اس بار اسلام آباد کے سفر میں ایک درد اور ایک دلی آرزو کے بر آنے کی خوشی،دو ایسے امر تھے جو لازم و ملزوم تھے، دکھ یہ کہ اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم بیٹی پر شدید الرجی کا حملہ ہواجس سے وہ تنہا لڑ رہی تھی اورخوشی یہ کہ بیٹا عمر عبداللہ الجوزی جو کسی طور ازدواجی بندھن کے لئے تیار نہیں تھا آخر کو مان گیا اور دارالحکومت کے جڑواں شہرمیں اس کی نسبت کا اہتمام۔اسلام آباد آنا اور پھر یہاں سے واپسی محض شہر چھوڑنے کا عمل نہیں ہوتی، یہ دراصل ان آوازوں سے رخصت ہوتی ہے جو کانوں میں رہ جاتی ہیں۔ تین دن کے اس قیام میں شہرِ اقتدار نے باتیں کم کیں، اشارے زیادہ دئیے۔ یہاں ہر شخص کچھ جانتا ہے، مگر ہر بات کہنے کا موسم نہیں ہوتا۔پہلے دن کی شام ایک کوریڈور میں کھڑے ایک صاحب نے دھیمی آواز میں کہا، فیصلے ہوچکے ہیں، بس اعلان باقی ہے۔ دوسرے دن ایک سینئر صحافی کی آنکھوں میں وہ تھکن تھی جو خبر سے پہلے ضمیر کو چاٹ جاتی ہے۔ تیسرے دن ہوٹل کے ویٹر نے بل رکھتے ہوئے کہا: صاحب، اب تو دعا ہی رہ گئی ہے۔یہ تین جملے تین دنوں کی مکمل روداد تھے۔ آمد عمر بیٹے کی گاڑی پر ہوئی، واپسی پر جب بس اسلام آباد سے نکلی تو شہر پیچھے رہ گیا، مگر اس کی بیچینی میرے ساتھ چلتی رہی۔ موٹر وے کی خاموشی میں وہ سب آوازیں صاف سنائی دیتی ہیں جو دارالحکومت میں شور میں دب جاتی ہیں۔ ملتان قریب آتے آتے احساس ہوا کہ اقتدار کی لہریں شمال میں اٹھتی ہیں، مگر ان کی ٹوٹ پھوٹ جنوب میں محسوس ہوتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ اسلام آباد میں کیا پک رہا ہے، سوال یہ ہے کہ اس کی آنچ کس کس شہر تک پہنچے گی؟
اسلام آباد سے واپسی ہمیشہ ایک سادہ جغرافیائی عمل نہیں ہوتی۔ یہ شہر چھوڑنا نہیں، ایک کیفیت سے باہر نکلنا ہوتا ہے۔ تین دن کے قیام کے بعد جب میں دارالحکومت سے روانہ ہوا تو یوں لگا جیسے میں کسی ہجوم سے نہیں، سرگوشیوں کے جنگل سے نکل رہا ہوں۔ یہاں ہر آواز بلند نہیں ہوتی، مگر ہر آواز معنی خیز ضرور ہوتی ہے۔ اسلام آباد بولتا کم ہے، مگر گونجتا بہت ہے۔یہ تین دن کسی باضابطہ سیاسی دورے یا صحافتی اسائنمنٹ کا حصہ نہیں تھے، مگر پھر بھی یہ قیام ایک مکمل داستان بن گیا۔ ایسی داستان جس میں فیصلوں کی چاپ بھی تھی، خوف کی لرزش بھی اور عوامی اضطراب کی وہ مدھم چیخ بھی جو ایوانوں کی موٹی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی ہے۔پہلا دن ایک عجیب بیچینی کے ساتھ شروع ہوا۔ ہوٹل کی لابی میں بیٹھے چند مانوس چہرے تھے، سب ایک دوسرے کو جانتے تھے، مگر بات کوئی بھی کھل کر نہیں کر رہا تھا۔ جملے ادھورے، فقرے محتاط، اور مسکراہٹیں مصنوعی تھیں۔ کوئی کہہ رہا تھا، بس اب زیادہ دن نہیں، کوئی جواب میں سر ہلا کر خاموش ہو جاتا تھا۔ یہاں خاموشی بھی ایک بیان ہوتی ہے، بلکہ بعض اوقات سب سے بڑا بیان۔ دوسرے دن صحافت کی دنیا سے جڑی چند نشستیں ہوئیں۔ وہاں خبر سے زیادہ خبر کے نتائج پر گفتگو تھی۔ ایک سینئر صحافی نے آہستہ سے کہا، آج کل اصل مسئلہ خبر لکھنا نہیں، خبر بچانا ہے۔ یہ جملہ کسی کالم سے زیادہ بھاری تھا۔ اسلام آباد میں صحافت اب قلم کی نہیں، اعصاب کی جنگ بن چکی ہے۔ یہاں لکھنے والا پہلے خود کو تولتا ہے، پھر لفظوں کو۔تیسرے دن کی ملاقاتیں ایوانوں سے باہر تھیں۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور، جو پچھلے پندرہ برس سے اس شہر کی سڑکوں پر گھوم رہا ہے، اس نے کہا صاحب، یہاں سب کچھ چل رہا ہے، بس عوام نہیں چل رہے۔ اس ایک جملے میں وہ سچ تھا جو کسی پالیسی پیپر میں نہیں ملتا۔ اسلام آباد کے اصل تجزیہ کار شاید یہی لوگ ہیں، جن کی آواز فائلوں میں نہیں، دلوں میں محفوظ رہتی ہے۔اسلام آباد کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں بحران بھی مہذب انداز میں آتا ہے۔ نہ نعرے، نہ ہنگامے، بس بند کمروں کی ملاقاتیں، غیر رسمی بریفنگز، اور نامعلوم مستقبل کی آہٹ۔ یہ شہر چیختا نہیں، سرگوشی کرتا ہے، مگر اس کی سرگوشیاں پورے ملک میں سنی جاتی ہیں۔جب واپسی کا وقت آیا اور بس نے دارالحکومت کی حدود چھوڑی تو ایک بوجھ سا ہلکا ہوا، مگر آوازیں ساتھ چل پڑیں۔
موٹر وے کی خاموشی میں وہ سب باتیں صاف سنائی دیتی ہیں جو اسلام آباد کے شور میں دب جاتی ہیں۔ شمال سے جنوب کی طرف سفر کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ فیصلے اوپر ہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات نیچے تک اترتے ہیں۔راستے میں بدلتا ہوا منظرنامہ جیسے ایک استعارہ بن گیا۔ سرسبز پہاڑ پیچھے رہ گئے، میدان شروع ہوئے، اور پھر وہ مٹی نظر آئی جس کی خوشبو میں سوال رچے بسے ہیں۔ ملتان قریب آتے آتے احساس ہوا کہ دارالحکومت کی بیچینی یہاں آ کر ایک اور شکل اختیار کر لیتی ہییہاں وہ سوال بن جاتی ہے، وہاں وہ فائل ہوتی ہے۔ملتان میں لوگ پوچھتے ہیں، مہنگائی کہاں رکے گی؟ روزگار کہاں سے آئے گا؟ انصاف کب ملے گا؟اسلام آباد میں سوال کچھ اور ہوتے ہیں: بیانیہ کیا ہوگا؟ وقت کون دے گا؟ اعلان کب ہوگا؟یہی تو فرق ہے مرکز اور حاشیے کا۔ مرکز میں طاقت کی زبان بولی جاتی ہے، حاشیے پر زندگی کی۔ اسلام آباد میں سیاست ایک کھیل ہے، ملتان میں ایک مسئلہ۔ وہاں فیصلے منیج ہوتے ہیں، یہاں نتائج بھگتے جاتے ہیں۔ان تین دنوں کی سب سے بڑی سیکھ یہی تھی کہ پاکستان کو سمجھنے کے لیے صرف اسلام آباد کافی نہیں، اور اسلام آباد کو سمجھنے کے لیے پاکستان کو یاد رکھنا ضروری ہے۔ اگر دارالحکومت خود کو باقی ملک سے کاٹ لے تو اس کی سرگوشیاں آخرکار شور میں بدل جاتی ہیںاور یہ شور پھر کسی ایک شہر تک محدود نہیں رہتا۔یہ کالم کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں، نہ کسی سازش کا انکشاف۔ یہ صرف ایک سفرنامہ ہے آوازوں کا، کیفیتوں کا، اور ان سوالوں کا جو اسلام آباد میں جنم لیتے ہیں اور ملتان جیسے شہروں میں پل کر بڑے ہوتے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ اسلام آباد میں آج کیا چل رہا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کل اس کی گونج کہاں کہاں سنائی دے گی؟اور شاید اسی سوال کے ساتھ یہ سفر ختم نہیں ہوتا، شروع ہوتا ہے
بہر حال وہ رشتے جن کی مانگ
مستقبل سے وابستہ کر آئے ہیں