ہمارے معاشرے میں بے رحمی اور سنگ دلی جس رفتار سے معمول بنتی جا رہی ہے، اس کا سب سے دل خراش اظہار ان شعبوں میں دکھائی دیتا ہے جنہیں کبھی خدمت، ایثار اور انسان دوستی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ڈاکٹری کا پیشہ جو مسیحائی کہلاتا تھا آج منافع، فیس اور فائل نمبر کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر کارڈیالوجی جیسے حساس شعبے میں، جہاں لمحوں کی تاخیر زندگی اور موت کا فیصلہ کرتی ہے، وہاں اگر ڈاکٹروں کا رویہ بے حسی ٹھہرے تو انجام محض ایک مریض کی موت نہیں بلکہ پورے سماج کے اخلاقی زوال کی گواہی بن جاتا ہے۔
ملتان کے ایک معروف قانون دان اپنی اہلیہ کو شدید تکلیف کے عالم میں ایمرجنسی لے کر پہنچے۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں کسی ڈاکٹر کی ایک نظر، ایک فوری فیصلہ، ایک بروقت مداخلت ایک انسانی بچا سکتی تھی۔ مگر ایمرجنسی کے دروازے پر انسان نہیں، فائل دیکھی گئی، نبض نہیں حیثیت دریافت کی گئی ، درد نہیں، ڈیوٹی ٹائمنگ دیکھی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مریضہ وہیں دم توڑ گئی اور سوال یہ نہیں کہ موت کیوں آئی، سوال یہ ہے کہ غفلت کیوں برتی گئی ۔یہ واقعہ محض ایک فرد یا ایک ادارے کی کہانی نہیں، یہ ایک پورے نظام کا نوحہ ہے۔ ہم نے طب کو تجارت میں، مسیحا کو منیجر میں، اور ہسپتال کو کارپوریٹ دفتر میں بدل دیا ہے۔ ایمرجنسی وارڈ اب انسانوں کی پناہ گاہ نہیں، ایک کائونٹر ہے جہاں پہلے رسید بنتی ہے، پھر سانسیں گنی جاتی ہیں۔ کارڈیالوجی میں تو ہر سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے ۔ڈاکٹر کا رویہ محض اس کی ذاتی اخلاقیات نہیں ہوتا وہ ادارے کی تربیت، ریاست کی نگرانی اور معاشرے کی اقدار کا عکس ہوتا ہے۔ جب نگرانی کمزور، احتساب ناپید اور منافع عزیز ہو جائے تو رویے بھی کرخت ہو جاتے ہیں۔ پھر مریض محض ایک کیس فائل، ایک بیڈ نمبر اور ایک بل کی رقم رہ جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا حلفِ بقراط اب محض نصابی سطر بن چکا ہے؟ کیا جان بچانا اب بزنس ماڈل کے تابع ہو گیا ہے؟یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ مریض اور اس کے لواحقین کی بے بسی کو اکثر ہتھیار بنایا جاتا ہے۔ ایمرجنسی میں آئے شخص کے پاس بحث کا وقت نہیں ہوتا، وہ سوال نہیں کرتا وہ بس امید لے کر آتا ہے۔ مگر جب اس امید کے بدلے سرد مہری ملے، تو دل ہی نہیں، اعتماد بھی مر جاتا ہے۔ ایسے واقعات کے بعد لوگ طب پر نہیں، پورے سماجی معاہدے پر شک کرنے لگتے ۔ اگر دل کے علاج کے مرکز میں دل نہ دھڑکے، تو معاشرہ کیسے زندہ رہے گا؟ اگر مسیحا کے ہاتھ میں صرف کیلکولیٹر ہو، تو نبض کون دیکھے گا؟ ملتان کے اس واقعے نے ایک جان لی ۔مگر اگر ہم نے سبق نہ سیکھا تو یہ خاموشی کئی اور جانیں لے گی۔یہ وقت ہمدردی کے بیانات کا نہیں، انسانی رویوں کی مرمت کا ہے۔ کیونکہ جب نظام بے حس ہو جائے تو ایمرجنسی وارڈ نہیں، پورا معاشرہ ICU میں چلا جاتا ہے۔یہ اظہاریہ کسی انتقامی جذبے کا اظہار نہیں، یہ ایک ایسے سوال کی دستک ہے جو ہمارے نظامِ صحت کے بند دروازوں پر مسلسل دستک دے رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب جدید آلات، ماہرین اور ادارے موجود ہوں تو پھر ایمرجنسی میں آئی ایک زندگی کیوں ہار جاتی ہے؟ نومبر 2025 کی رات پیش آنے والا واقعہ اسی سوال کو اور زیادہ تلخ بنا دیتا ہے۔ایک خاتون کو تشویشناک علامات کے ساتھ ایمرجنسی لایا گیا۔دو مرتبہ ECG کی گئی۔ دوسری ECG کے بعد لواحقین کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا گیا کہ سب کچھ نارمل ہے اور مریضہ کو گھر واپس لے جایا جائے۔ نہ کسی ممکنہ خطرے کی وضاحت، نہ آئندہ کے لیے کوئی ہدایت، نہ آبزرویشن، اور نہ ہی ECHO جیسا بنیادی تشخیصی ٹیسٹ۔صرف دو گھنٹے بعد وہی مریضہ شدید دل کے دورے کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئی۔سانحہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ بعد ازاں یہی ECG دو سینئر کارڈیالوجسٹ کو دکھائی گئی تو تشخیص سامنے آئی۔Ischemic Cardiomyopath ایک ایسی کیفیت جس میں دل کے عضلات کو خون کی مناسب فراہمی نہیں ہوتی اور جو فوری توجہ، نگرانی اور مزید تشخیص کی متقاضی ہوتی ہے۔ ان ماہرین کے مطابق ECG میں واضح خطرے کی علامات موجود Echoتھیں اور فوری طور ناگزیر تھا۔اگر مسئلہ اتنا واضح تھا تو مریضہ کو گھر کیوں بھیجا گیا؟یہاں بات محض ایک غلط تشخیص کی نہیں، بلکہ طبی غفلت کے تین سنگین پہلوں کی ہے:اول: ECG کو درست، باریک بین اور ذمہ دارانہ انداز میں نہیں پڑھا گیا۔کارڈیالوجی میں ECG محض کاغذ نہیں، یہ دل کی زبان ہوتی ہے۔ اسے نظرانداز کرنا وقت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
دوم: کسی قسم کی وضاحت یا ممکنہ خطرات سے آگاہ کیے بغیر مریضہ کو گھر بھیج دیا گیا۔ ایمرجنسی میں مریض اور لواحقین ڈاکٹر کے فیصلے پر اعتماد کرتے ہیں۔ جب یہ اعتماد بے بنیاد ہو تو نتائج جان لیوا ہوتے ہیں۔سوم: عملے اور متعلقہ ڈاکٹر کا غیر سنجیدہ اور غیر پیشہ ورانہ رویہ۔ایمرجنسی وارڈ میں رویہ بھی علاج کا حصہ ہوتا ہے۔ سرد مہری، جلد بازی اور بے اعتنائی اکثر بیماری سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔یہ واقعہ ایک فرد، ایک خاندان یا ایک شہر تک محدود نہیں۔ یہ ہمارے صحت کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیا کارڈیالوجی مراکز میں احتساب کا کوئی موثر نظام موجود ہے؟کیا ایمرجنسی پروٹوکول واقعی نافذ ہیں یا صرف فائلوں کی زینت؟اور سب سے اہم سوال یہ کہ اگر ایسی غفلت پر کوئی جواب دہی نہیں تو اگلی باری کس کی ہے؟یہ کہنا آسان ہے کہ موت مقدر تھی، مگر جب موت غفلت، نااہلی اور غیر ذمہ داری کے دروازے سے داخل ہو تو اسے تقدیر کہہ کر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ یہاں ایک عورت نہیں مری، ایک گھر ٹوٹا ہے، ایک خاندان اجڑا ہے، اور اعتماد دفن ہوا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ایمرجنسی کیس میں ECG کے ساتھ لازمی ECHO کے واضح اصول طے ہوں۔سینئر ڈاکٹر کی فوری دستیابی یقینی بنائی جائے۔غفلت ثابت ہونے پر بلا تاخیر قانونی و پیشہ ورانہ کارروائی ہو۔مریض کے حقوق کو محض بینر نہیں بلکہ عملی ضابطہ بنایا جائے۔آخر میں صرف اتنا کہنا ہے کہ اگر کارڈیالوجی سینٹر میں دل کی دھڑکنوں کو سنجیدگی سے نہ سنا جائے تو پھر یہ عمارتیں علاج گاہ نہیں، خاموش قتل گاہیں بن جاتی ہیں۔یہ کالم کسی ایک واقعے کا نوحہ نہیں یہ ایک اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش ہے۔ کیونکہ جب نظام بے حس ہو جائے تو ایک ECG نہیں، پورا معاشرہ فلیٹ لائن ہو جاتا ہے۔