ایک وقت تھا جب دنیا کی معیشت ایک ہی سورج کے گرد گھومتی تھی، اور اس سورج کا نام امریکہ تھا۔ ڈالر عالمی معیشت کی زبان تھا، تیل اس کا لہجہ اور عالمی ادارے اس کی آواز۔ مگر تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ اب وہی امریکہ اپنی چیخیں خود سن رہا ہے، اور یہ چیخیں کسی جنگی محاذ سے نہیں بلکہ انرجی، تجارت اور ٹیکنالوجی کے محاذ سے اٹھ رہی ہیں۔ اور اس خاموش مگر کاری وار کے پیچھے ایک نام ہے دنیا کی عظیم معیشت چین جس نے ایک گمبھیر خاموشی کے ساتھ امریکہ کا گھمنڈ پل بھر میں توڑ کے رکھ دیا ہے ۔یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہو کہ چین نے امریکہ کی معیشت کا ناطقہ ایک ہی ضرب میں نہیں بلکہ مسلسل، صبر آزما اور حکمت سے بھرپور حملوں سے تنگ کیا ہے۔ نہ توپ، نہ ٹینک، نہ میزائل صرف مارکیٹ، سپلائی چین، انرجی کنٹرول اور اسٹریٹجک سرمایہ کاری۔ یہی وہ جدید جنگ ہے جس میں چیخیں سنائی دیتی ہیں مگر لاشیں نظر نہیں آتیں۔چین نے لوہا گرم دیکھ کر ایسی چوٹ لگا ئی ہے کہ ایک بار تو پوری یورپی دنیا کی آنکھیں پھٹی رہ گئی ہیں ۔ امریکہ جو خود کو انرجی کے میدان میں خود کفیل سمجھتا رہا ہے شیل آئل، شیل گیس، اور توانائی کی مبینہ آزادی ،یہ سب بیانیے اب کاغذی ثابت ہو رہے ہیں۔ چین نے جس خاموشی سے انرجی سپلائی چین پر گرفت مضبوط کی ہے، وہ امریکی پالیسی سازوں کے لیے ایک بھیانک خواب بن چکی ہے۔لیتھیم، کوبالٹ، نِکل ، یہ وہ معدنیات ہیں جن کے بغیر جدید دنیا کی گاڑی نہیں چلتی۔
الیکٹرک وہیکلز، بیٹری اسٹوریج، گرین انرجی ، سب کا دارومدار انہی پر ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان معدنیات کی ریفائننگ کا 60 سے 80فیصد کنٹرول چین کی دسترس میں ہے۔امریکہ چاہے جتنے الیکٹرک خواب دیکھ لے، بیٹری کی چابی بیجنگ کے ہاتھ میں ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں امریکہ کی چیخیں نکلتی ہیں کیونکہ جنگ اب تیل کے کنوں سے نکل کر معدنی کانوں اور فیکٹریوں تک آ چکی ہے۔ڈالر کی اجارہ داری کے سامنے چین ایک شیشہ پلائی ہوئی دیوار بن گیا ہے وہ ڈالر جو صرف کرنسی نہیں، امریکہ کا سب سے طاقتور ہتھیار رہا ہے۔ پابندیاں، بلیک لسٹ، سوئفٹ سسٹم ،سب ڈالر کے حصار میں کام کرتے ہیں۔ مگر چین نے اس اجارہ داری کو بھی آہستہ آہستہ چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔یوان میں تیل کی تجارت، روس، ایران اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ کرنسی معاہدے، برکس کی وسعت ، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ دنیا اب ڈالر سے تھکنے لگی ہے۔ امریکہ کو اصل تکلیف یہاں ہو رہی ہے، کیونکہ جب کرنسی کمزور ہوتی ہے تو سلطنتوں پر بھی لرزہ طاری ہو جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی تھنک ٹینکس میں آج سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوع چین کی فوج نہیں بلکہ چین کی معیشت ہے۔ٹیکنالوجی پابندیاں یا اعترافِ شکست یہ تو آنے والا وقت ہی طے کرے گا تاہم امریکہ نے چین پر سیمی کنڈکٹرز، چپس اور جدید ٹیکنالوجی کی پابندیاں لگائیں۔ بظاہر یہ طاقت کا مظاہرہ تھا، مگر درحقیقت یہ خوف کا اظہار تھا۔ امریکہ جانتا ہے کہ اگر چین نے ٹیکنالوجی میں خود کفالت حاصل کر لی تو امریکی برتری محض ایک داستان بن جائے گی۔اہم بات یہ ہے کہ انہیں پابندیوں نے ہی چین کو مزید اعتماد بخشا اور وہ کمزور ہونے نے کی بجائے خودکو مزید طاقتور بناتا چلا گیا۔
آج چین اپنی چپس، اپنے آپریٹنگ سسٹمز، اور اپنی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔امریکہ چیخ رہا ہے کیونکہ اس کے ہتھیار اب الٹے پڑ رہے ہیں۔افریقہ، لاطینی امریکہ، ایشیاء یہ وہ خطے ہیں جہاں امریکہ کی زبان حکم کا درجہ رکھتی تھی، مگر چین کی زبان نے سرمایہ، انفراسٹرکچر اور بغیر وعظ کے شراکت کی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ محض سڑکوں کا جال نہیں بلکہ ایک متبادل عالمی تصور ہے۔امریکہ یہاں بھی چیختا ہے کہ چین قرض کے جال بچھا رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ نے دہائیوں تک ان خطوں کو صرف امداد کے وعدوں اور آئی ایم ایف کی شرائط کے سوا کچھ نہ دیا، تو چین کی پیشکش فطری طور پر پرکشش کیوں نہ ہو؟چیخیں کیوں نکل رہی ہیں؟اصل مسئلہ یہ نہیں کہ چین طاقتور ہو رہا ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ کمزور ہو رہا ہے اندر سے۔قرضوں کا پہاڑ، سیاسی انتشار، سرمایہ دارانہ عدم مساوات، اور صنعتی زوال ، یہ سب چیخوں کی اصل وجہ ہیں۔ چین تو صرف آئینہ دکھا رہا ہے۔یہ وہی امریکہ ہے جو دنیا کو بھاشن دیتا تھا، آج خود اپنی فیکٹریاں واپس لانے کے نعرے لگا رہا ہے۔ جو آزاد منڈی کا علمبردار تھا، آج سبسڈیز اور تحفظ مانگ رہا ہے۔ اسے باور کرنا چاہیئے کہ اب ایک نئی دنیا کی جنم لے چکی ہے۔
ہم ایک کثیر القطبی دنیا کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ یہ دنیا نہ مکمل طور پر چینی ہو گی، نہ امریکی۔ مگر ایک بات طے ہے: امریکہ اب اکیلا فیصلہ ساز نہیں رہا۔چین نے بندوق نہیں اٹھائی، اس نے معاشی صبر سے کام لیا۔ اور شاید یہی سب سے خطرناک ہتھیار ہوتا ہے ،وہ جو چیخوں کے بغیر دشمن کو تھکا دیتا ہے ۔آنے والے برسوں میں یہ چیخیں مزید تیز ہوں گی، کیونکہ جب سلطنتیں زوال پذیر ہوتی ہیں تو یوں سب سے پہلے آوازیں ہست ہونے لگتی ہیں اور رفتہ رفتہ یہ آوازیں چیخوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں اور چیخیں ہمیشہ بڑے زوال کی علامت ہوتی ہیں،بلندی کے پستی کی طرف گرنے کی صدائیں جو کبھی کبھی بالکل ان سنی رہ جاتی ہیں ۔