Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ جنگ عظیم اول کا دور تھا۔ ان سے کہا کہ ہم آپ کے جنگی اخراجات برداشت کریں گے، آپ فلسطین پر ہمارا حق تسلیم کریں اور یہ اعلان کریں کہ فلسطین یہودیوں کا قومی وطن ہے، اور ہم سے یہ وعدہ کریں کہ اگر اس جنگ عظیم کے بعد فلسطین کا کنٹرول آپ کو حاصل ہوا تو ہمیں وہاں آباد کرنے اور اسے اپنا وطن اور ریاست بنانے کے لیے سہولتیں فراہم کریں گے۔ اس کے لیے ۱۹۱۷ء میں باقاعدہ معاہدہ ہوا جو ”بالفور ڈیکلیریشن“ کہلاتا ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ آرتھر جیمز بالفور تھے، ان کے ساتھ معاہدہ ہوا۔اس میں بالفور نےلکھا کہ ہم فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرتے ہیں اور ان سے وعدہ کرتے ہیں کہ سلطنت عظمیٰ برطانیہ کو جب بھی موقع ملا ہم یہودیوں کو فلسطین میں بسانے اور ریاست قائم کرنے کے لیے سہولتیں فراہم کریں گے۔ نیٹ پر یہ بالفور ڈیکلیریشن موجود ہے، پچھلے سال اس کا ایک سو سالہ جشن منایا گیا ہے۔
جنگ عظیم اول میں ایک طرف جرمنی تھا، دوسری طرف برطانیہ، اٹلی، فرانس وغیرہ سب کا متحدہ محاذ تھا۔ خلافت عثمانیہ اس جنگ میں جرمنی کے ساتھ تھی، جرمنی کو شکست ہوئی تو خلافت عثمانیہ کو بھی ہو گئی۔ متحدہ یورپی فوجوں نے جرمنی پر بھی قبضہ کر لیا اورخلافت عثمانیہ پربھی کر لیا۔ ترکی کے مختلف علاقوں پر کسی حصے میں فرانس گھس گیا، کسی میں اٹلی اور کسی میں برطانیہ گھس گیا۔ جنگ عظیم اول کے بعد جو بندر بانٹ ہوتی ہے کہ مفتوحہ علاقے کو قبضہ کرنے کی جنگ کے بعد فاتحین مفتوحہ علاقے آپس میں تقسیم کرتے ہیں۔ اس تقسیم میں چونکہ برطانیہ نے پہلے سے یہودیوں سے وعدہ کررکھا تھا تو برطانیہ نے کوشش کر کے فلسطین اپنے حصہ میں لے لیا۔ اس طرح ترکی کے پیچھے ہٹنے کے بعد فلسطین برطانیہ کی نوآبادی بن گیا۔ برطانوی گورنر وہاں بٹھا دیا گیا۔ یہ ۱۹۱۶ء، ۱۹۱۷ء کی بات ہے۔ اس کے بعد برطانیہ نے اعلان کر دیا کہ دنیا بھر سے جو یہودی یہاں آنا چاہیں، آجائیں، ہماری طرف سے اجازت ہے۔ وہ قانون کہ یہودی فلسطین کی زمین نہیں خرید سکتے منسوخ کر دیا اور اجازت دے دی کہ یہودی یہاں زمین خرید سکتے ہیں، یہاں کاروبار کر سکتے ہیں، مکان بنا سکتے ہیں، رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔
۱۹۲۴ء میں ترکی سیکولر ملک بن گیا تھا، عربوں کی ریاستیں الگ الگ بن گئی تھیں، سعودیہ الگ، اردن الگ، عراق الگ۔ اب فلسطین بےیار و مددگار تھا، برطانیہ کے رحم و کرم پر تھا۔ برطانیہ نے یہودیوں کو بالفور معاہدے کے تحت فلسطین قومی وطن کےطور پرحوالے کرنےکا فیصلہ کرلیا تھا، اس کے لیے انتظامات ہوئےاور یہودی آنا شروع ہوگئے۔ جب برطانیہ نے قبضہ کیاتو بتایا یہ جاتا ہے، بلکہ میں کل ہی ایک پرانی دستاویز پڑھ رہا تھا، اس کے مطابق اس وقت فلسطین میں یہودیوں کی کل آبادی دو ہزار تھی۔ برطانوی سرپرستی میں مختلف علاقوں سے یہودی وہاں آ کر آباد ہونا شروع ہوئے، زمینیں خرید کر مکان بناتے رہے، اورایک علاقہ کو ٹارگٹ کرلیا تھا کہ ہم نے یہ علاقہ اپنی اکثریت کا علاقہ بنانا ہے۔ کراچی سے، بمبئی سے، روس سے، جرمنی سے یہودی اکٹھے ہوئے۔
اس دوران جب یہودی دنیا کے مختلف حصوں سے وہاں جا کر فلسطینیوں سے زمینیں خرید رہے تھے اور فلسطینی زمینیں بیچ رہے تھے، اس وقت فلسطین کے مفتی اعظم حضرت سید مفتی امین الحسینیؒ جوان تھے، صدر ایوب خان کے زمانے میں پاکستان بھی تشریف لائے ہیں، انہوں نےفتویٰ دیا تھا کہ فلسطین کی زمین یہودیوں پر بیچنا شرعاً جائز نہیں ہے کیونکہ یہ یہاں آباد ہو کر اپنی آبادی بنا کر اور اپنی ریاست قائم کر کے بیت المقدس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس فتوے کی تائید میں ہمارے بزرگوں نے بھی فتوے دیے۔ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کا فتویٰ ”کفایت المفتی“ میں موجود ہے۔ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ نے مستقل کتابچہ لکھا اس پر جو اُن کی تصنیف ”بوادر النوادر“ کا حصہ ہے۔ انہوں نے بھی یہی بات کی کہ مفتی اعظم فلسطین ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ لیکن قوموں کے اپنے اپنے مزاج ہوتے ہیں، فلسطینیوں نے فتوے کی پرواہ نہیں کی، البتہ فتوے کا اثر یہ ہوا کہ زمین کی قیمت تین چار گنا ہو گئی، یہودی خریدتےچلے گئے، فلسطینی بیچتےچلے گئے۔
فلسطین ۱۹۴۷ء تک برطانیہ کی نوآبادی رہا ہے۔ ۱۹۴۵ء میں جب اقوام متحدہ بنی تو برطانیہ نے دیکھا کہ فلسطین کے ایک حصے میں یہودیوں کی اتنی آبادی ہو گئی ہے کہ اگر ہم ریفرنڈم کروا کے ان کو وہ حصہ بطور ریاست دلوا دیں تو یہ ممکن ہے۔ برطانیہ نے اقوام متحدہ کو درخواست دے دی کہ میں فلسطین سے جانا چاہتا ہوں لیکن یہ چاہتا ہوں کہ ان کا مسئلہ حل کر دیاجائے، جس حصہ میں یہودی اکثریت ہے وہاں یہودی ریاست اسرائیل قائم کر دی جائے۔ چنانچہ اقوام متحدہ نے ۱۹۴۷ء میں فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا:
(۱) ایک حصہ اسرائیل (۲) دوسرا حصہ فلسطین (۳) تیسرا حصہ بیت المقدس۔
بیت المقدس پر عیسائی بھی دعویدار ہیں بیت اللحم کے حوالے سے ہے۔ بیت اللحم سے مراد ”مکاناً شرقیا“ (مریم ۱۶) جہاں حضرت عیسٰیؑ کی ولادت ہوئی۔ یہ بیت المقدس سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، یہ عیسائیوں کا قبلہ ہے۔مسلمانوں کا بھی دعویٰ ہے مسجد اقصٰی کے حوالے سے۔ یہ جو سنہرا گنبد دکھایاجاتا ہے یہ مسجد صخرہ کہلاتی ہے، مسجد اقصیٰ الگ ہےاور یہودیوں کا دعویٰ ہیکل سلیمانی کے حوالے سے ہے۔
تین قوموں کا فلسطین پر دعویٰ ہے اور یہ تینوں جگہیں الگ الگ ہیں۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں