Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

سسٹم کا باپ بننے کی خواہش

ہر نظام کے اردگرد کچھ ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو خود کو اس نظام کا محافظ ہی نہیں، اس کا وارث اور سرپرست بھی سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ لوگ نظام کے خادم نہیں ہوتے، بلکہ اس کے قیم بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کی آرزو یہ نہیں ہوتی کہ سسٹم بدلے، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ ہر بغاوت کو وہ اپنے دستِ شفقت سے قابلِ قبول بغاوت میں ڈھال دیں۔ ہمارے ہاں بھی یہ خواہش نئی نہیں، بس چہرے بدلتے رہتے ہیں، کردار وہی رہتا ہے۔اسی تناظر میں بعض حلقوں کو یہ گمان لاحق ہے کہ وہ سیاسی انقلابیوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر انہیں ایسی راہوں پر ڈال سکتے ہیں جو بالآخر انہیں اسی دربار تک لے جائیں جس کے خلاف وہ بغاوت کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی تسکین بھی ہے اور طاقت کے قریب رہنے کی ایک حکمت عملی بھی۔
یوں لگتا ہے کہ اگر کوئی شخص خود نظام نہیں بن سکا تو کم از کم وہ اس نظام کا باپ بننے کا شوق ضرور پال لیتا ہے۔جناب سہیل وڑائچ جیسے سینئر صحافی کی اس خواہش کا کم از کم ان کے بیانیے سے یہی تاثر ملتا ہے اسی ذہنیت کی ایک علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ یہ خواہش کہ بانی پی ٹی آئی کے سر پر ہاتھ رکھا جائے، ان کی انگلی تھامی جائے اور انہیں اس راستے پر لایا جائے جو انہیں آخرکار اسی نظام کے دروازے پر لا کھڑا کرے جس کے خلاف وہ برسوں سے مزاحمت کرتے آئے ہیں۔ ایک ایسا نظام جس کے خلاف مزاحمت کی پاداش میں آج وہ قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔یہ خواہش بظاہر خیرخواہی کے لبادے میں لپٹی ہوئی ہے، مگر اس کے اندر ایک گہری سیاسی سرپرستی کی تمنا چھپی دکھائی دیتی ہے۔
گویا بانی پی ٹی آئی کو یہ باور کرایا جائے کہ اصل دانائی مزاحمت میں نہیں، مصالحانہ سرِ تسلیم میں ہے، اصل کامیابی نظام سے ٹکرانے میں نہیں، اس کے قدموں میں اپنی کتھا گتھا ڈھیر کرنے میں ہے۔ یہ وہی پرانا سبق ہے جو ہر دور میں ہر مزاحم کو پڑھایا جاتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ نظام کبھی مزاحمت کو معاف نہیں کرتا، البتہ وہ مزاحمت کو جذب کر لیتا ہے۔ اس جذب کے عمل میں سب سے اہم کردار ایسے ہی درمیانی کردار ادا کرتے ہیں جو خود کو پل، رہنما اور مصلح کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ہم تمہیں بچانا چاہتے ہیں، مگر دراصل وہ نظام کو ان سے بچانا چاہتے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کا مقدمہ بھی اسی کشمکش کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ بیانیہ ہے جو کرپٹ اسٹرکچر، طاقت کے غیر منتخب مراکز کے خلاف ثابت قدمی سے کھڑا ہوا۔ دوسری طرف وہ مشورے ہیں جو انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سسٹم سے لڑ کر کوئی نہیں جیتا، عقل مندی یہی ہے کہ اسی میں جگہ بنائی جائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہر مزاحمت کا انجام یہی ہے تو پھر تاریخ میں منڈیلا، بھٹو، ناصر، اور گاندھی جیسے نام کیسے وجود میں آئے؟
اصل مسئلہ سہیل وڑائچ یا کسی ایک فرد کا نہیں۔ مسئلہ اس سوچ کا ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ عوامی لیڈر ایک یتیم بچہ ہوتا ہے جسے کسی نظامی سرپرست کی انگلی پکڑ کر ہی چلنا آنا چاہیے۔ یہ سوچ عوام کی سیاسی شعور کی توہین بھی ہے اور مزاحمت کے فلسفے کی نفی بھی۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے،کیا بانی پی ٹی آئی واقعی اس مقام پر کھڑے ہیں کہ وہ اپنی پوری جدوجہد، تمام دعوے اور ساری کتھا گتھا اسی نظام کے قدموں میں رکھ دیں جسے وہ ظلم، ناانصافی اوراستحصال کی جڑ قرار دیتے رہے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ صرف ایک فرد کی پسپائی نہیں ہوگی، بلکہ ان لاکھوں لوگوں کی امیدوں کی شکست ہوگی جنہوں نے انہیں ایک متبادل سیاست کا چہرہ سمجھا۔سسٹم کے باپ بننے کی خواہش دراصل اس خوف کی علامت ہوتی ہے کہ کہیں نظام کمزور نہ پڑ جائے۔ اس خوف میں مبتلا لوگ ہر اس آواز کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہیں جو اسٹیٹس کو کو چیلنج کرے۔ وہ مزاحمت کو رومانوی، جذباتی اور غیر عملی کہہ کر رد کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کی ہر بڑی تبدیلی اسی غیر عملی کہلانے والی مزاحمت سے جنم لیتی ہے۔
آج بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں، مگر ان کا بیانیہ زندہ ہے۔ یہ بیانیہ صرف ایک سیاسی جماعت کا نہیں، بلکہ ایک طبقے کی بے بسی، غصے اور امید کی ترجمانی کرتا ہے۔ اسے نظام کی نذر کرنے کی خواہش رکھنے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ نظریات قید نہیں ہوتے، اور مزاحمت محض ایک شخص کا نام نہیں۔سوال یہ نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کس در پر جا کھڑے ہوں گے، سوال یہ ہے کہ نظام کب عوام کے در پر آئے گا؟کیونکہ جب سسٹم کے باپ بننے کی خواہش حد سے بڑھ جائے تو پھر نظام نہیں بچتا، نہ مزاحمت، صرف مفاد باقی رہ جاتا ہے۔اور تاریخ، مفاد کو نہیں، مزاحمت کو یاد رکھتی ہے۔وہ لوگ جو نظام کے راستے کے جھاڑ جھنکار ہٹانے کے آرزومندہوتے ہیں ان کا ثابت قدم رہنا ضروری ہوتا یے، تاہم ثابت قدمی ضد یا انا پرستی کا نام نہیں بلکہ قومی وجود کی سلامتی اور نظام کے استحکام کے لئے ہو تو سود مند ہوتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں