قوموں کی تاریخ میں کچھ ادوار ایسے ہوتے ہیں جب الفاظ کم اور فیصلے زیادہ بولتے ہیں۔جب ریاستی نظام کی سمت کا تعین تقریروں سے نہیں بلکہ خاموش مگر مسلسل اصلاحات سے ہوتا ہے۔یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے معاشی امکانات، کاروباری اعتماد اور قومی وقار کی بنیاد رکھتے ہیں۔ پاکستان بھی ایک طویل عرصے تک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا رہا جہاں کاروبار شروع کرنا ایک آزمائش، سرمایہ کاری ایک امتحان اور ریاستی اداروں سے واسطہ رکھنا ایک نہ ختم ہونے والا صبر آزما مرحلہ سمجھا جاتا تھا۔ فائلوں کی گرد، دفاتر کے چکر، غیر واضح قوانین، انسانی مداخلت اور تاخیر نے نجی شعبے کو کمزور اور غیر رسمی معیشت کو مضبوط کیا اور نتیجتاً نہ صرف قومی معیشت کا ڈھانچہ متاثر ہوا بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی دیوار بھی بلند ہوتی چلی گئی۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) کا تازہ اعلامیہ اسی بدلی ہوئی سمت کا عکاس ہے جو یہ بتاتا ہے کہ اگر ادارے وژن، ٹیکنالوجی اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھیں تو کاروباری ماحول میں حقیقی بہتری ممکن ہے۔ ڈیجیٹل اور انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں کمپنی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ، کاروباری شفافیت میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی محض خوش آئند اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک گہری ادارہ جاتی انقلابی تبدیلی کی علامت ہیں۔سال 2020 کے مقابلے میں کمپنی رجسٹریشن میں 51 فیصد اضافہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ کاروباری طبقہ اب ریاستی نظام کو ایک حد تک سہولت کار سمجھنے لگا ہے۔ مالی سال 2024/25 کے دوران 35,087 نئی کمپنیوں کا اندراج جبکہ گزشتہ سال 27,542 کمپنیوں کی رجسٹریشن اس تسلسل کی غمازی کرتی ہے کہ اصلاحات وقتی مہم نہیں بلکہ ایک منظم عمل کا حصہ ہیں۔ رواں مالی سال میں جولائی تا دسمبر 2025 ء کے صرف چھ ماہ میں 21,542 کمپنیوں کا رجسٹر ہونا اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ کاروبار شروع کرنے کے عمل میں جو آسانیاں پیدا کی گئی ہیں وہ محض دعوؤں تک محدود نہیں رہیں بلکہ زمینی حقیقت بن چکی ہیں۔ اس تبدیلی کی بنیاد کمپنی رجسٹریشن کے عمل کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن ہے جس کے تحت سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی )نے ای زی فائل جیسے جدید اور مربوط آن لائن نظام کو متعارف کروایا ہے۔ اس نظام کے ذریعے 99.9 فیصد کمپنیوں کا اندراج مکمل طور پر آن لائن ممکن ہوا ہے۔جو نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے کئی ممالک کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ ای زی فائل نظام کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ای او بی آئی اور صوبائی محکموں سمیت مختلف اداروں سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس مربوط نظام کے نتیجے میں مختلف دفاتر کے چکر، غیر ضروری کاغذی کارروائیاں، انسانی مداخلت، وقت کا ضیاع اور اضافی اخراجات بڑی حد تک کم ہو گئے ہیں ۔حکومت کے ون ونڈونظام کے ساتھ انضمام کے بعد اندراج کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔ یہی وہ عملی اصلاحات ہیں جو کاروباری ماحول کو واقعی دوستانہ بناتی ہیں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو رسمی معیشت میں داخل ہونے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔انہی اصلاحات کے اعتراف میں قومی ریگولیٹری اصلاحات کے اجرا ء کے موقع پر وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی جانب سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) کو‘‘ریفارمز چیمپئن’’کا اعزاز دیا جانا اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ادارہ محض پالیسیاں نہیں بنا رہا بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد بھی یقینی بنا رہا ہے۔عالمی سطح پر بھی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی )کے اقدامات کو پذیرائی ملنا پاکستان کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ورلڈ بینک کی بزنس ریڈی 2024 رپورٹ میں کاروبار کے آغاز کے اشاریے میں 50 ممالک میں پاکستان کا چھٹا نمبر حاصل کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی ادارے بھی ان اصلاحات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ اسی طرح آئی ایف سی کے سروے میں گورنمنٹ ٹو بزنس ڈیجیٹل سروسز اور آئی ٹی کے حوالے سے 65 وفاقی ریگولیٹری اداروں میںسیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) کا سرفہرست قرار دیا جانا ادارے کی تکنیکی استعداد، ڈیجیٹل وژن اور انتظامی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے، مگر یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ عالمی درجہ بندیاں کسی بھی ملک کے لیے منزل نہیں بلکہ ایک آئینہ ہوتی ہیں جو یہ دکھاتی ہیں کہ سمت درست ہے یا نہیں۔
اصل کامیابی تب ہوتی ہے جب یہ اصلاحات عام کاروباری فرد، چھوٹے سرمایہ کار اور نئے انٹرپرینیور کی زندگی میں عملی آسانی پیدا کریں۔اس تناظر میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) کی جانب سے شفافیت اور کارپوریٹ گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔کمپنیوں پر انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز کے مطابق مالیاتی رپورٹنگ اور تفصیلی انکشافات کو لازمی قرار دینا ایک ایسا قدم ہے جو نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھاتا ہے بلکہ کارپوریٹ شعبے میں احتساب کی ثقافت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اسی طرح اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے فریم ورک کو مضبوط بنانا، کارپوریٹ الٹی میٹ بینیفیشل اونر رجسٹری کا قیام اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف )کے معیارات کے مطابق رسک بیسڈ نگرانی کا نظام متعارف کرانا اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان عالمی مالیاتی ذمہ داریوں کو محض کاغذی تقاضے نہیں بلکہ قومی مفاد کا حصہ سمجھ کر نافذ کر رہا ہے۔یہ وہ اقدامات ہیں جو ایک طرف غیر قانونی سرمائے اور مالی بدعنوانی کے دروازے بند کرتے ہیں تو دوسری طرف جائز اور شفاف سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں۔آج جب پاکستان کو شدید معاشی دباؤ، قرضوں کے بوجھ، عالمی منڈیوں میں سخت مسابقت اور اندرونی بداعتمادی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے تو ایسے میں ریاستی اداروں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ایک طرف کاروبار میں آسانی پیدا کرنا اور دوسری طرف قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) کی ٹیکنالوجی پر مبنی جدید ریگولیٹری اصلاحات یقیناً درست سمت میں قدم ہیںمگر ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ اصلاحات سیاسی مداخلت، اشرافیہ کے دباؤ اور ادارہ جاتی کمزوریوں سے بالاتر رہ کر تسلسل کے ساتھ نافذ کی جائیں۔ پاکستان کی معیشت کو اب محض وقتی سہولتوں نہیں بلکہ پائیدار، منصفانہ اور شفاف نظام کی ضرورت ہے جہاں کاروبار کرنا آسان بھی ہو اور ذمہ دار بھی۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) کا یہ عزم کہ وہ ٹیکنالوجی پر مبنی جدید ریگولیٹری نظام کے ذریعے کاروبار میں آسانی، شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھے گا، دراصل اسی امید کا استعارہ ہے جو ایک طویل عرصے بعد پاکستانی معیشت کے افق پر روشن ہوتادکھائی دے رہا ہے اور یہی وہ امید ہے جو اگر برقرار رہی تو ریاستی ادارے محض نگران نہیں بلکہ قومی ترقی کے حقیقی معمار بن سکتے ہیں۔