Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
اور قرآن کریم نے جو بیان فرمایا ہے ”ضربت علیھم الذلۃ“ (آل عمران ۱۱۲) ان کی تقریباً اٹھارہ سو سال تک یہ کیفیت رہی ہے، اور کہیں ان کی کوئی ریاست نہیں تھی۔ ہمارے ساتھ ان کا معاملہ وہی ہے جو میں نے پہلے عرض کیا کہ ہم نے ان کے تین قبیلوں کو مدینہ سے نکالا، یہ سب خیبر میں اکٹھے ہو گئے تھے، پھر ان کو حضرت عمرؓ کے زمانے میں خیبر سے نکالا گیا، جلاوطن کیا گیا۔ مگر اس وقت سے لے کر آج سے ایک صدی پہلے تک یہودیوں سے ہمارا کوئی تنازعہ، کوئی جھگڑا، کوئی لڑائی، کوئی جنگ نہیں ہے۔ ان کا یہ سارا زمانہ عیسائیوں کے ساتھ دشمنی میں گزرا ہے، بلکہ طیطس رومی سے لے کر اب سے ایک صدی پہلے تک، ہٹلر تک، عیسائیوں اور یہودیوں میں شدید ترین دشمنی تھی۔ یہودی کمزور قوم تھی، عیسائی انہیں مارتے تھے، قتل کرتے تھے، جلاوطن کرتے، مال چھین لیتے تھے۔
یہودیوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ مسلمان ریاستیں ہوتی تھیں۔ خود یہودی مؤرخین اعتراف کرتے ہیں کہ ہمیں اچھی دو پناہ گاہیں میسر تھیں:
اندلس میں مسلمانوں کی حکمرانی تھی، وہ ہماری پناہ گاہ تھی، وہاں ہمیں خرچہ اور تحفظ بھی مل جاتا تھا۔
اور اس کے بعد خلافت عثمانیہ کے بارے میں غیر جانبدار اور معتدل یہودی مؤرخین اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اپنے پورے دور میں یہود کی پناہ گاہ تھی۔ عیسائی ان کو اٹلی، برطانیہ، فرانس میں مارتے اور یہ قسطنطنیہ، ترکی میں آ جاتے۔
ان کا آخری راؤنڈ ہٹلر والا ہے جسے ہولوکاسٹ کہتے ہیں، اس میں کچھ مبالغہ بھی ہے لیکن ہٹلر نے ان کی کٹائی کی ہے ابھی پون صدی پہلے۔
اللہ کی قدرت کہ ذلت اور مسکنت بھی دو ہزار سال یہودیوں کے حصے میں آئی، لیکن دولت بھی ان کے حصے میں آئی ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ مالدار ترین یہی رہے ہیں۔ البتہ مال و دولت کے باوجود ان کی حالت مسکنت کی رہی ہے۔ ایک صدی پہلے عیسائیوں سے انہوں نے مسلمانوں کے خلاف صلح کی تو تب ان کی حالت بدلنا شروع ہوئی۔ ہوا یوں کہ آج سے کوئی ڈیڑھ سو سال پہلے یہودیوں نے اکٹھے ہو کر آپس میں فیصلہ کیا کہ کوئی صورت نکالو کہ فلسطین کی زمین، جو ہماری پرانی زمین تھی، جہاں سے ہمیں طیطس رومی نے نکالا تھا، وہاں واپس جا کر ہم آباد ہوں اور آبادی بڑھاتے بڑھاتے وہ مقام حاصل کریں کہ ہم بیت المقدس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر سکیں۔
حضرت عمرؓ نے تو بیت المقدس کا قبضہ عیسائیوں سے لیا تھا، پھر عیسائیوں نے ہم سے لیا، پھر ہم نے دوبارہ عیسائیوں سے لیا، اور حضرت عمرؓ کے دور سے اب سے ایک صدی پہلے تک مسلمانوں کا کنٹرول رہا ہے۔
حضرت عمرؓ نے ایک تبدیلی کی تھی کہ رومیوں کے زمانے میں ہیکل سلیمانی جو انبیاء کی عبادت گاہ تھی، اس پر نفرت سے کوڑے کا ڈھیرلگا دیا گیا تھا اور وہاں گندگی پھینکی جاتی تھی۔ حضرت عمرؓ نے اس کی صفائی کروائی، خود اپنی چادر بچھا کر صفائی شروع کی اور سارا کوڑا اٹھایا کہ یہ انبیاء کرامؑ کی عبادت گاہ رہی ہے اور مقدس جگہ ہے۔
دوسرا تاریخی کام حضرت عمرؓ نے یہ کیا کہ صفائی کر چکنے کے بعد ساتھیوں نے کہا کہ یہاں نماز پڑھیں تو حضرت عمرؓ نے فرمایا، نہیں! میں یہاں نماز نہیں پڑھوں گا، اس لیے کہ اگر میں نے ایک نماز یہاں پڑھ لی تو تم نے اس بہانے اس پر قبضہ کر لینا ہے، یہ ہماری عبادت گاہ نہیں ہے، یہودیوں کی عبادت گاہ ہے، یہودیوں کی عبادت کا حق ہے، ہم الگ مسجد بنائیں گے، چنانچہ انہوں نے الگ مسجد بنائی۔اس کےساتھ حضرت عمرؓ نےان کا یہ حق بحال کردیا کہ آ کر عبادت کر سکتے ہیں۔ یہودیوں کو اجازت دےدی، یہودیوں کی وہاں ”دیوار گریہ“ معروف ہے، نیم گری ہوئی، نیم ثابت، قدیمی آثار میں سے ہے۔ اس کے ساتھ چمٹ کر روتے ہیں، اپنے پرانے دور کو یاد کرتے اوردعائیں کرتے ہیں۔ جیسے ہم بیت اللہ میں ملتزم کے ساتھ چمٹ کر عبادت کرتے اور روتے ہیں۔
ان کوحضرت عمرؓ نے آکر عبادت کی اجازت دے دی لیکن یروشلم کے نظام کا کنٹرول مسلمانوں کے پاس رہا۔ حضرت عمرؓ کے زمانے سے خلافت عثمانیہ کے دور تک یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔
ہمارے ہاں خلافت کی ترتیب یہ ہے: خلافت راشدہ۔خلافت بنو امیہ۔ خلافت بنو عباس۔ پھر جب ہلاکو خان نے بغداد کو برباد کر دیا تھا اور آخری عباسی خلیفہ کو قتل کر دیا تھا، پھر ہم بکھرے تھے۔ اور مصر میں کچھ دن ہمارا فاطمی حکومت کے ذریعے تھوڑا سا اقتدار رہا۔
اس کے بعد عثمانی کھڑےہوگئے،انہوں نےاسلامی ریاست قائم کی، وہی ریاست بعد میں خلافت عثمانیہ کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ ان کا پہلا حکمران عثمان تھا، یہ سلطنت اس کے نام سے منسوب ہے نہ کہ حضرت عثمانؓ کے نام پر۔ سلطنت عثمانیہ نے خلافت کا ٹائٹل استعمال کیا اور اس کے بعد صدیوں حکومت کرتے رہے اور اہل اسلام کے متفق علیہ خلافت رہی ہے۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس پر بھی اس کا کنٹرول تھا، خطبے میں ان کا نام پڑھا جاتا تھا، ان سے وفاداری کا اعلان ہوتا تھا۔ یہ الگ تاریخ ہے اور اہل اسلام کا خلافت عثمانیہ پر اعتماد و احترام اپنی جگہ پر ہے۔
اس دوران فلسطین خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا۔ آج کے نقشے میں فلسطین اور اسرائیل دو الگ الگ ریاستیں دکھائی دیتی ہیں، یہ دونوں ملا کر اصل فلسطین تھا جو خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا۔ یہودیوں نے فیصلہ کیا کہ ہم نے وہاں جا کر آباد ہونا ہے اور اپنی آبادی بڑھا کر وہ ماحول پیدا کرنا ہےکہ ہم بیت المقدس کے معاملات میں دخیل ہو سکیں اور آہستہ آہستہ اس پر قبضہ کرلیں۔ اس وقت ترکی کی خلافت عثمانیہ سے ان کی کوئی لڑائی نہیں تھی۔ یہود کاوفد ترکی خلیفہ سلطان عبد الحمید ثانیؒ کے پاس آیا جو اپنے وقت کے بہت باوقار حکمران اور عالمی شخصیات میں سے تھے۔ قسطنطنیہ میں خلیفہ کا ہیڈ کوارٹر ”بابِ عالی“ کہلاتا تھا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں