جمہوریت کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ اقتدار کی اصل قوت عوام ہوتے ہیں۔ ووٹ کی پرچی کو ایک ایسی مقدس امانت قرار دیا جاتا ہے جو حکمرانوں کے عروج و زوال کا فیصلہ کرتی ہے۔ مگر پاکستان جیسے معاشروں میں یہ سوال ہمیشہ زندہ رہا ہے کہ کیا واقعی عام آدمی کی سیاسی رائے کی کوئی وقعت ہے؟ یا وہ محض پانچ سال بعد استعمال ہونے والا ایک رسمی ہتھیار ہے، جسے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوتے ہی فراموش کر دیا جاتا ہے؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ اگر کسی ایک المیے کا نام ہے تو وہ ہے عوام اور اقتدار کے درمیان مسلسل بڑھتا ہوا فاصلہ۔ یہاں عوام کو طاقت کا سرچشمہ تو کہا گیا، مگر طاقت کا شریک کبھی نہیں بنایا گیا۔پاکستان کے قیام کے وقت عوامی رائے کی حیثیت غیر معمولی تھی۔ تحریکِ پاکستان دراصل ایک عوامی سیاسی تحریک تھی، جس میں مسلمان عوام نے واضح طور پر اپنا سیاسی فیصلہ دیا۔ 1945-46 ء کے انتخابات اس بات کا ثبوت تھے کہ مسلمان عوام جانتے تھے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔لیکن قیامِ پاکستان کے فوراً بعد منظرنامہ بدل گیا۔
ریاست کمزور تھی، ادارے ناپختہ تھے اور اقتدار ایک بیوروکریٹک‘ اشرافیائی ڈھانچے کے ہاتھ میں چلا گیا۔ قائداعظم کی وفات کے بعد عوامی رائے آہستہ آہستہ سیاسی فیصلوں سے بے دخل ہونے لگی۔1950 ء کی دہائی میں دستور سازی میں تاخیر، وزرائے اعظم کی بار بار برطرفی اور گورنر جنرل کے اختیارات نے واضح کر دیا کہ عوام کا ووٹ اقتدار کا اصل معیار نہیں رہا۔
1958 ء میں پہلا مارشل لا لگا تو عوامی رائے کو کھلے عام مشکوک قرار دے دیا گیا۔فیلڈ مارشل ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کے نام پر عوامی رائے کو ایک فلٹرڈ نظام میں قید کر دیا۔ عوام براہِ راست فیصلے کے اہل نہیں رہے، بلکہ چند ہزار منتخب افراد کے ذریعے ان کی رائے کو قابو میں رکھا گیا۔
یہی وہ موڑ تھا جہاں پاکستانی سیاست میں یہ سوچ راس ہوئی کہ عوام کی رائے کو استعمال تو کیا جا سکتا ہے، مگر اس پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔
1970 ء کے انتخابات پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی المیہ ٹھہراعوام نے واضح، دو ٹوک، غیر مبہم فیصلہ دیالیکن اقتدار کے مراکز نے اس فیصلے کو قبول نہ کیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ عوامی رائے کو کچلنے کی قیمت ملک ٹوٹنے کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان میں عوام کی رائے قابلِ قبول تبھی ہے جب وہ طاقتور حلقوں کی خواہشات سے ہم آہنگ ہو۔
1973 ء کے آئین نے عوامی حاکمیت کو تسلیم کیا، مگر عملی سیاست میں صورتِ حال مختلف رہی۔سیاسی جماعتیں الیکشن کے دنوں میں عوام کو طاقت کا سرچشمہ کہتی ہیں، مگر اقتدار میں آتے ہی فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں۔کسی بھی پالیسی کے بنانے اور نافذ کرنے میں عوام کسی مشورے کے قابل نہیں گردانا گیا۔عوامی رائے صرف جلسوں کی نعرہ بازی تک محدود رہ جاتی رہی۔ووٹ کی قدر ضرورت تک محدود ہو جاتی رہی ، اسے احترام تک پہنچانا اہم نہ سمجھا گیا۔پاکستان کا عام آدمی سیاسی طور پر اتنا ہی باشعور ہے جتنا کسی بھی ترقی پذیر معاشرے کا شہری ہو سکتا ہے۔وہ مہنگائی، بے روزگاری، انصاف، تعلیم اور صحت جیسے مسائل پر واضح رائے رکھتا ہے۔
مسئلہ عوام کی شعوری کمی نہیں، بلکہ سیاسی نظام کی بد نیت ہے۔عام آدمی کی رائے پالیسی سازی میں شامل کی گئی نہ بجٹ میں جھلکتی دکھائی دی خارجہ اور سلامتی کے فیصلوں میں غیر متعلق سمجھی جاتی رہی ،یوں عوام کی رائے ریاستی فیصلوں کی زینت نہیں بنی، صرف انتخابی بیانیے تک محدود رہی۔سیاستدانوں نے عوامی رائے کو درخور اعتنا نہیں جانا اوربدقسمتی سے پاکستان میں سیاستدان عوامی رائے کو تین خانوں میں تقسیم کرنے پر عمل پیرا رہے۔
ووٹ بینک ہجو م دبائو کا آلہ عوام کی سنجیدہ فکری رہنمائی حاصل نہیں کی گئی بلکہ جلسوں کی تعداد، نعرے اور سوشل میڈیا ٹرینڈز تک محدود رکھا جاتا رہا۔جب عوامی رائے حکومت کے حق میں ہو تو اسے جمہوریت کہا جاتا ہے،اور جب خلاف ہو جائے تو اسے گمراہ کن مہم یا غیر ذمہ دار رویہ قرار دے دیا جاتا ہے۔
دوسری طرف میڈیا جس کو عوامی رائے کی آواز بننا تھا، مگر وہ خود طاقت کے مراکز میں الجھ کر رہ گیا۔ٹاک شوز میں عوام کی رائے نہیں، بلکہ طاقتور بیانیوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔یوں عام آدمی کی سیاسی رائے سنی تو جاتی ہے مگراسے وقعت نہیں دی جاتی۔گویا کہ پاکستان میں عام آدمی کی سیاسی رائے وجود رکھتی ہے، اثر نہیں رکھتی ،وہ اقتدار کو جنم تو دیتی ہے، مگر اقتدار کو چلاتی نہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک عوامی رائے کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔سیاستدان خود کو عوام کا نمائندہ نہیں، مالک سمجھتے رہیں گے اور ادارے عوامی فیصلے کو مشروط قبول کرتے رہیں گے،تب تک جمہوریت محض ایک انتخابی رسم رہے گی، ایک زندہ نظام نہیں۔پاکستان کا اصل بحران یہ نہیں کہ عوام بولتے نہیں،اصل بحران یہ ہے کہ اقتدار سننے پر آمادہ نہیں۔