(گزشتہ سے پیوستہ)
اس حوالے سے تیسری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آخر ہم بھی مسلمان ہیں، وہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں، ہمارا بھی کوئی فرض بنتا ہے۔ اللہ رب العزت قرآن مجید میں ہمیں کہہ رہے ہیں ”ومالکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ والمستضعفین من الرجال والنساء والولدان الذین یقولون ربنا اخرجنا من ھذہ القریۃ الظالم اھلھا “ کہ ایک علاقے کے کمزور مظلوم مسلمان چیخ و پکار کر رہے ہیں، مار کھا رہے ہیں ،ذبح ہو رہے ہیں، قربانی دے رہے ہیں اور شہید ہو رہے ہیں، تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیوں نہیں لڑائی میں شریک ہوتے؟ لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بحیثیت امت مسلمہ اپنے بھائیوں کا ساتھ دیں۔ میں اللہ پاک سے دعا کیا کرتا ہوں کہ مولا کریم! فلسطینی ہمارے بھائی ہیں، یا اللہ! ہمیں بھی ان کا بھائی بنا دے، ہم ان کے بھائی نہیں بن رہے، ہم تماشائی بن کر کھڑے ہیں۔ یہ رویہ قطعاً غلط ہے، بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کا ساتھ دیں۔ بلکہ ہماری ڈبل ذمہ داری ہے، بحیثیت پاکستانی کے بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھائیں۔ پاکستانی کی حیثیت سے اس لیے کہ ہم نے پہلے دن کہہ دیا تھا، پاکستان بھی انہی دنوں میں بنا ہے اور اسرائیل بھی انہی دنوں میں بنا ہے تو قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے دو ٹوک کہا تھا کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے، ہم اس کو تسلیم نہیں کریں گے۔
ایک صاحب نے کہا کہ قائد اعظم کو مدت گزر گئی ہے، اب حالات بدل گئے ہیں، اب تسلیم کر لینا چاہیے۔ میں نے کہا جو ناجائز ولادت ہو، وہ حالات بدلنے سے جائز نہیں ہوا کرتی۔ جو ولادت ناجائز ہو وہ سو سال کے بعد بھی ناجائز ہی رہتی ہے۔ اسرائیل ناجائز بنا ہے، اور ہمیشہ ناجائز ہی رہے گا، جسے ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ پاکستانی طور پر یہ ہمارا قومی موقف چلا رہا ہے کہ ہم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں، قائد اعظم نے یہ اعلان کیا تھا ،ہم اس وقت سے تقریباً اسی اعلان پر قائم ہیں۔ پچھلے دنوں ہمارے قدم ڈانواں ڈول ہو گئے تھے، ہم تھوڑا سا لڑکھڑانے لگ گئے تھے، ہم نے ایسی باتیں کہنا شروع کر دی تھیں، اور اس وقت کے وزیراعظم صاحب نے کہا تھا کہ قائد اعظم کی بات کون سی وحی تھی جو بدل نہیں سکتی، لیکن فلسطینیوں نے تیس ہزار شہداء کی قربانی دے کر ہمارے قدم بھی روکے ہیں، کچھ اور ملکوں کے قدم بھی روکے ہیں۔ یہ بھی ان کی کامیابی ہے کہ انہوں نے دنیا کے بڑے مسلمان ملکوں کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم کو ناکام بنایا ہے۔
میں یہ بات عرض کر رہا ہوں کہ موجودہ حالات میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ پہلا کام تو حکومتوں کا ہے کہ حکمران مل بیٹھ کر سوچیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ پاکستان میں ہماری اس تحریک اور دینی مہم کی قیادت شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم فرما رہے ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں، ان کے کارکن ہیں۔ انہوں نے دو باتیں کہی ہیں، میں بھی وہی عرض کرنا چاہوں گا۔
ایک بات یہ ہے، انہوں نے کل بھی کہا ہے کہ کم از کم مسلمان حکمران مل بیٹھ کر سوچیں تو سہی کہ ہمارے بھائی مر رہے ہیں ہم نے کیا کرنا ہے؟ ہم نے کچھ کرنا بھی ہے یا نہیں ، اگر کرنا ہے تو کیا کرنا ہے؟ اگر باہم مل بیٹھیں گے تو کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں، ہماری بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ہم اکٹھے بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔
دوسری گزارش ہے کہ پاکستان کی بطور خاص ذمہ داری بنتی ہے۔ کیونکہ ہم پہلے بھی بہت سے ایسے معاملات میں شریک رہے ہیں۔ ہم دنیا کے کون سے بڑے جھگڑے میں فریق نہیں بنے؟ ہماری فوجیں کہاں کہاں نہیں گئیں؟ صومالیہ ،عراق اور بوسنیا ہر جگہ ہم جاتے رہے ہیں اور ہماری شرکت رہی ہے تو یہاں کیوں نہیں جا رہے؟ اس لیے حکمرانوں سے یہ گزارش ہے کہ ہمارا تو مزاج ہے کہ ہم ہر جگہ لڑتے ہیں، مگر یہاں کیوں قدم رکے ہوئے ہیں؟
فلسطینی بھائیوں کے حوالے سے حکومتوں کی یہ دو ذمہ داریاں ہیں۔ ایک یہ کہ ان کا ساتھ دیں اور اس سے پہلے یہ ہے کہ کم از کم مل بیٹھ کر سوچیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ جو کر سکتے ہیں وہی کریں ،لیکن سوچیں تو سہی کہ کیا کر سکتے ہیں۔
اس کے بعد دوسرے نمبر پر ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں۔ دیکھیں، دنیا بھر میں عوام ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں، امریکہ اور برطانیہ کے عوام جلوس نکال رہے ہیں، یورپ کے ملکوں کے لوگ ان کی حمایت میں سڑکوں پر آئے ہیں، لیکن ہم کیوں نہیں سامنے آتے؟ آج کی دنیا میں رائے عامہ کی حمایت بڑی مضبوط حمایت ہوتی ہے، سٹریٹ پاور آج کی دنیا کا بڑا بہت بڑا سیاسی ہتھیار ہوتا ہے۔ آج مغرب اور مشرق میں، امریکہ اور یورپ میں بڑے بڑے شہروں میں جلوس نکل رہے ہیں۔ ہمیں بھی یہ آواز بلند کر کے اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہیے اور دنیا کو بتانا چاہیے کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ اگر امریکہ کی یونیورسٹیوں کے طلبہ یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں تو ہمیں یہ اظہار کرنے میں کیا تکلیف ہوتی ہے؟ اس لیے رائے عامہ کی حمایت کی مہم اور میڈیا کی مہم کو جتنا زیادہ ہم تیز کر سکتے ہیں، ہمیں کرنا چاہیے اور اس میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔
(جاری ہے)