Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

ملتان کا سیاسی و سماجی مقدمہ پی ٹی آئی کے دور میں

وعدوں سے تجربات تک‘ملتان کی سیاست حالیہ برسوں میں جس جماعت کے ساتھ سب سے زیادہ جذباتی وابستگی کے مرحلے سے گزری، وہ تحریکِ انصاف ہے۔ یہ وابستگی محض انتخابی نہیں تھی، بلکہ ایک اجتماعی امید کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ جنوبی پنجاب، خصوصاً ملتان نے پی ٹی آئی کو اس لیے آزمایا کہ یہ جماعت خود کو روایتی سیاست کے خلاف ایک متبادل قیادت کے طور پر پیش کر رہی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اقتدار کے تجربے میں یہ متبادل ملتان کے سیاسی و سماجی مقدمے کو کہاں تک لے جا سکا ؟
پی ٹی آئی کا سب سے طاقتور نعرہ جنوبی پنجاب صوبہ تھا، اور اس نعرے کا مرکز ملتان کو قرار دیا گیا۔ 2018 ء کے انتخابات سے قبل یہ اعلان محض ایک وعدہ نہیں بلکہ ایک یقین کے طور پر پیش کیا گیا۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، اور علاقائی محرومی کے خاتمے کی باتیں ہوئیں۔ ملتان نے اس بیانیے کو دل سے قبول کیا، کیونکہ یہ پہلی بار تھا کہ کسی جماعت نے اس خطے کو سیاسی مرکزیت دینے کا دعویٰ کیا۔اقتدار میں آنے کے بعد پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ قائم کیا، جو بظاہر ایک بڑا قدم تھا۔ مگر جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ یہ سیکرٹریٹ زیادہ تر انتظامی علامت ہے، مکمل صوبے کا متبادل نہیں۔ اختیارات محدود، وسائل ناکافی، اور فیصلہ سازی بدستور لاہور اور اسلام آباد میں مرتکز رہی۔ یوں ملتان کے سیاسی مقدمے میں ایک نئی اصطلاح شامل ہوئی نیم خودمختاری۔پی ٹی آئی کے دور میں ملتان کو سب سے زیادہ نقصان سیاسی ناتجربہ کاری سے پہنچا۔ عثمان بزدار جیسا سیاسی نابالغ جو فائل پڑھنے کی صلاحیت سے بھی محروم تھا ۔ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ کا اختیار اسے سونپ دیا گیا۔صوبے بھرمیں ایک حیرت کا سماں بندھ گیا ۔چہ مگوئیوں کا ایک طوفان امڈ آیا ہر طرف سے سوال اٹھائے جانے لگے ،مگر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی۔ پہلا بحران یہ ظہور پذیر ہوا کہ پارٹی کے اندر نظریاتی کارکن اور انتخابی اتحادی ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہوگئے۔ جنوبی پنجاب کے کئی نمایاں چہرے روایتی سیاست سے آئے تھے، جنہیں نئی سیاست کے بیانیے میں فِٹ کرنا مشکل ثابت ہوا۔ نتیجتاً ملتان کو وہ مضبوط، متحد اور بااختیار قیادت نہ مل سکی جو اس کے مقدمے کو مستقل طور پر آگے بڑھا سکتی۔سماجی سطح پر پی ٹی آئی نے فلاحی ریاست کا تصور پیش کیا تھااحساس پروگرام،صحت کارڈ، اور تعلیمی اصلاحات۔ ملتان میں ان اقدامات کا کچھ مثبت اثر ضرور ہوا، خصوصاً صحت کارڈ نے متوسط اور نچلے طبقے کو فوری سہولت دی۔ مگر یہ سہولت ساختی اصلاحات کا نعم البدل نہ بن سکی۔ نشتر ہسپتال پر بوجھ کم نہ ہو سکا، نہ ہی پرائمری ہیلتھ کیئر کو اس حد تک مضبوط کیا جا سکا کہ شہری اور دیہی فرق کم ہوتا۔
تعلیم کے شعبے میں بھی پی ٹی آئی کا بیانیہ بلند تھا، مگر عمل سست۔ ملتان جیسے شہر کو جس سطح کی جامعات، تحقیقی مراکز اور ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹس درکار تھے، وہ منصوبے فائلوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ نتیجتاً نوجوانوں میں وہی پرانی مایوسی برقرار رہی، تعلیم کے بعد روزگار اہم سوال تھا جس کا سراغ دور دور تک نہ ملا ۔پی ٹی آئی کے دور کا ایک نمایاں پہلو مرکزی بیانیے کی بالادستی تھا۔ اسلام آباد میں بننے والی سیاسی حکمت عملی کا اثر براہِ راست ملتان پر پڑتا رہا، مگر مقامی مسائل کو قومی بیانیے میں جگہ کم ملی۔ احتساب، اسٹیٹس کو، اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کشمکش جیسے موضوعات نے حکمرانی کو گھیرے رکھا، اور شہری مسائل پس منظر میں چلے گئے۔سیاسی طور پر پی ٹی آئی نے ملتان کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر استعمال کیا کہ کیا روایتی سیاست سے ہٹ کر کوئی نیا ماڈل کامیاب ہو سکتا ہے؟ مگر یہ تجربہ مکمل تیاری کے بغیر کیا گیا۔ بلدیاتی نظام غیر واضح رہا، مقامی حکومتیں دیر سے آئیں، اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ ہو سکے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شہری مسائل صفائی، پانی، ٹرانسپورٹ اسی طرح الجھے رہے جیسے پہلے تھے۔پی ٹی آئی کا سب سے بڑا نقصان شاید یہ تھا کہ اس نے توقعات بہت بلند کر دیں، مگر نتائج نسبتاً محدود رہے۔ ملتان کے ووٹر نے جس تبدیلی کا خواب دیکھا تھا، وہ جزوی اقدامات میں بکھر کر رہ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور کے اختتام پر حمایت جذباتی طور پر برقرار رہی، مگر سیاسی اعتماد میں دراڑیں پڑ گئیں۔
یہ کہنا تاہم انصاف کے خلاف ہوگا کہ پی ٹی آئی نے ملتان کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔ کم از کم اس نے اس شہر کو سیاسی گفتگو کے مرکز میں رکھا، جنوبی پنجاب کی محرومی کو قومی سطح پر موضوع بنایا، اور ریاستی فلاح کے تصور کو عام شہری تک پہنچایا۔ مگر سیاست صرف نیت سے نہیں، ادارہ سازی سے کامیاب ہوتی ہے اور یہی وہ میدان تھا جہاں پی ٹی آئی کے قوی مضمحل ٹھہرے۔
ملتان کا سیاسی و سماجی مقدمہ پی ٹی آئی کے ادوار میں ایک منتقلی کے مرحلے سے گزرا، وعدوں سے تجربات تک، نعروں سے جزوی عمل تک۔ یہ مقدمہ نہ مکمل جیتا، نہ مکمل ہارا بلکہ معلق رہا۔
آج ملتان پھر سوال کر رہا ہے کیا تبدیلی صرف حکومت بدلنے کا نام ہے؟ یا نظام بدلنے کا حوصلہ بھی چاہیے؟جب تک اس سوال کا جواب پالیسی، اختیار اور وسائل کی صورت میں نہیں ملتا، ملتان کا مقدمہ کسی ایک جماعت کے کھاتے میں بند نہیں ہوگا۔یہ مقدمہ کھلا ہے اور شاید یہی اس شہر کی سیاسی پہچان بھی ہے۔بہر حال پی ٹی آئی کا سیاسی اور سماجی مقدمہ ملتان اور پورے جنوبی پنجاب میں ادھورا پڑا ہے ۔ انفراسٹرکچر کے حوالے سے ملتان کی شکل صورت بدلی جارہی ہے مگر یہ سوال وہیں کھڑا ہے کہ اس کی محرومیوں کے ازالے کی کوئی کوشش کی جائے گی ؟ جنوبی پنجاب کے صوبے کی فائل پر کبھی مہر تصدیق ثبت کی جائے گی ؟ اس میں بے روز گاری کے بڑھتے ہوئے طوفان کے سامنے بھی کبھی بند باندھا جائے گا یا حالات جوں کے توں رہیں گے ؟

یہ بھی پڑھیں