اگر لال حویلی والا شیخ رشید زندہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے سابق باس رسوا کن ڈکٹیٹر کی قبر پہ جاکر یہ خبر سنائے کہ برطانوی حکومت نے پاکستان سے گرفتار ہوکر 23 برسوں سے تاحال گوانتانا موبے میں بے گناہ قید کاٹنے والے فلسطینی نژاد ابو زبیدہ کو زرِتلافی کے طور پر بھاری رقم ادا کردی اور یہ بھی کہ آج نائن الیون کے تئیس ،چوبیس سال گزرنے کے بعد بھی امریکہ نہ پاکستان کا ’’آملیٹ‘‘ بنا سکا اور نہ ہی ’’تورا بورا‘‘ بلکہ فیلڈ مارشل جنرل حافظ عاصم منیر کی قیادت میں ’’جنگ بنیان مرصوص‘‘میں بھارت کے دانت کھٹے کر کے اللہ کی مدد سے پاک فوج نے پاکستان کا پرچم دنیا میں سر بلند کر دیا،عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق زر تلافی کی ادائیگی ابو زبیدہ کی جانب سے برطانوی حکومت کے خلاف دائر کئے گئے مقدمے کے نتیجے میں کی گئی۔مقدمے میں ابو زبیدہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ میری 23سال سے تاحال جاری غیر قانونی حراست اور تشدد میں برطانوی اداروں نے بھی بالواسطہ کردار ادا کیا تھا۔اگرچہ معاوضے کی درست رقم ظاہر نہیں کی گئی تاہم ابو زبیدہ کی وکیل کا کہنا ہے کہ یہ رقم خاصی بڑی ہے اور اس کی ادائیگی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ابو زبیدہ کی23سال قبل فیصل آباد سے گرفتاری کے بعد شیخ رشید اور امریکی پٹاری کے دجالی میڈیا اور دانش فروشوں نے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اسے عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا،مگرآج 23 سال بعد جس ابو زبیدہ کا اصل نام زین العابدین محمد حسین ہے اور وہ فلسطینی نژاد ہیں، 2000ء کی دہائی کے آغاز میں امریکا نے ان پر القاعدہ کا سینئر رہنما اور اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔تاہم بعد ازاں امریکی حکومت خود اس دعوے سے دستبردار ہو چکی ہے کہ ابو زبیدہ القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کا حصہ تھے۔
رپورٹ کے مطابق ،ابو زبیدہ کومارچ 2002 ء میں فیصل آباد میں ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تھا۔ابو زبیدہ کی گرفتاری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے خود ان کی گرفتاری کا اعلان کیا اور القاعدہ کا اہم رہنما قرار دیا۔22006ء میں گوانتانامو منتقل کردیا گیا۔جہاںآج تک کسی عدالت میں باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی۔2010ء کے بعد سے ان سوالات نے سر اٹھانا شروع کردیا کہ ابوزبیدہ کو آخر کیوں حراست میں رکھا گیا ہے؟امریکی حکومت نے بھی بتدریج تسلیم کرنا شروع کردیا کہ ابو زبیدہ القاعدہ کے سینئر رہنما نہیں تھے۔رپورٹ کے مطابق 2015ء سے2023 ء تک برطانیہ میں تحقیقات کی گئیں،انہی معلومات سے ابو زبیدہ پر تشدد میں اضافہ ہوا۔ابو زبیدہ نے اپنے وکلاء کے ذریعے برطانوی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا اور اب برطانوی حکومت نے عدالتی کارروائی کے بغیر تصفیہ کرتے ہوئے زرِتلافی ادا کر دی، اس ے باوجود تاحال ابو زبیدہ امریکی حراست میں ہیں۔
یہ ساری تفصیل محض ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر قائم اس عالمی نظامِ انصاف پر سوالیہ نشان ہے جس میں الزام کافی ہوتا ہے، ثبوت گیا بھاڑ میں، ابو زبیدہ کے معاملے میں برطانیہ نے کم از کم یہ تسلیم کیا کہ اس کے اداروں کی فراہم کردہ معلومات نے تشدد کے عمل کو تقویت دی۔ زرِتلافی دراصل ایک اخلاقی اعتراف ہے، اگرچہ ناکافی۔ کیونکہ رقم سے نہ وہ 23برس واپس آ سکتے ہیں نہ وہ جسمانی و نفسیاتی زخم بھر سکتے ہیں اور نہ ہی آزادی لوٹتی ہے۔یہاں ایک ناگزیر سوال جنم لیتا ہے، کیا پاکستان کی پاکباز بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی اس طرح رہا ہوسکتی ہیں؟ کیا آنے والے برسوں میں یہ کہا جائے گا کہ غلط معلومات، سیاسی دبا ئواور جنگی جنون کے تحت فیصلے کئے گئے؟ آج اگر تئیس سال بعد بھی لوگ بے گناہ ثابت ہو رہے ہیں تو کیا انہیں گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کرنے والے، انہیں دہشت گرد قرار دے کر ڈالر خوری کرنے والے، ان پر تشدد کے پہاڑ توڑنے والا امریکہ اور امریکی پٹاری کے دانش فروش ’’انسانیت‘‘پہ ڈھائے جانے والے ان مظالم پہ شرمندگی کا اظہار کر کے توبہ تائب ہو جائیں تو ممکن ہے دنیا امن کی طرف بڑھ سکے ،اگر جان کی امان ملے تو کچھ سوالات ’’اپنوں‘‘کے سامنے بھی اٹھانا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ڈکٹیٹر مشرف دور میں القاعدہ کے نام پر متعدد آپریشن ہوئے۔ ان میں سے کئی کارروائیاں انٹیلی جنس شیئرنگ، فوری گرفتاریوں اور حوالگیوں پر مشتمل تھیں، جہاں عدالتی تقاضے ثانوی اور سیاسی دبائو اولین حیثیت رکھتا تھا۔
آج جب ابو زبیدہ کے بارے میں خود امریکی حکومت تسلیم کر رہی ہے کہ وہ القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کا حصہ نہیں تھے، تو پھر اس پورے عہد کے فیصلوں کا ازسرِنو جائزہ کیوں نہیں؟گوانتاناموبے جیسی حراستی عقوبت گاہیں اس تصور پر قائم رہیں کہ کچھ قیدی قانون سے بالاتر ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ قانون سے بالاتر صرف غلطیاں ہوتی ہیں، انسان نہیں۔ برطانیہ کی زرِتلافی اس بات کی علامت ہے کہ ریاستیں بھی کبھی نہ کبھی حساب دیتی ہیں۔ خواہ خاموش تصفیے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہ اعتراف آزادی میں بدلتا ہے؟عافیہ صدیقی کا معاملہ ہو یا دیگر قیدیوں کا، بنیادی اصول ایک ہی ہے: فردِ جرم، شفاف ٹرائل اور ثبوت۔ اگر یہ میسر نہیں تو پھر قید محض سزا نہیں، ظلم ہے۔ ابو زبیدہ کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا نقصان سچ اور انصاف کا ہوا۔ اب وقت ہے کہ ریاستیں محض زرِتلافی نہیں، بلکہ رہائی، معافی اور اصلاحِ نظام کی طرف قدم بڑھائیں۔ آخر میں سوال وہی ہے،اگر تئیس برس بعد بھی سچ سامنے آسکتا ہے تو کیا ہم آج انصاف کر سکتے ہیں؟ یا ہم بھی کل کی تاریخ میں ایک اور خاموش اعتراف بن کر رہ جائیں گے؟