بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اس وقت عالم اسلام کے بہت سے مسائل میں سب سے اہم فلسطین، بیت المقدس اور فلسطینیوں کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت پوری دنیا میں زیر بحث بھی ہے اور تمام لوگ اپنے اپنے دائرے میں اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ فکر مند بھی ہیں۔
فلسطین کی موجودہ لڑائی تقریباً ایک سو سال قبل شروع ہوئی تھی۔ جب پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے فلسطین کو اپنی تحویل میں لیا تھا اور دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر فلسطین میں بسانے کا عمل شروع کیا تھا، اس سے پہلے پورے فلسطین میں یہودیوں کی آبادی دو تین فیصد تھی۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ بالفور نے یہودیوں کی عالمی تنظیم کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ ہم تمہاری یہاں ریاست بنوائیں گے، چنانچہ اس نے ساری دنیا سے یہودی سمیٹے ، فلسطین میں اکٹھے کیے اور ان کی ریاست بنوا دی۔
۱۹۱۶ء میں برطانیہ کا اور یہودیوں کا معاہدہ ہوا تھا جو ’’بالفور ڈیکلیریشن‘‘ کہلاتا ہے جس میں برطانوی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ہم یہودیوں کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں کہ وہ دنیا بھر سے واپس فلسطین میں آئیں، یہاں اپنی ریاست قائم کریں اور حکومت بنائیں۔ یہ حق تسلیم کرنے کے ساتھ وعدہ بھی کیا تھا کہ جب بھی ہمیں موقع ملا ہم اس کا راستہ ہموار کریں گے۔ چنانچہ اس معاہدے کے تحت جب پہلی جنگ عظیم کے بعد عرب ممالک کی تقسیم ہوئی ہے اور مختلف علاقوں میں کہیں اٹلی، کہیں برطانیہ، کہیں فرانس نے قبضہ جمایا ہے تو برطانیہ نے فلسطین کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور دنیا بھر سے یہودیوں کو یہاں لا کر بسانے کا عمل شروع کر دیا۔ اس زمانے میں یہودی فلسطین آتے تھے، وہاں زمین خریدتے تھے، مکان بناتے تھے اور ہدف یہ تھا کہ ہم اتنی آبادی حاصل کر لیں کہ ہم یہاں اپنی ریاست بنانے کا دعویٰ کر سکیں۔
اس وقت مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ یہودیوں کو فلسطین کی زمین بیچنا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ یہاں ریاست قائم کر کے، قبضہ کر کے بیت المقدس کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ اس فتویٰ کی حمایت میں ہمارے برصغیر کے دو بڑے بزرگوں نے بھی فتوے دیے تھے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا مستقل کتابچہ ہے جس میں انہوں نے مفتی اعظم فلسطین کے فتویٰ کی حمایت کی تھی اور مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا فتوی بھی کفایت المفتی میں موجود ہے کہ ہم اس فتویٰ کی حمایت کرتے ہیں کہ یہودیوں کو فلسطین کی زمین بیچنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہودی یہاں جگہ خرید کر برطانیہ کے سرپرستی میں یہاں بسنے لگ گئے ہیں اور ان کا ٹارگٹ یہ ہے کہ بیت المقدس پر قبضہ کرنا ہے، لیکن بات چلتی رہی اور یہودی فلسطین میں زمینیں خرید کر آباد ہوتے رہے اور اپنی آبادی بڑھاتے رہے اور ۱۹۴۸ء میں اسرائیلی ریاست قائم ہو گئی۔
فلسطین کی لڑائی پہلی جنگ عظیم کے بعد شروع ہو گئی تھی، جسے تقریباً ایک سو سال ہو گیا ہے، دوسری بات یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آزادی کی جنگیں دس بیس سال کی نہیں ہوتیں، بلکہ لمبی ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں برصغیر میں انگریز نے قبضہ کیا تو اس کے بعد ہماری جنگ آزادی کا آغاز ۱۷۵۷ء میں ہوا تھا، جب نواب سراج الدولہ نے جنگ لڑی تھی اور شہید ہو گیا تھا، پھر ٹیپو سلطان نے ۱۸۰۱ء میں جنگ لڑی تھی، اور شہید ہو گیا تھا۔ ہم نے ۱۷۵۷ء میں آزادی کی جنگ کا آغاز کیا تھا اور ہمیں ایک سو نوے سال کے بعد ۱۹۴۷ء میں آزادی حاصل ہوئی۔ اس لیے میں نے ذکر کیا کہ آزادی کی جنگیں دو چار سال کی نہیں ہوتیں، جبکہ ہم جلد بازی میں آ جاتے ہیں کہ کیوں نہیں ہو رہا ؟ خود ہماری جنگ آزادی سراج الدولہ سے قائد اعظم تک ایک سو نوے سال بنتی ہے جو ہم نے لڑی ہے اور اس کے بعد ہمیں کامیابی ملی۔ آزادی کی جنگیں لمبی ہوتی ہیں ، کبھی اس میں پسپائی ہوتی ہے، کبھی پیشرفت ہوتی ہے اور قومیں اگر آزادی سے دستبردار نہ ہوں اور ڈٹی رہیں تو بالآخر آزادی کا راستہ نکل آتا ہے۔
اس وقت فلسطینیوں کو اللہ رب العزت نے سب سے بڑا یہ اعزاز دیا ہے کہ وہ ڈٹے ہوئے ہیں کہ ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ مار کھانا شکست نہیں ہوتی، ہتھیار ڈالنا شکست ہوتی ہے۔ آزادی کے لیے قربانیاں دینا پڑتی ہیں، مار کھانا پڑتی ہے، کہیں بالاکوٹ سجتا ہے، کہیں ۱۸۵۷ء سجتا ہے، کہیں شاملی سجتا ہے، کہیں سلطان احمد کھرل لڑتا ہے، کہیں ٹیپو سلطان لڑتا ہے۔ یہ لڑنا، مرنا اور شہید ہونا شکست نہیں ہوتی ہتھیار ڈالنا شکست ہوتی ہے۔ اللہ پاک فلسطینیوں کو استقامت دیں کہ وہ اس موجودہ راؤنڈ میں تیس ہزار سے زیادہ افراد کی قربانی دے کر بھی کھڑے ہیں کہ نہیں! ہم سرنڈر نہیں ہوں گے، دستبردار نہیں ہوں گے۔ بہت سے لوگ مشورے دیتے ہیں کہ مزاحمت چھوڑ دیں، سرنڈر ہو جائیں، کیوں مر رہے ہیں؟ لیکن وہ ڈٹے ہوئے ہیں اور یہ استقامت کے ساتھ ان کا ڈٹے رہنا ہی ان کی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس استقامت کا صلہ انہیں ضرور عطا فرمائیں گے ، بیت المقدس بھی آزاد ہوگا اور فلسطینی بھی آزاد ہوں گے، ان شاء اللہ العزیز۔
(جاری ہے)