Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

وزیراعلی کے پی کا دورہ پنجاب،محرکات اور حاصلِ سفر

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں صوبوں کے باہمی تعلقات کبھی محض انتظامی معاملہ نہیں رہےبلکہ یہ تعلقات ہمیشہ طاقت،اختیاراورمرکزسےقربت یا دوری کے پیمانے پر پرکھےجاتے رہے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے فوراًبعد ہی یہ سوال جنم لے چکا تھا کہ وفاق مضبوط ہوگا یا صوبے؟ اور اگر وفاق مضبوط ہوا تو کیا صوبوں کی قیمت پر؟ یہی وہ تاریخی پس منظر ہے جس میں ہر صوبائی قیادت کا دوسروں کے صوبوں کا دورہ محض ایک رسمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک سیاسی علامت بن جاتا ہے۔خصوصاً پنجاب جو آبادی، معیشت اور اقتدار کے مرکز کے طور پرجاناجاتا ہے، ہمیشہ دیگر صوبوں کے لیے طاقت کے محور کی حیثیت رکھتا آیا ہے۔ اسی لئے جب خیبرپختونخوا کا وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا رخ کرتا ہے تو یہ محض ایک دورہ نہیں رہتا بلکہ اس کے پسِ منظر میں تاریخ کے کئی سوال، شکوے اور خدشات سانس لے رہے ہوتے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دورہ پنجاب ایک ایسے وقت میں ہوا جب ملک پہلے ہی شدید سیاسی تقسیم، عدالتی تنازعات اور وفاقی اکائیوں کے درمیان عدم اعتماد کا شکار ہے۔ مرکز کمزور ہے، پارلیمان بے اثر اور سیاست سڑکوں، بیانیوں اور علامتوں تک محدود ہو چکی ہے۔ ایسے میں یہ سوال فطری تھا کہ کیا یہ دورہ بین الصوبائی ہم آہنگی کے لئے ہے یا محض سیاسی دبائو بڑھانےکی ایک چال ہے؟بظاہر اعلان یہ تھا کہ یہ دورہ سیاسی رابطوں، کارکنوں سے ملاقات اور جمہوری جدوجہد کے تسلسل کے لئے ہے، مگر ریاستی اخلاقیات کے تناظر میں دیکھاجائےتو ایک صوبے کے وزیرِاعلیٰ کادوسرے صوبے میں جا کر اپوزیشن سیاست کرنا ایک غیر معمولی اور متنازع روایت ہے۔مذکورہ دورے کے تین واضح اہداف دکھائی دیئے۔
-1 سیاسی بیانیے کی توسیع خیبر پختونخوا میں قائم حکومت خود کو ایک مزاحمتی ماڈل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ پنجاب کا دورہ دراصل اسی بیانیے کو ملک کے سب سے بڑے صوبے تک منتقل کرنے کی کوشش تھا تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ مزاحمت صرف ایک صوبے تک محدود نہیں۔
-2 پنجاب میں سیاسی حرارت پیدا کرنایہ حقیقت ہے کہ پنجاب پاکستان کی سیاست کا دل ہے۔ یہاں سیاسی ہلچل پیدا کیے بغیر کوئی قومی بیانیہ تکمیل پذیر نہیں ہوتا۔ دورے کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ پنجاب کی فضا میں سیاسی بے چینی کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔
-3 ریاستی ردِعمل کو بے نقاب کرناایک غیر اعلانیہ مگر نہایت اہم مقصد یہ بھی تھا کہ اگر رکاوٹیں، بدسلوکی یا سیکورٹی مسائل سامنے آئیں تو انہیں بطور سیاسی دلیل استعمال کیا جاسکے یعنی یہ تاثراجاگر کیاجائے کہ جمہوریت کے دعوے دار دراصل کتنے تنگ دل ہیں۔کیا اہداف حاصل ہوئے؟ بیانیہ ضرور پھیلا، لیکن قیمت کے ساتھ دورے نے میڈیا میں جگہ ضرور بنائی، بیانات گونجے، کارکن متحرک ہوئے، مگر یہ سب کچھ تصادم کے بیانیے کے تحت ہوا۔ مفاہمت، شائستگی اور وفاقی وقار کہیں نظر نہیں آیا۔ بین الصوبائی ہم آہنگی مکمل طور پر ناکام دکھائی دی،نہ کوئی مشترکہ اعلامیہ سامنے آیا، نہ ہی کسی پالیسی، پانی، معیشت یا سیکورٹی جیسے سنجیدہ مسئلے پر بات آگے بڑھی۔ یوں یہ دورہ ریاستی فائدے کے بجائے سیاسی فائدے تک محدود رہا۔ وفاق مزید کمزور ہوا،ایک صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کا دوسرے صوبے میں سیاسی محاذ آرائی کرنا دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ وفاقی ڈھانچہ اپنی اخلاقی اتھارٹی کھو چکا ہے۔ جب مرکز غیر موثر ہو تو صوبے خود مرکز بننے لگتے ہیں اور یہی ریاستوں کے زوال کی پہلی علامت ہوتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب صوبے ایک دوسرے کو سیاسی اکھاڑہ سمجھنے لگیں تو نتیجہ ہمیشہ عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ 1950ء کی دہائی سے لے کر 1971 ء تک اور پھر اٹھارویں ترمیم کے بعد، ہر دور میں یہی سبق ملتا ہے کہ سیاست اگر وفاقی اخلاقیات سے عاری ہو جائے تو جمہوریت نعرہ بن جاتی ہے، نظام نہیں۔دورہ کامیاب تھا یا ناکام؟اگر معیار سیاسی شور ہو تو دورہ کامیاب تھا۔اگر معیار ریاستی وقار، وفاقی ہم آہنگی اور عوامی مفاد ہو تو یہ دورہ ایک ضائع شدہ موقع تھا۔یہ دورہ ہمیں یہ بتا گیا کہ پاکستان میں اب سیاست حکومت کرنے کے لئے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیےکی جا رہی ہے اور جب سیاست اس نہج پر پہنچ جائے تو پھر دورے تاریخ میں کامیابی کے باب میں نہیں، بلکہ تنبیہ کے طور پر درج ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں