Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ایران عرب بہار کے انجام سے بچ گیا؟

گزشتہ ہفتے کی دو اہم خبریں ایران پر امریکی حملے کی دھمکی اور ترکیہ کا پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کا فیصلہ ہے۔ ایران کو 28دسمبر کے بعد سے عرب بہار جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ ایران نے مشکل حالات پر قابو پا لیا ہے اور اس انجام سے بچ گیا ہے جس کا شکار لیبیا، مصر، شام اور یمن ہوئے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ وقتی طور پر ٹلی ہے ابھی ختم نہیں ہوئی۔ بہرحال ایران کو سنبھلنے کا موقع مل گیا ہے، امید کی جا سکتی ہے کہ ایران صورتحال پر قابو پا لے گا اور وہ اس خانہ جنگی کا شکار ہونے سے بچ جائے گا جس kh سامنا کئی طاقتور مسلمان ممالک کو کرنا پڑا۔
امریکی این جی او یو ایس ایڈ کی سپانسرڈ عرب بہار نے بعض مسلمان ممالک کو انتشار اور بدامنی کی دلدل میں ایسا دھکیلا ہے کہ وہاں آج تک سیاسی و معاشی استحکام نہیں آسکا۔ تیونس سے شروع ہونے والی عرب بہار کو ابتدا میں بڑا ویلکم کیا گیا، اسے پاپولر اپ رائزنگ کے تناظر میں دیکھا گیا اور یہ سمجھا گیا کہ دہائیوں سے قابض حکمرانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہو گا تو مسلمان دنیا کے حالات بدلیں گے، داخلی تبدیلی کیساتھ بعض لوگوں نے یہ امید باندھ لی کہ امت مسلمہ کے اتحاد کی اب صورت گری ہو گی۔ جن دنوں عرب بہار کی ابتدا ہوئی اس سے چند ماہ قبل امت مسلمہ کے اتحاد کے حوالے سے انگریزی زبان میں لکھی جانے والی میری کتاب ” Towards the Unification of Muslim Ummah” تیار تھی لیکن ابھی شائع نہیں ہوئی تھی۔ یہ بنیادی طور پر ایک ریسرچ ورک تھا جس میں یورپی یونین کے ماڈل پر مسلمان امت کے اتحاد کا ایک خاکہ سٹڈی کیا گیا تھا۔ اس میں جہاں اتحاد کیلئے سازگار عناصر کی بات کی گئی وہیں ان عوامل کا بھی جائزہ لیا گیا جو اتحاد امت میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اس ضمن میں نوٹ کیا گیا کہ ابھی تک اتحاد امت میں بڑی رکاوٹ مسلم ممالک کے حکمران رہے ہیں اور یہ کہ اگر حکمرانوں کی یہ روش جاری رہی تو مسلمان عوام خود سے اٹھ کھڑی ہو گی۔ یہ ایک طرح سے آنے والے وقت کی پیش گوئی تھی۔
محترم راجہ ظفر الحق جو موتمر عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل تھے نے میری کتاب کا مقدمہ لکھا تو انہوں نے بھی خاص طور پر اس پہلو کا ذکر کیا۔ انہوں نے ایرانی مجلس کے سپیکر علی لاریجانی کے الفاظ نقل کرتے ہوئے لکھا کہ اگر مسلم دنیا کے حکمران اتحاد امت میں رکاوٹ بنیں گے تو پاپولر اپ رائزنگ ہو گی۔ یہ مقدمہ غالباً 2010 کے وسط میں تحریر ہوا، کتاب تیار تھی لیکن جس ادارے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اینڈ ریسرچ نے کتاب چھاپنی تھی اس کو درپیش مالی وسائل کی وجہ کتاب شائع نہ ہو سکی۔
دسمبر 2010ء میں تیونس میں عوامی بیداری کی لہر اٹھی اور دیکھتے دیکھتے تیونس سمیت دیگر مسلمان ممالک اس کا شکار ہونا شروع ہو گئے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ راجہ ظفر الحق سری لنکا میں تھے جب میں نے انہیں موتمر عالم اسلامی کا دوبارہ سیکریٹری جنرل بننے پر مبارکباد کیلئے فون کیا۔ انہوں نے خیر مبارک کے بعد پہلا سوال مجھ سے کیا کہ آپ کی کتاب شائع ہو گئی ہے؟ جب میں نے انہیں آگاہ کیا تو انہوں نے تاسف کا اظہار کیا اور کہا کہ کتاب کو اس موقع پر شائع ہوجانا چاہیے تھا کیونکہ مسلم دنیا میں پاپولر اپ رائزنگ کے حوالے سے جو آپ نے لکھا اور ’’مقدمہ‘‘ میں خاص طور پر جس کی میں نے نشاندہی کی وہ چیز مسلمان ممالک میں ہونا شروع ہو گئی ہے۔ میں نے یہ واقعہ اس لیئے پیش کیا ہے کہ اس وقت عرب بہار سے بہت لوگوں کی توقعات وابستہ ہو گئی تھیں مگر اس کا انجام بالخیر نہ ہوا۔ علی عبداللہ صالح کے بعد کا یمن آج سولہ سال گزر جانے کے بعد بھی بدترین خانہ جنگی کا شکار ہے۔ مصر میں حسنی مبارک کا تختہ الٹا ہے تو ایک اور ڈکٹیٹر اقتدار سنبھال کر بیٹھ گیا ہے۔ معمر قذافی کے بعد کے لیبیا کو بدترین خانہ جنگی کا سامنا رہا ہے اور یہ آج دو الگ انتظامی حکومتوں میں تقسیم ہے۔ بشرالاسد کا تختہ الٹنے کیلئے شام میں 620000 لوگ لقمہ اجل بنے اور آج بشر الاسد کے بعد کا شام ایک ایسا کمزور ملک کا نقشہ پیش کر رہا ہے جس پر بن گیا ہے جس پر اسرائیل جب چاہے چڑھ دوڑتا ہے اور جہاں چاہے بمباری کرتا ہے۔ شام کی گولان ہائیٹس پر آج اسرائیل کا قبضہ ہے۔ تیونس عرب بہار کی واحد کامیاب کہانی ہے لیکن مکمل کامیابی اس کے نصیب میں بھی نہ آئی اور ایک ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی کو ہٹائے جانے کی داستان 10 سالوں بعد ایک اور ڈکٹیٹر قیس سعید کی تخت نشینی کی صورت میں لکھی جا رہی ہے۔
2011 ء سے لے کر 2021 ء تک کا عشرہ جمہوریت اور سیاسی استحکام کے حوالے سے مثبت رہا لیکن صدر قیس سعید 2021 ء میں پارلیمنٹ کو معطل اور وزیراعظم کو فارغ کرکے ایک نئے ڈکٹیٹر کا روپ دھار چکے ہیں۔ آج کا تیونس کسی طور بھی زین بن علی کے تیونس سے بہتر نہیں ہے، مشکلات کی شکار عوام بن علی کے دور کو یاد کرنے لگی ہے۔
یہ تفصیل عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عرب بہار مسلمان ممالک میں کہیں بھی خو شی کا باعث نہیں بنی۔ ایران ایک مستحکم ملک ہے لیکن امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اسے عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مسلسل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ایران کو ایک مدت سے امریکہ کی لگائی گئی پابندیوں کا سامنا ہے۔ یہ پابندیاں ایران کے جوہری ہتھیاروں کو بہانہ بنا کر لگائی گئی ہیں۔ ایران دیگر ممالک کیساتھ تجارت نہیں کر سکتا اور نہ ہی ایران اپنا تیل عالمی منڈی میں بیچ سکتا ہے۔ ظاہر ہے ان پابندیوں کے اثرات مہنگائی کی صورت میں مرتب ہونے ہیں جس کا بلاشبہ ایرانی عوام کو سامنا ہے۔ اس اعتبار سے یہ مہنگائی ایرانی حکمرانوں کی بیڈ گورنینس کی وجہ سے نہیں ہے اس کا ذمہ دار امریکہ ہے لیکن مہنگائی سے پیدا شدہ صورتحال کو ایک مختلف رنگ دے کر اپنے عزائم کی تکمیل کی جا رہی ہے۔ لوگ مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلے تو اس کو رجیم چینج کا موقع سمجھ کر وہی کھیل کھیلنے کا فیصلہ کیا گیا جو دیگر مسلمان ممالک میں کھیلا گیا تھا جس کے مضر اثرات ابھی تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ عین ممکن تھا کہ یہ حربہ کامیاب ہو جاتا لیکن سعودی عرب اور قطر کی قیادت نے ایران پر امریکی حملہ رکوا کر نہ صرف ایران کو تباہ ہونے سے بچایا ہے بلکہ مشرق وسطی کے امن کو خراب ہونے سے بچا لیا یے۔
سعودی حکمرانوں سے بعض حضرات بلاوجہ کا بغض رکھتے ہیں حالانکہ انہوں نے ہمیشہ ایسی پالیسی اختیار کی ہے جس کی وجہ سے عالم اسلام کو نقصان نہ پہنچے۔ امت مسلمہ کے اتحاد کے حوالے سے شاہ عبدالعزیز کی خدمات، بعد ازاں امت کو جوڑنے اور اسے اغیار سے بچانے کیلئے شاہ فیصل کے کئے گئے فیصلے، عرب بہار اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کو بھانپ کر شاہ عبداللہ اور شاہ سلمان کا بروقت اقدامات لینا، ان سب پر بات کی جائے تو بے اختیار سعودی حکمرانوں کی بصیرت کو داد دینے کو جی کرتا ہے۔ موجودہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ان کے جواں سال ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی ان سعودی حکمرانوں کی صف میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے بڑے فیصلے کئے ہیں اور تاریخ پر اپنے نقش چھوڑے ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کیساتھ مشترکہ دفاع کا جو معاہدہ کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالم اسلام کو بیرونی خطروں سے بچانے کیلئے ایک مضبوط حکمت عملی پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اس دفاعی معاہدے کا سہرا یقینی طور پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سر ہے۔ پاکستان تو ہمیشہ اس کار خیر کیلئے تیار رہا ہے لیکن اصل جرات مند فیصلہ سعودی حکومت کا ہے۔ یہ محض ایک وقتی دلیرانہ فیصلہ نہیں ہے یہ ایک نئے عہد کی حکمت عملی ہے جس کے حکمت کار شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔ کالم کی تنگ دامنی آڑھے آ رہی ہے، انشا اللہ اگلے کالم میں اس دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور دیگر مسلم ممالک کی شمولیت کا احاطہ تفصیل سے کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں