موجودہ تناظر میں عالمی طور پر ہمارا سب سے بڑا ٹکراؤ یہود سے ہے، تو آج ان کے حوالے سے بات ہوگی۔ یہودیت اس وقت تعداد کے لحاظ سے کوئی بڑا مذہب نہیں ہے تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہیں۔لیکن اثر و رسوخ کے اعتبار سے، عالمی نظام میں مداخلت کے اعتبار سے، میڈیا اور معیشت پر کنٹرول کے حوالے سے یہودی اس وقت طاقتور ترین قوم ہیں۔ یہودیت کو سمجھنا اور پہچاننا ہمارے لیے بہت سے حوالوں سے ضروری ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ نسلی مذہب ہے، حضرت یعقوبؑ کی اولاد سے ہیں، بنی اسرائیل کہلاتے ہیں، اور نسلی تفاخر کی بنیاد پر اپنے نسلی دائرے سے باہر نہیں نکلتے۔ ”نحن ابناء اللّٰہ واحباۂ“ (المائدہ ۱۸) جو قرآن کریم نے ان کے بارے میں کہا تھا وہ آج بھی ان کے عقائد اور ان کی نفسیات میں موجود ہے کہ ہم برتر قوم اور برتر نسل ہیں اور ہمیں دنیا پر حکمرانی کا حق حاصل ہے۔
بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ یہود کا ایک دور وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے جہانوں پر ان کی برتری کا اعلان فرمایا۔ ”وانی فضلتکم علی العالمین“ (البقرہ ۴۷) کہ اپنے دور میں تمام جہانوں پر اور تمام دنیا پر ان کو برتری حاصل تھی۔ بالاتری بھی حاصل تھی اور فضیلت بھی حاصل تھی۔ اس دور میں حضرت سلیمانؑ کی حکومت ”اسرائیل“ کہلاتی تھی، جس کے بارے میں خود حضرت سلیمانؓ نے فرمایا تھا ”قال رب اغفرلی وھب لی ملکاً لاینبغی لاحد من بعدی“ (ص ۳۵)۔ اس کا دائرہ ان کے دور میں جو تھا وہ آج کے یہودیوں کے نزدیک گریٹر اسرائیل (عظیم تر اسرائیل) کہلاتا ہے۔ آج کے یہود کا ٹارگٹ اور نظریہ یہ ہے کہ ہم نے حضرت سلیمانؑ کے دور کا اسرائیل واپس لینا ہے، بحال کرنا ہے۔ گریٹر اسرائیل کا نقشہ نیٹ پر موجود ہے۔ ایک سانپ کی شکل میں سرحد کے ساتھ اس علاقے کو گھیرا ہوا ہے جس کو وہ گریٹر اسرائیل میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں مصر، سوڈان، عراق، اردن اور فلسطین اور سعودیہ آدھا شامل ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سے وہ سرحد گزرتی ہے۔ مدینہ پر ان کا دعویٰ ہے، جبکہ مکہ ان کے دعوے سے خارج ہے۔
یہود کا کہنا یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہمیں مدینہ سے نکالا تھا۔ بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ، تینوں قبیلوں کو۔ اور خیبر میں ہماری حکومت تھی، مسلمانوں نے جنگ کے ذریعے ہمیں وہاں سے نکالا۔ یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں کا خیبر پر قبضہ ہوااوراس وقت یہودیوں نے مزارع کے طور پرخیبر میں رہنے کی اجازت مانگی، حضورؐ نےاجازت دےدی، پھر حضرت عمرؓ کےدورخلافت میں انہیں خیبر سےجلاوطن کردیاگیا۔ یہود کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے ہمیں مدینہ اورخیبر سے نکالا تھا اس لیےخیبر بھی ہمارا حصہ ہے اور مدینہ بھی ہمارا حصہ ہے۔ چنانچہ گریٹر اسرائیل کے نقشے میں مدینہ منورہ اور خیبر شامل ہیں۔ اور یہ ان کا اصل ٹارگٹ ہے کہ ہم نے قدیمی اسرائیل بحال کرنا ہے۔
قرآن کریم نے ان کےعروج کادور بھی بیان فرمایا ہے۔ حضرت یعقوبؑ کا دور، حضرت یوسفؑ کی بادشاہت، پھرحضرت موسٰیؑ کےذریعےان کی بادشاہت کی بحالی، بنی اسرائیل کا فرعون کے ظلم سے نجات حاصل کرنا، اور یوشع بن نونؑ کی قیادت میں بیت المقدس فتح کر کے اس کو دوبارہ اپنی ریاست بنانا، پھر حضرت طالوتؑ اورجالوت کی جنگ کا بھی قرآن کریم نے ذکر کیا ہے۔ اس جنگ میں ان کی فتح کے بعد حضرت داؤدؑ کی بادشاہت قائم ہوئی تھی، انہیں حضرت طالوتؑ نےاپناجانشین بنایا تھا اور داماد بھی بنایا تھا۔ دوبارہ ریاست قائم ہوئی اورحضرت داؤدؑ کو اللہ تعالیٰ نے یہ ٹائٹل بھی دیا ”یا داوود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق“ (ص ۲۶)۔ پھر حضرت داؤدؑ کی جانشینی حضرت سلیمانؑ کے حصہ میں آئی، اور وہ پھر عظیم تر سلطنت بنی جن کے سامنے یمن کی ملکہ سبا نے بھی سرنڈر کیا۔ یہ تو بنی اسرائیل کے عروج کا دور تھا، غلبے کا دور تھا، فضیلت کا دور تھا، قرآن کریم کہتا ہے ”وانی فضلتکم علی العالمین“ (البقرہ ۴۷)۔
اس کے بعد یہود کے زوال کا دور شروع ہوا۔ ان کے زوال کےدور کا پہلا مرحلہ ہے جب حضرت عیسٰیؑ کی ولادت سے پہلے کے دور میں بخت نصر نے، جو بابل (عراق) کا حکمران تھا، اس نے یروشلم پر (بیت المقدس اور یروشلم ایک ہی شہر کے دو نام ہیں) پر حملہ کیا اور یہودیوں کا قتل عام کیا۔ ان کا عبادت خانہ ہیکل سلیمانی تباہ و برباد کر دیا، جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا۔ جتنے لوگ قتل کر سکا قتل کیے، باقیوں کو لے گیا اور عراق میں قیدی بنا لیا۔ اور یہی بستی ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ”او کالذی مر علٰی قریۃ وھی خاویۃ علٰی عروشھا“ (البقرہ ۲۵۹) میں آیا ہے۔ پھر حضرت عزیر ؑ کی برکت سے ان کے ذریعے اس کی بحالی کا اہتمام کیا۔ ایران کے بادشاہ نے عراق کے خلاف ان کی مدد کی۔ اس وقت یہ دوبارہ بحال ہوئے اور یروشلم ان کے قبضے میں آیا۔ بیت المقدس دوبارہ تعمیر کیا، اپنے عبادت گاہ ہیکل سلیمانی دوبارہ تعمیر کیا۔ ان کی ریاست پھر ترقی پر آ گئی۔ اس کے بعد حضرت زکریاؑ اور حضرت یحیٰیؑ ان میں ہی نبی گزرے۔ ”اتیناھم الکتاب والحکم والنبوۃ“ (الانعام ۸۹) اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تین کتابیں بھی عطا فرمائیں۔ ”وجعلکم ملوکا“ (المائدہ ۲۰) ان کو بادشاہت دی اور حکومت بھی دی۔ یہ ان کا حق کا دور تھا، عروج کا دور تھا، اور دنیا پر ان کی دنیوی و دینی ہر اعتبار سے برتری کا دور تھا۔
حضرت عیسٰیؑ کے زمانے تک ان دور چلتا رہا۔ حضرت عیسٰیؑ نے جب اپنی نبوت اور وحی کا اعلان کیا تو یہود دو حصوں میں بٹ گئے، ایک حصہ ایمان لایا اور دوسرے حصے نے انکار کر دیا۔ اکثریت انکار کرنے والوں کی تھی، ایمان لانے والے تھوڑے تھے۔ حضرت عیسٰیؑ ان کے جبر کا شکار ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا۔ یہ انہیں قتل نہیں کرسکے ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولٰکن شبہ لھم“ (النساء ۱۵۷)۔ لیکن باقی مسیحی ان کے جبر کا شکار رہے، حتیٰ کہ روم عیسائیوں کے قبضے میں آ گیا اور بادشاہ طیطس رومی نے یروشلم پر حملہ کیا اور اسے یہودیوں سے چھین لیا، اس طرح یہ عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ طیطس رومی نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے ہیکل سلیمانی کو جڑ سے اکھاڑ دیا، موجود یہودی قتل کر دیے، باقیوں کو جلاوطن کر دیا اور یہودیوں کا داخلہ وہاں بند کر دیا۔ طیطس رومی کے زمانے سے حضرت عمرؓ کی خلافت تک یہ کیفیت رہی کہ قبضہ عیسائیوں کا تھا، وہی سارا نظام چلا رہے تھے، یہودیوں کا وہاں آنے جانے کا کوئی امکان نہیں تھا اور وہ دنیا بھر میں بکھرے ہوئے تھے۔
پھر حضرت عمرؓ کے زمانے میں مسلمانوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہوا۔ بیت المقدس کی اپنی تاریخ ہے، میں صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ مسلمانوں نے بیت المقدس عیسائیوں سے لیا تھا، پھر عیسائیوں نے ہم سے چھین لیا، نوے سال عیسائیوں کے پاس رہا، پھر صلاح الدین ایوبیؒ نے بیت المقدس کو آزاد کروایا۔ جب طیطس رومی نے یہودیوں کو بیت المقدس سے نکالا، یہودیوں کا اس وقت سے لے کر آج سے تقریباً ایک صدی پہلے تک بیت المقدس سے کوئی تعلق نہیں تھا، یہ دنیا بھر میں بکھرے ہوئے تھے۔
(جاری ہے )