(گزشتہ سے پیوستہ)
ہائی کمیشنوں کے باہرجمع ہوتے ہجوم محض افراد کاہجوم نہیں،یہ جذبات کی مجتمع صورت ہوتی ہے۔ ڈھاکہ سے چٹاگانگ تک،انڈین مشنزکے قریب احتجاج اورپتھراکے واقعات سامنے آئے۔ پتھر ااوراس کے بعدگرفتاری ورہائی کاسلسلہ یہی بتاتا ہے کہ ریاستی ادارے جذباتی طغیان کے سامنے خودکسی حدتک دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں ۔ سرحدکے دونوں جانب ریلیوں کامقابلہ دراصل بیانیوں کی جنگ کامظہربن گیا۔ڈھاکہ سے چٹاگانگ تک، انڈین مشنز کے قریب احتجاج اور پتھرا کے واقعات سامنے آئے۔گرفتاریاں ہوئیں ، رہائیاں ہوئیں،اورغیرمنصفانہ احتجاج کے الفاظ دونوں طرف کے جملوں میں درآئے۔ سرحد کے دونوں جانب ریلیاں نکلیں اورفضامیں بدگمانیوں کے پرندے منڈلانے لگے۔
بداعتمادی وہ دیمک ہے جومضبوط سے مضبوط رشتوں کوبھی اندرسے کھوکھلاکردیتی ہے۔ سابق سفارتکاروں کے تجزیات اسی داخلی سڑن کی نشاندہی کرتے ہیں۔بین الاقوامی اصولوں کاتقاضا ہے کہ سفارتی مشنزمقدس امانت ہوتے ہیں،مگر جب جذبات غالب آجائیں توامانتیں بھی خطرے میں محسوس ہونے لگتی ہیں۔سابق سفارتکار کے بقول ایسی بداعتمادی پہلے کبھی نہ تھی۔بین الاقوامی تعلقات کاطلائی اصول یہی ہے کہ سفارتی مشنزکا تحفظ اولین ذمہ داری ہے اوریہی اصول اس وقت آزمائش گاہ میں کھڑانظرآتاہے۔
درخت سے باندھ کر آگ لگا دینایہ جملہ ہی انسانی روح کو لرزا دیتا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف ہندو حلقوں میں اضطراب بڑھایا بلکہ ریاستی رٹ، قانون کی عمل داری اور اقلیتوں کے حقوق کے باب میں نئے سوال اٹھا دیے۔ سوشل میڈیا نے اس سانحے کو لمحوں میں سرحدوں سے آزاد کر کے انسانی ضمیر کے دروازوں پر دستک دے ڈالی۔ ہندو ملازم داس کی المناک ہلاکت،درخت سے باندھ کرآگ لگادینے کااندوہناک منظراور اس کی ویڈیوکاپھیلایہ سب کچھ غصے اوراشتعال کے شعلوں کوبلندترکرتا چلا گیا۔ اس سانحے نے اقلیتوں کے تحفظ کے باب میں نئے سوالات کوجنم دیا۔ ساتھ ہی مختلف حلقوں کی جانب سے طرح طرح کی نسبتیں اوراشارے سامنے آتے رہے جنہیں ذمہ دارانہ تحقیق اورعدالتی طریقہ کارکی کسوٹی پر پرکھنا ناگزیر ہے۔
عبوری حکومت کے سربراہ کابیان امیدکی شمع ضرورہے،مگرتاریخ کاکاتب یہ بھی لکھتاہے کہ صرف بیان کافی نہیں ہوتا۔ قانون کوطاقت سے نہیں،انصاف سے وقعت ملتی ہے۔اب نگاہیں اس پرہیں کہ یہ وعدہ عمل کی صورت کس طرح ڈھلتا ہے۔ عبوری حکومت کے سربراہ محمدیونس نے صاف الفاظ میں کہاکہ نئے بنگلہ دیش میں اس قسم کے تشددکی کوئی گنجائش نہیں ۔
قانون کی برتری کاوعدہ اسی وقت معتبر ہوگا جب انصاف کی ترازو دونوں پلڑوں میں یکساں ٹھہرسکے۔گرفتاریاں اپنی جگہ،مگرسوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیااقلیت خودکومحفوظ سمجھ رہی ہے؟ جمہوری معاشرے کاحسن یہی ہے کہ کمزورطبقات سب سے زیادہ محفوظ ہوںاگروہ لرزاں ہوں توریاست کاوقارمجروح ہوتا ہے۔ داس کے قتل میں ملوث متعددافرادکی گرفتاری کے باوجود سوال اپنی جگہ یہ ہے کہ کیااقلیتوں کے دلوں میں بیٹھاخوف کم ہوسکا؟کیایہ تشدد وقتی ہیجان ہے یاکسی گہرے سماجی اضطراب کامظہر؟
