Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

کیا خدا موجود ہے ؟

انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی سوال ایسا ہو جس نے عقل، ایمان، فلسفہ اور سائنس کو بیک وقت مضطرب رکھا ہو، جتنا اس سوالِ نے کہ کیا خدا موجود ہے؟ یہ سوال نہ نیا ہے، نہ محض الحادی ذہن کی اختراع، اور نہ ہی مذہب دشمنی کا استعارہ۔
یہ سوال سقراط کے مکالموں میں بھی ملتا ہے، ابنِ رشد کی تحریروں میں بھی، امام غزالی کے اضطراب میں بھی، اور جدید مغربی فلسفے میں بھی پوری شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے۔حال ہی میں مفتی شمائل ندوی اور معروف شاعر و فلمی دانشور جاوید اختر(ایک غیر فطری جوڑ)کے درمیان ہونے والے مکالمے نے اس سوال کو ایک بار پھر عوامی سطح پر زندہ کر دیا۔
اسی مکالمے میں ایک لفظ بار بار استعمال ہوا” Contingency ” اور یہی وہ لفظ تھا جسے جاوید اختر پوری طرح سمجھ نہ سکے۔یہاں سے مکالمہ محض مذہبی نہ رہا، بلکہ فلسفیانہ سطح پر منتقل ہوگیا۔Contingency کیا ہے؟ سادہ مگر گہرے تصور کا اردو مفہوم یہ کہ مشروط، غیر لازمی، اتفاقی یا انحصاری وجود ۔ فلسفے کی زبان میں Contingent Being وہ وجود ہے جو خود اپنی ذات میں لازم نہیں ،جو ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا تھا،اور جس کا وجود کسی اور پر منحصر ہو۔
مثال کے طور پرانسان Contingent ہے کائنات Contingent ہے مادہ، وقت، اور مکاں یہ سب Contingent ہیں ۔کیونکہ ان سب کے بارے میں سوال کیا جا سکتا ہے۔ یہ کیوں ہیں؟ اور کیوں نہ ہوتے؟یہی وہ نکتہ ہے جہاں مفتی شمائل ندوی اپنی دلیل کھڑی کرتے ہیں۔
جاوید اختر نے شروع ہی میں یہ کہہ دیا کہ ’’میں سائنس کے بارے زیادہ نہیں جانتا‘‘یہ امر مسلمہ ہے ،وہ سائنس اور فلسفے کی موشگافیوں سے واقعی آگاہ نہیں ، ایک گلیمرس کی دنیا کا پینے پلانے کا رسیا ، طبلے اور باجے گاجے کا شوقین ، عورت اور شہرت کا ذوق جسے ورثے میں ملا ،جس کے کانوں میں اذان کی بجائے کمیونسٹ پارٹی کا منشور انڈیلا گیا ۔ جاوید اختر کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ خدا کے وجود کو بنا دیکھے ماننے میں تامل رکھتے ہیں۔ وہ سائنس کا کامل علم نہ رکھنے کے باوجود خداکومشاہدے تجربہ سے گزار کر اس تک پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی مغالطہ پیدا ہوتا ہے۔سائنس یہ تو بتا سکتی ہے کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں مگر یہ نہیں بتاتی کہ چیزیں ہیں ہی کیوں؟یہ سوال سائنس کا نہیں، فلسفے کا ہے۔
مفتی شمائل ندوی دراصل جس دلیل کی طرف اشارہ کر رہے تھے، وہ فلسفے میں Contingency Argument کہلاتی ہے، جسے ابنِ سینا ،تھامس ایکوائناس لائب نِٹس جیسے بڑے فلسفیوں نے پیش کیا۔
اس دلیل کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ دنیا میں موجود ہر شے Contingent ہے ہر Contingent شے کو وجود میں آنے کے لیے کسی سبب کی ضرورت ہوتی ہے اگر تمام اسباب بھی Contingent ہوں تو سلسلہ لا انتہا ہو جائے گا۔ لاانتہا تسلسل (Infinite regress) عقلاً ناممکن ہے لہٰذا ایک ایسا وجود ہونا لازم ہے جو Necessary ہو یعنی جو خود کسی پر منحصر نہ ہواسی Necessary Being کو ہم خدا کہتے ہیں۔یہ دلیل مذہبی کم اور عقلی زیادہ ہے۔ Necessary vr Contingency یہاں اصل فرق سمجھنا ضروری ہے۔ Necessary Beingوہ وجود جو خود اپنے وجود کے لیے کسی اور کا محتاج نہ ہوجس کا نہ ہونا عقلاً ممکن نہ ہو Contingent Beingوہ وجود جو حالات، اسباب اور زمان و مکان کا پابند ہو ۔
جاوید اختر جب کہتے ہیںاگر خدا ہے تو اسے دکھائو تو وہ دراصل خدا کو بھی Contingent اشیا کی فہرست میں ڈال دیتے ہیں،جبکہ فلسفہ کہتا ہے خدا Contingent نہیں، Necessary ہے اس لیے وہ تجربے کا نہیں، عقلِ محض کا موضوع ہے۔
اس مکالمے کا المیہ یہ نہیں کہ جاوید اختر خدا کو نہیں مانتے،اور نہ ہی یہ کہ مفتی شمائل ندوی خدا کو مانتے ہیں۔اصل المیہ یہ ہے کہ دونوں دو مختلف دنیائوں کے باسی ہیں۔ایک سائنس نہ جاننے کے باوجود سائنس کے حصار سے باہر سوچنے کو تیار نہیںدوسرا فلسفے کی اصطلاحات عوامی سطح پر لانے پر مصر ہے جیسے لفظ Contingency مثالوں سے واضح کیے جاتے تو شاید مکالمہ ٹوٹتا نہیں، آگے بڑھتا۔اگر سوال زندہ رہے تو فکر زندہ رہتی ہے کیا خدا موجود ہے؟
یہ سوال اگر بند ہو جائے تو انسان محض ایک حیاتیاتی مشین بن کر رہ جاتا ہے۔ Contingency کا تصور ہمیں یہ یاد دلاتا ہے ہم خود اپنے وجود کے خالق نہیں ہماری عقل محدود ہے اور کائنات محض اتفاق نہیں ہو سکتی ۔یہ مکالمہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ایمان اندھا نہیں ہونا چاہیے اور انکار سطحی نہیں ہونا چاہیے اصل فکری ترقی ہوتی ہی وہاں ہے جہاں سوال احترام کے ساتھ پوچھا جائے اور جواب دلیل کے ساتھ دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں