16 جنوری 2026ء جمعہ کے دن قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اراکین اسمبلی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے سائبر کرائم بالخصوص مالیاتی فراڈ کے متعلق مختلف سوالات کررہے تھے کہ اسی دوران پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ایم این اے شہریار آفریدی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے ایک ایسا سوال پوچھا کہ جو سوشل میڈیا کے ذریعے مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کو مبینہ طور پر تحفظ فراہم کرنے کے لئے گزشتہ ڈیڑھ سال سے کئے جانے والے بے بنیاد،من گھڑت اور گمراہ کن پروپیگنڈہ سے مطابقت رکھتا تھا۔شہریار آفریدی نے سوال کرتے ہوئے کہا ’’شکریہ جناب اسپیکر !بہت سے بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔واٹس ایپ پہ،سنیپ چیٹ پہ،انسٹا پہ ان کے لنک آتا ہے اور اس لنک کو جیسے ہی وہ کلک کرتے ہیں،وہ بلاسفیمی میں یا مختلف ایسی چیزیں کہ جو ریاست مخالف ہوں۔وہ جب آپ کھولتے ہیں،جس نے آپ کو بھیجا ہوتا ہے،اس بنیاد پر کوئی بھی جب اس کو جواب دیتا ہے تو۔یہ میں آپ کو ایک باپ کی کہانی بتا رہا ہوں اور مجھے امید ہے کہ متعلقہ وزیر اس معاملے کو بہت سنجیدہ لیں گے۔سر!مجھے اڈیالہ کے باہر کچھ فیملی ممبرز ملے۔ان سب نے یہی ایک چیز بتائی،جو میں آپ کے نوٹس میں لارہا ہوں۔سر!لنک کھولتے ساتھ ہی جس نے اس کو لنک بھیجا ہوتا ہے وہ مختلف ڈی پیز کے ذریعے آگے جب میسج آتا ہے،کبھی یونیورسٹی کا،کبھی مدرسے کا،کبھی کسی آرگنائزیشن کا نام استعمال کرکے۔وہ بچہ جب اس کو ریپلائے کرتا ہے کہ یہ کیا ہے،تو وہ کہتے ہیں کہ یہ آپ ہمیں سینڈ کریں تو اس کے بدلے ہم آپ کو تفصیلی معلومات دیں گے۔سر!اکثریت پاکستان کے بچے رورل ایریاز کے۔ان کو اس کی کوئی معلومات نہیں ہے۔سر!وہ آج جیلوں میں پڑے ہیں۔ان کی زندگیاں دائو پہ ہیں۔ان کے ماں باپ ذلیل ہورہے ہیں۔اس میں بچے نہیں ہیں،بچیاں بھی ہیں۔تو اس کا خالصتاً انسانی بنیاد پر اس کا کیا جواب دیں گے؟‘‘۔شہریار آفریدی کے اس سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جو کہا اس کا بھی یہ خاکسار اگلے کسی کالم میں ذکر کرے گا اور اس پر بھی کچھ سوالات،اعتراضات ہیں۔مگر آج شہریار آفریدی کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ’’جان اللہ کو دینی ہے‘‘۔کیا اب آپ کو اس بات کا کوئی احساس نہیں رہا؟یہ بات اس خاکسار کے علم میں ہے کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے خلاف درج کچھ مقدمات کے مدعیان نے چند ماہ قبل شہریار آفریدی سے دو ملاقاتیں کی تھیں۔یہ ملاقات مدعیان مقدمہ نے یہ گمان رکھتے ہوئے کی تھیں کہ شہریار آفریدی کو شائد اس بات کا احساس ہے کہ جان اللہ کو دینی ہے،تو ممکن ہے وہ سوشل میڈیا پر جاری گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے سدباب کے لئے کردار ادا کریں گے۔ان ملاقاتوں کے دوران شہریار آفریدی کو گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے خلاف مقدمات کے متعلق تمام شواہد،دستاویزات دکھائے گئے،ان کے سوالات کے جوابات بھی دیئے گئے۔ انہوں نے وعدہ بھی کیا تھا کہ’’میں قومی اسمبلی میں ضرور اس معاملے کو اٹھائوں گا۔یہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے‘‘۔مگر افسوس کہ شہریار آفریدی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ حسب وعدہ مذکورہ حساس ترین معاملے پر قومی اسمبلی میں کوئی بات کرتے۔انہوں نے دو روز قبل بات کی تو وہ بھی ان گستاخ مجرمان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ۔۔شہریار آفریدی نے قومی اسمبلی کے فلور پر جو کہانی مذکورہ گستاخ مجرمان کی فیملیز سے منسوب کرتے ہوئے سنائی،اگر وہ کہانی انہیں گستاخ مجرمان کی فیملیز نے ہی سنائی تھی تو اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ مجرمان کی فیملیز دجل و فریب سے کام لے رہی ہے۔چونکہ جھوٹ یاد نہیں رہتا،اس لئے وہ کبھی ایک کہانی پیش کرتے ہیں اور کبھی دوسری۔پہلے ان مجرمان کی فیملیز نے اسپیشل برانچ پولیس پنجاب کی ’’ثابت شدہ‘‘بے بنیاد و من گھڑت سورس انفارمیشن رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد یہ کہانی سنائی تھی کہ ’’ہمارے پیاروں کو کسی لڑکی نے ہنی ٹریپ کرکے توہین کے مقدمات میں پھنسایا‘‘۔جب مذکورہ مجرمان سے برآمد ہونے والے موبائل فونز کی فرانزک رپورٹس میں ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہوئی بلکہ جرم ثابت ہوگیا تو دوسری کہانی گھڑ لی کہ ’’ان مجرموں کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے موبائل فون میں گستاخانہ مواد ڈالا گیا‘‘یا یہ کہا کہ ’’جس موبائل فون سے گستاخانہ مواد برآمد ہوا،وہ موبائل فون گرفتاری کے بعد مذکورہ مجرمان پر ڈالا گیا ہے۔ دوسری کہانی کو بھی جب اس بنیاد پر رد کر دیا گیا کہ آج تک ایسی کوئی ٹیکنالوجی ایجاد ہی نہیں ہوئی کہ کسی کو گرفتار کرنے کے بعد اس کے موبائل میں کوئی ایسا مواد ڈال دیا جائے کہ جس کی شیئرنگ پرانی تاریخوں پر ظاہر ہو۔مزید یہ کہ جس موبائل کی فرانزک میں گستاخانہ مواد برآمد ہوا ہے،اگر وہ موبائل گرفتاری کے بعد مجرم پر ڈالا گیا ہے تو اسی موبائل سے اس کے گھر کی خواتین کی،فیملی کی تصاویر کیسے برآمد ہوئیں؟اس کے بعد اب یہ تیسری کہانی شہریار آفریدی کو سنائی گئی ہے کہ’’کوئی لنک آتا ہے۔جب اس لنک کو کلک کرتے ہیں تو گستاخانہ مواد شیئر ہو جاتا ہے۔جس نے لنک بھیجا ہوتا ہے،اس سے جب سوال کرو کہ یہ کیا ہے تو وہ اسکرین شاٹ منگوا کر مقدمہ درج کروا دیتا ہے۔‘‘کیا اس سے بھی شہریار آفریدی کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ حقیقت کیا ہے؟آخری بات،شہریار آفریدی نے بھی قومی اسمبلی کے فلور پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے لئے لفظ’’بچے‘‘استعمال کرکے ان کے لئے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کی۔اس سے مجھے یاد آیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان کے وکلاء بھی مذکورہ مجرمان کے لئے لفظ ’’بچے‘‘کا استعمال کرتے تھے۔ایک موقع پر مدعی کے وکیل ایک گستاخ مجرم کے خلاف مقدمے کی تفصیلات بیان کررہے تھے تو جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے سوال کیا کہ ’’اس بچے کی عمر کیا ہے؟‘‘ جس کے جواب میں مدعی مقدمہ کے وکیل نے کہا کہ ’’سر!اس بچے کی عمر تقریباً 35سے 40 سال ہو گی‘‘۔اس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگے۔جج صاحب نے پھر سوال کیا کہ ’’انہیں بچے کیوں کہا جاتا ہے؟‘‘ جس کے جواب میں مدعی مقدمہ کے وکیل نے کہا کہ’’یہ سوال تو پٹیشنر کے وکلاء سے کریںوہ تو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔جیسے وہ بغیر کسی ثبوت کے ہمیں بلاسفیمی بزنس گینگ کہہ سکتے ہیں،اسی طرح وہ 35 سے 40 سال کی عمر والے بندے کو بچہ بھی کہہ سکتے ہیں‘‘اس پر بھی کمرہ عدالت میں قہقہے لگے۔یہ قہقہے در اصل من حیث القوم ہماری ذہنی صلاحیت پر تھے کہ ہم کیسے کسی بھی پروپیگنڈہ سے متاثر ہو جاتے ہیں؟