کچھ بیانیوں کے مطابق مذہبی انتہا پسند عناصرکی شمولیت کے شکوک ظاہرکیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں اخبارات و ثقافتی اداروں پرحملوں کی خبریں آئیں۔یہ صورتحال اس سوال کوپھرسے زندہ کرتی ہے کہ قلم اورثقافت پروارکرنے والے دراصل معاشرے کے کس زاویے کی نمائندگی کرتے ہیں۔اخبارات اورثقافتی اداروں پر حملے اس امرکی علامت ہیں کہ سماج کے اندر ایک ایساطبقہ موجودہے جواختلاف کومکالمے سے نہیں،طاقت سے جواب دیناچاہتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں تہذیبی روایت،رواداری اوردل آویزی کاامتحان شروع ہوتاہے۔
کچھ بیانیوں کے مطابق مذہبی انتہاپسند عناصرکی شمولیت کے شکوک ظاہرکیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں اخبارات و ثقافتی اداروں پرحملوں کی خبریں آئیں۔یہ صورتحال اس سوال کوپھرسے زندہ کرتی ہے کہ قلم اورثقافت پروارکرنے والے دراصل معاشرے کے کس زاویے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
سول سوسائٹی کی آوازریاست کی سماجی روح ہوتی ہے۔اس روح نے واضح کہاکہ عبوری انتظامیہ امن بحال کرنے میں پسپا دکھائی دی۔ سماج کی یہ آواز محض شکایت نہیں بلکہ اصلاحِ حال کی دعوت بھی ہے۔سول سوسائٹی کی آوازیں پرشکوہ احتجاج میں ڈھل گئیں کہ امن وامان کے قیام میں عبوری انتظامیہ ناکام رہی۔گویاریاست کے ہاتھ میں تھامی ہوئی شمع لرزاں دکھائی دی۔
بین الاقوامی ماہرین نے بجاکہاکہ میڈیا کا کردارآگ بھی بھڑکاسکتاہے اورپانی بھی ڈال سکتا ہے۔اگرخبرتحریربن کرتعصب اوڑھ لے تو معاشرے کی آنکھوں میں دھواں بھردیتی ہے۔ اس لیے ذمہ دارانہ رپورٹنگ اس وقت ناگزیر ہو چکی ہے۔بین الاقوامی محققین نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ بعض بھارتی ذرائع ابلاغ بنگلہ دیش کی صورتحال کوایسے انداز میں پیش کررہے ہیں جس سے فرقہ وارانہ تاثرگہرا ہو۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اجاگرہوئی کہ بنگلہ دیش کا استحکام خطے کی مجموعی سلامتی سے جڑاہواہے۔
انتخابات بنتے بھی ہیں،بگاڑتے بھی ہیں۔ 12فروری کے انتخابات کی آمدنے سیاسی فضا کو مزیدسنجیدہ بنادیاہے۔عبوری سربراہ کیلئے چیلنج یہی ہے کہ وہ انتخابی مرحلے سے قبل امن واطمینان کی فضا ہموارکرسکیں۔اس لئے12فروری کا انتخاب صرف اقتدارکی تبدیلی نہیں بلکہ استحکام اوربیچینی کے درمیان فیصلہ کن لکیرثابت ہوسکتا ہے۔ عبوری حکومت کا اصل امتحان تشددکی آگ بجھانا اور رائے دہی کیلئے پرامن فضافراہم کرناہے۔
عوامی لیگ کی غیرحاضری نے سیاسی بساط کونئی ترتیب دی ہے۔عوامی لیگ کی عدم شرکت کے باعث بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے امکانات روشن دکھائے دیتے ہیں،البتہ مذہبی سیاسی قوتیں بھی ایک موثرچیلنج کے طورپرسامنے آ سکتی ہیں اورمذہبی سیاسی قوتوں کی متحرک موجودگی سیاسی معاملات کومزیدپیچیدہ بناسکتی ہے۔سیاست کا دریا سیدھی لکیرمیں نہیں بہتا ۔ سیاست کاشطرنجی کھیل اپنے پتے ابھی مکمل طورپرنہیں کھولتاکہ نتائج کسی اور منظرنامے کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ ( جاری ہے )