ ایک عالمی تحریک کی طرف اشارہ ہے۔ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کو سہارا دینے، نظم و ضبط پیدا کرنے، غیر ضروری اخراجات کم کرنے، سرمایہ کاری کی راہیں ہموار کرنے، اعتماد بحال کرنے اور مالیاتی نظام کو مستحکم بنانے کے لیے جو اقدامات کیے، ان کے اثرات خارجہ پالیسی پر بھی نمایاں ہوئے۔
یہ سفر آسان نہیں تھا۔ راستے میں مشکلات بھی آئیں، اندرونی مخالف آوازیں بھی اٹھیں، سیاسی شور بھی برپا ہوا، کچھ حلقے فوری نتائج چاہتے رہے، کچھ نے مایوسی پھیلانے کی کوشش بھی کی۔ مگر حکومت نے ہمت نہ ہاری، راستہ نہ بدلا، فیصلہ نہ ٹالا، اصولی مقف نہ چھوڑا۔ یہی وہ ثابت قدمی ہے جو کسی ریاست کو عالمی سطح پر باوقار بناتی ہے۔ یہی تسلسل پاکستان کو مضبوط خارجہ پالیسی کی اس راہ پر لے جا رہا ہے جو نہ صرف آج بلکہ آنے والے کل کو بھی محفوظ بنا رہی ہے۔ پاکستان نے دنیا کو بتایا کہ ہم امن چاہتے ہیں، تعاون چاہتے ہیں مگر جھکنے کے قائل نہیں۔ ہم مفاہمت کے قائل ہیں مگر مفادِ ملت اور ریاستی وقار کی قیمت پر نہیں۔ یہی وہ سوچ ہے جو کسی قوم کو عزت بھی دیتی ہے اور راستہ بھی دکھاتی ہے۔اگر یہی پالیسی برقرار رہی، اگر یہی وقار، یہی سنجیدگی، یہی حکمت اور یہی قومی مفاد مقدم رکھنے کی سوچ آگے بڑھتی رہی تو آنے والا وقت پاکستان کے لیے مزید امکانات، مزید استحکام، مزید عزت اور مزید اعتماد کا پیام لائے گا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی آج امید کا چراغ ہے، ذمہ داری کا اعلان ہے اور ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔ قومیں خواب دیکھنے سے نہیں بنتیں، خواب سچ کرنے کے عزم سے بنتی ہیں۔ موجودہ حکومت نے خارجہ پالیسی کے میدان میں یہی عزم دکھایا ہے۔ یہی عزم پاکستان کے وقار کی ضمانت بنے گا، یہی عزم آنے والی نسلوں کے ہاتھ مضبوط کرے گا اور یہی عزم پاکستان کو اس مقام تک پہنچائے گا جہاں دنیا اسے محض ایک ملک نہیں بلکہ ایک باوقار، مضبوط، بااعتماد اور معتبر ریاست کے طور پر تسلیم کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں