Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

ملتان کا سیاسی و سماجی مقدمہ: مسلم لیگ(ن) کے ادوار میں

ایک نظرانداز شدہ خطہ‘ ملتان صرف ایک قدیم شہر نہیں، ایک تاریخی شکوہ ہے۔ یہ شکوہ کبھی درباروں کی سیڑھیوں پر سسکتا ہے، کبھی انتخابی وعدوں کی فائلوں میں دب جاتا ہے، اور کبھی ترقیاتی منصوبوں کے نقشوں میں جنوب کی طرف جاتے جاتے غائب ہو جاتا ہے۔ ملتان کا سیاسی و سماجی مقدمہ دراصل پورے جنوبی پنجاب کا مقدمہ ہے، اور اگر اسے مسلم لیگ(ن)کے طویل حاکمیتی ادوار کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ مقدمہ مزید واضح، مگر زیادہ تلخ ہو جاتا ہے۔
مسلم لیگ(ن) نے پنجاب پر طویل عرصہ حکومت کی بار بار،یہاں تک کہ اب بھی جہاں پورا ملک اس کی نامضبوط گرفت میں بلکہ جنوبی پنجاب کی تقدیر کے فیصلے بھی مسلم لیگ ن کے رحم و کرم پر ہیں ۔ نام نہاد مکمل مینڈیٹ کے ساتھ، مضبوط مرکزیت کے ذریعے۔ لیکن اس طویل حکمرانی میں ملتان ہمیشہ ایک ووٹ بینک رہا، کبھی ترقیاتی ترجیح نہیں بن سکا۔ یہاں سے نشستیں لی گئیں، نمائندے بنائے گئے، مگر شہر کو وہ سیاسی توجہ نہ ملی جو لاہور، گوجرانوالہ یا وسطی پنجاب کا مقدر بنی۔
سیاسی طور پر ملتان کو ہمیشہ ایک ایسے خطے کے طور پر دیکھا گیا جو شفقت سے سراسر محروم ہے ہے۔ یہاں بڑے صنعتی منصوبے نہیں لگے، اعلیٰ تعلیمی ادارے محدود رہے، اور صحت کے شعبے میں جو پیش رفت ہوئی وہ زیادہ تر فردِ واحد کی کاوش یا وفاقی دبا کا نتیجہ تھی، نہ کہ صوبائی ترجیح کا۔ نشتر ہسپتال کی مثال لیجیے یہ ادارہ پورے جنوبی پنجاب کا بوجھ اٹھاتا ہے، مگر بجٹ، توجہ اور اپ گریڈیشن کے معاملے میں ہمیشہ دوسرے درجے پر رہا۔
مسلم لیگ(ن)کے ترقیاتی ماڈل کی بنیاد مرکزیت پر تھی۔ ترقی وہیں گئی جہاں اقتدار کی سیاست تھی۔ موٹر ویز، میٹروز، اورنج لائن یہ سب علامتیں ہیں، مگر یہ علامتیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ ترقی کو کس جغرافیے میں قید رکھا گیا۔ ملتان کو اگر کچھ ملا تو وہ وعدے تھے،جنوبی پنجاب صوبہ، سیکرٹریٹ، خصوصی پیکج۔ یہ وعدے ہر الیکشن میں دہرائے گئے، مگر عملی شکل کبھی مکمل نہ ہو سکی۔
سماجی سطح پر بھی ملتان ایک دوہری محرومی کا شکار رہا۔ ایک طرف غربت، بیروزگاری اور تعلیمی پسماندگی ، دوسری طرف ثقافتی اورفکری بیتوجہی۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں صوفی روایت، رواداری اور تہذیبی گہرائی موجود ہے، مگر ریاستی بیانیے میں اس کی نمائندگی ہر دور میں کمزور رہی۔ مسلم لیگ (ن)کی سیاست شہری متوسط طبقے اور صنعت کار بیلٹ کے گرد گھومتی رہی، جبکہ ملتان جیسے شہروں کی سماجی ساخت اس سیاست کے حاشیے پر چلی گئی۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مسلم لیگ(ن) کے دور میں ملتان کو انتخابی ضرورت کے طور پر دیکھا گیا، پالیسی یونٹ کے طور پر نہیں۔ یہاں کے منتخب نمائندے اکثر پارٹی نظم و ضبط کے اسیر رہے، شہر کے وکیل کم اور مرکز کے ترجمان زیادہ بنے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مقامی مسائل پانی، سیوریج، روزگار، زراعت، صحت ، فائلوں میں تو درج رہے، مگر ترجیحی فہرست میں شامل نہ ہو سکے۔
جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ ملتان کے سیاسی مقدمے کا مرکزی نکتہ تھا مگر مسلم لیگ (ن) نے اس مطالبے کو کبھی مکمل رد نہیں کیا ، مگر کبھی سنجیدگی سے قبول بھی نہیں کیا۔ اسے ایک انتخابی نعرے کے طور پر استعمال کیا جاتارہا،ایسا نعرہ جو ہر بار اقتدار کے بعد کسی اور کمیٹی، کسی اور جائزے کے سپرد کر دیا گیا۔ یہ رویہ ملتان کے اجتماعی شعور میں ایک مستقل بداعتمادی کا پیش خیمہ رہا ،یہی بداعتمادی بعد ازاں سیاسی ردعمل میں بدلی۔ یہی وجہ ہے کہ ملتان اور جنوبی پنجاب میں ووٹر نے وقتا فوقتا متبادل قوتوں کی طرف دیکھا۔ یہ تبدیلی کسی نظریاتی انقلاب کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل نظرانداز کیے جانے کا ردعمل ہے۔ جب مرکز سننے سے انکار ی رہے تو حاشیہ آواز بلند کرتا ہے اور کبھی کبھی سمت بھی بدل لیتا ہے۔
ملتان کا مقدمہ صرف سڑکوں، پلوں یا عمارتوں کا نہیں۔ یہ انصاف اور مقدم و غیر مقدم کا مقدمہ ہے۔ یہ سوال کہ کیا ریاست اپنے تمام شہریوں کو یکساں دیکھتی ہے؟ مسلم لیگ(ن) کے ادوار میں یہ سوال بار بار اٹھا، مگر اس کا جواب زیادہ تر خاموشی رہا۔
آج بھی ملتان وہیں کھڑا ہے ، مستقبل کی امید کے ساتھ۔ سوال یہ نہیں کہ مسلم لیگ(ن) نے کچھ کیا یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو کچھ کیا، کیا وہ اس شہر کی ضرورت کے مطابق تھا؟ کیا اسے شراکت دار سمجھا گیا یا محض ووٹ دینے والا خطہ؟
جب تک ملتان کو محض انتخابی جغرافیہ سمجھا جاتا رہے گا، اس کا مقدمہ زندہ رہے گا۔اور جو مقدمے وقت پر نہیں سنے جاتے، وہ تاریخ میں فیصلے خود لکھ لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں