تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب طاقت ہولناک خوابوں کی تعبیر یں بننے لگے تو انسانیت کی نیندیں اچاٹ ہوجاتی ہیں اور وہ سوتے جاگتے اپنے مقدر پر روتی ہے۔ سلطنتِ روم سے لے کر نپولین، ہٹلر اور بش تک، ہر دور میں ایک ایسا کردار ضرور پیدا ہوا جس نے بندوق کو فلسفہ اور بم کو اخلاقیات کا متبادل سمجھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اسی تسلسل کا ایک جدید چہرہ ہے، مگر فرق یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں صرف تلوار نہیں، بٹن ہے وہ بٹن جس کے دبنے سے دنیا نقشے پر موجود نہیں رہے گی بلکہ ملبے کاروپ دھار لے گی، وہی ملبہ جس بو ہیروشیما میں آج بھی سونگھی جا سکتی ہے ۔
ٹرمپ کا ملٹری ڈریم دراصل کوئی عسکری منصوبہ نہیں، یہ ایک ذہنی کیفیت ہے۔ ایک ایسا خواب جس میں دنیا ایک شطرنج کی بساط ہے، اقوام پیادے ہیں، اور امریکہ واحد بادشاہ۔ اس خواب میں امن، انصاف یا توازن جیسے الفاظ لغت سے خارج ہو چکے ہیں۔ یہاں صرف طاقت بولتی ہے، اور طاقت بھی وہ جو گرجتی ہے، دھاڑتی ہے ،طاقت کا نشہ اور اخلاقیات کی موت ٹرمپ کے تصورِ دنیا میں ایک غیر ضروری تعیش ہے۔ وہ عالمی اداروں کو ایسے دیکھتا ہے جیسے کوئی تاجر نقصان دہ معاہدے کو دیکھتا ہے۔ اقوام متحدہ ہو یا عالمی قوانین، اس کے نزدیک سب دھول ہیں ۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سیاست، وحشت میں بدل جاتی ہے۔
جب ایک عالمی طاقت یہ مان لے کہ جنگ مسئلے کا حل ہے،خوف، امن کی ضمانت ہے‘بم دلیل سے زیادہ موثر ہے،تو پھر قیامت کسی آسمانی فیصلے کا نام نہیں رہتی، بلکہ ایک انتظامی کارروائی بن جاتی ہے۔
مشرقِ وسطی بارود پر رکھا گیا دیا ہے ، ٹرمپ کے ملٹری ڈریم کی پہلی تجربہ گاہ مشرقِ وسطی ہے۔ یہ خطہ اس کے لیے انسانی تہذیب نہیں، اسٹریٹجک جغرافیہ ہے۔ ایران کو دیوار سے لگانا، اسرائیل کو کھلی چھوٹ دینا، عرب ریاستوں کو اسلحے کا خریدار بنانا ۔ یہ سب کسی ایک ملک کی پالیسی نہیں، ایک پوری تہذیبی بے حسی کا شاخسانہ ہے۔
اگر ایران پر براہِ راست حملہ ہوا تو یہ جنگ ایران تک محدود نہیں رہے گی،آبنائے ہرمز بند ہوسکتی ہے،تیل عالمی سیاست کو یرغمال بنالے گا،مہنگائی، بھوک اور بے روزگاری عالمی سطح پر انسانیت کا المیہ بن جائے گی
یہ وہ قیامت ہے جو بغیر صور کے برپا ہوگی۔ایٹمی ہتھیار ، آخری دلیل یا آخری غلطی ثابت ہوں گے۔ ٹرمپ کی سوچ کا سب سے خطرناک پہلو نیوکلیئر ہتھیاروں کے بارے میں اس کا رویہ ہے۔ وہ انہیں قابلِ استعمال سمجھتا ہے۔ نیوکلیئر معاہدوں سے نکلنا، اسلحہ کنٹرول کو مذاق سمجھنا، اور Limited Nuclear War جیسے تصورات کو قابلِ قبول بنانا ، یہ سب اس ذہن کی علامات ہیں جو تباہی کو نظم و ضبط میں ڈھالنا چاہتا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ایٹمی جنگ ہوگی یا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ غلطی کی گنجائش صفر رہ جائے گی ۔ ایک غلط اندازہ، ایک غلط انٹیلی جنس رپورٹ، ایک جذباتی فیصلہ اور پھر تاریخ لکھنے والا کوئی نہیں بچے گا۔
پاکستانی تناظر میں تلاش کریں توخاموش تماشائی یا اگلا ہدف؟
پاکستان جیسی ریاستوں کے لیے ٹرمپ کا ملٹری ڈریم خاص طور پر خطرناک ہے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم کبھی فرنٹ لائن اتحادی بنائے گئے، کبھی مشکوک ساتھی، کبھی بوجھ، اور کبھی محض Collateral Space۔
ٹرمپ کی نظر میں ریاستیں مستقل دوست نہیں ہوتیں ‘مفاد بدلتے ہی تعلق ختم ہو جاتا ہے،جغرافیہ، انسانوں سے زیادہ قیمتی ہے۔پاکستان ایک ایٹمی ریاست ایک حساس خطے میں واقع۔
چین کے قریب مسلم دنیا کا حصہ یہ سب عوامل ہمیں خود بخود اس بساط پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں فیصلے ہم نہیں کرتے، ہم پر کیے جاتے ہیں۔
عالمی اداروں کی موت اور جنگل کا قانون ٹرمپ ازم کا سب سے تباہ کن ہدف ہے کہ یہ دنیا کو دوبارہ جنگل کے قانون میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ جہاں طاقتور صحیح ، کمزور غلط ،قانون محض طاقت کا خادم ہو،یہ وہی دنیا ہے جس نے پہلی اور دوسری عالمی جنگ دیکھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار ہتھیار زیادہ تیز، تباہی زیادہ مکمل، اور انسان زیادہ بے بس ہوں گے ۔
اصل خطرہ ایک فرد نہیں، ایک سوچ ہوگی ،یہ سمجھنا سادہ لوحی ہوگی کہ مسئلہ صرف ٹرمپ ہے۔ اصل مسئلہ Trumpism ہے ۔ وہ سوچ جو طاقت کو اخلاقیات پر ترجیح دیتی ہے،خوف کو حکمرانی کا آلہ بناتی ہے،انسان کو محض اعداد و شمار سمجھتی ہے،یہ سوچ اگر غالب آئی تو جنگ ایک حادثہ نہیں رہے گی بلکہ پالیسی بن جائے گی۔آخرمیں خواب کی تعبیر یا انسانیت کی شکست باقی رہ جائے گی ۔
ہر دور کا ایک خواب ہوتا ہے۔ کچھ خواب انسان کو آسمان تک لے جاتے ہیں، اور کچھ زمین کے نیچے۔ ٹرمپ کا ملٹری ڈریم دوسرے قسم کا خواب ہے ، ایک ایسا خواب جو اگر تعبیر پا گیا تو کسی ایک ملک کی فتح نہیں ہوگی، بلکہ انسانی تہذیب کی اجتماعی شکست ہوگی۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے اب سوال یہ نہیں کہ دنیا کہاں جا رہی ہے؟
سوال یہ ہے کہ: کیا ہم اس سفر میں اپنی عقل، خودمختاری اور انسانیت بچا پائیں گے؟
کیونکہ تاریخ بتاتی ہے جب طاقت خواب دیکھتی ہے،تو کمزور قوموں کو نیند نہیں آتی۔