Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
بابِ عالی کو تقریباً تین صدیاں دنیا میں وہی پوزیشن حاصل رہی ہے جو اس وقت امریکی صدر کے وائٹ ہاؤس کو حاصل ہے کہ دنیا کے ہر معاملے میں دخل دینا اور کوئی معاملہ ان کی مرضی کے بغیر طے نہ ہونا اس کی پوزیشن رہی ہے۔ سلطان عبد الحمید ثانیؒ بڑے باحمیت حکمران تھے، انہوں نے اپنی یادداشتیں خود لکھی ہیں۔ ان کو بعد میں خلافت سے معزول کر کے نظر بند کر دیا گیا، اسی دوران ان کا انتقال ہوا۔ نظربندی کے دوران انہوں نے یادداشتیں لکھیں جو ترکی میں تھیں، مجھے ایک عرصہ سے انتظار تھا پھر ان کا عربی ترجمہ ہوا تو میں نے منگوا کر پڑھیں۔ میرے پاس موجود ہے ”مذکرات السلطان عبد الحمید الثانیؒ“ کے عنوان سے۔ انہوں نے اس میں لکھا کہ میرے پاس یہودیوں کا عالمی وفد آیا۔
یہ اصطلاح سمجھنا بھی ضروری ہے کہ صہیونیت کیا ہے۔ صہیون بیت المقدس کے ساتھ ایک پہاڑی ہے، حضرت داؤدؑ کی عبادت گاہ اس پہاڑی پر تھی۔ صہیون کو یہودیوں کے ہاں وہ تقدس حاصل ہے جو ہمارے ہاں صفا اور مروہ کو ہے۔ اور اگر وہ حضرت داؤدؑ کی عبادت گاہ تھی تو اس کا تقدس ہمارے دلوں میں بھی ہے اور ہونا چاہیے۔ وہ خیمہئ داؤد کی نسبت حضرت داؤدؑ کی طرف کرتے ہیں۔ امریکہ کے صدر جمی کارٹر نے یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کا معاہدہ کروایا تھا۔ چند عرب ممالک نے اس معاہدے کو تسلیم کیا تھا۔ کیمپ ڈیوڈ (خیمہئ داؤد) کی جگہ بطور خاص منتخب کی تھی اور وہاں جا کر صلح نامے لکھے تھے۔ یہودیوں نے صہیون پہاڑی کے تقدس کے نام سے ایک تحریک شروع کی کہ ہم اس کے تقدس کو بحال کریں گے۔
خلافت عثمانیہ کا قانون فلسطین کےحوالےسے یہ تھا کہ فلسطین میں یہودی بیت المقدس میں اپنی عبادت گاہ میں آ کر عبادت کر سکتے ہیں، کچھ دن اجازت نامے کے ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن یہاں زمین نہیں خرید سکتے، مکان نہیں بنا سکتے، یہاں کاروبار نہیں کر سکتے، مستقل رہائش اختیار نہیں کر سکتے۔ سلطان عبد الحمید ثانیؒ سے یہودیوں کا وفد ملا، ہرتزل اس کا لیڈر تھا، اس نے سلطان سے درخواست کی کہ ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم تھوڑی بہت تعداد میں فلسطین میں آباد ہونا چاہتے ہیں۔ آپ اس قانون میں لچک پیدا کر کے ہمیں وہاں رہنے کی اجازت دیں۔ سلطان عبد الحمید کہتے ہیں میں نے انکار کر دیا کیونکہ ان کا سارا منصوبہ میرے ذہن میں تھا کہ یہ وہاں کرنا کیا چاہ رہے ہیں، ان کا پروگرام کیا ہے، کہتے ہیں میں نے انکار کر دیا۔
اگلے سال وہی وفد دوبارہ آیا اور اس بار پینترا بدلا۔ یہ بات آپ کے ذہن میں ہونی چاہیے کہ دنیا میں سائنسدانوں کی اکثریت یہودیوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انٹرنیشنل سائنس یونیورسٹی بنانا چاہتے ہیں، سارے سائنسدانوں کو وہاں اکٹھا کریں گے، سائنس کی ترقی کے لیے ہم بڑا منصوبہ رکھتے ہیں، آپ ہماری سرپرستی فرمائیں اور ہمیں فلسطین میں جگہ دے دیں اور سہولیات فراہم کریں کہ ہم سائنس یونیورسٹی بنا سکیں۔ آپ کو بھی فائدہ ہو گا، ہمیں بھی فائدہ ہو گا۔ اور ہم آپ کی سپورٹ کے لیے تمام یہودی سائنسدانوں کو وہاں اکٹھا کر دیں گے۔ سلطان عبدالحمید نے کہا ٹھیک ہے، سائنس کی ترقی کی خاطر انٹرنیشنل سائنس یونیورسٹی کے لیے میں آپ کو جگہ بھی دوں گا، خرچہ بھی دوں گا، سپورٹ بھی کروں گا، پشت پناہی بھی کروں گا، لیکن اس شرط پرکہ وہ فلسطین میں نہیں ہوگی، فلسطین کے علاوہ دنیا کے جس خطے میں آپ بنانا چاہیں میں مکمل تعاون کروں گا۔ اس پر وہ نہیں آئے کہ نہیں! ہمیں جگہ فلسطین میں ہی چاہیے۔
تیسرے سال پھر آئے اور اب ایک اور پیشکش کی۔ یہ سلطنت عثمانیہ کے زوال کے آغاز کا دور تھا، ہر چیز پر عروج کے بعد زوال کا دور ہوتا ہے۔ یہ خاصے مقروض ہو گئے تھے۔ یہود کی پیشکش یہ تھی کہ آپ کی سلطنت کے سارے خرچے ہم اٹھاتے ہیں، آپ کے قرضے ادا کریں گے، آپ فلسطین میں ہمیں مطلوبہ جگہ دے دیں۔ اب سلطان نے انہیں غصے سے نکال دیا اور کہا کہ آج کے بعد میں آپ سے ملاقات نہیں کروں گا اور مجھ سے آپ توقع نہ رکھیں کہ میں فلسطین میں آپ کو جگہ دوں گا۔یہ تین سال مذاکرات ہوئے۔
یہ دور تھا۱۹۱۰ء سے ۱۹۲۰ء کے درمیان کا۔ اس کے بعد سلطان عبد الحمید کے خلاف ترکی میں تحریک چلی اور پھر انہیں خلافت سے معزول کر کے نظر بند کر دیا گیا۔ نظر بندی ہی میں خلیفہ نے یادداشتیں لکھیں اور نظربندی ہی میں ان کی وفات ہوئی۔ پھر وہاں انقلاب آگیا، یہ تاریخ کا ایک الگ موضوع ہے۔
سلطان عبدالحمید نےجب آخری جواب دےدیاتویہودبرطانیہ کے پاس گئے، انہوں نے مسلمانوں سے مایوس ہو کر فلسطین کو اپنا قومی وطن بنانے کے لیے برطانیہ سے رابطہ قائم کیا۔ برطانوی حکومت سے درخواست کی کہ ہم آپ سے صلح کے لیے تیار ہیں۔ (جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں