احمد خلیل قاسمی مدرسہ قاسم العلوم ملتان کے بانی مفتی محمد شفیع ملتانی کے پوتے ، مولانا عبد البر محمدقاسم کے بیٹے ہیں ۔وہ مدرسہ قاسم العلوم میں میرے ہم مکتب اور جماعت رہے ،حفظ قرآن کے بعد احمد خلیل قاسمی سرکاری سکول میں چلے گئے جبکہ میں ملتان کے ایک نامور پرائیویٹ ادارے ملت ہائی اسکول میں داخل ہوگیا جہاں مولانا فضل الرحمن مجھ سے تین سال سینئر تھے مدرسے میں مولانا کا دبدبہ ہوتا تھا کہ وہ مدرسہ کے مفتی مولانا محمود ؒ کے بڑے فرزند ارجمند تھے ۔البتہ مولانا فضل الرحمن چھوٹے بھائی عطا الرحمن اور میں قاری الہی بخشؒ کے شاکرد تھے۔
گزشتہ روز احمد خلیل قاسمی سے سرراہ ملاقات ہوئی تو انہوں نے مولا فضل الرحمن کے بارے میں یکے دیگر تلخ سوالات کی بوچھاڑ کر دی اور مولانا کے سیاسی قدو قامت پر کچھ ایسے سوالات داغے جو مولانا کے سیاسی اور مذہبی کردار کی نامکمل تصویرلگے ۔ مجھے ان کی گفتگو سے یوں محسوس ہوا جیسے مولانا محض ایک مذہبی رہنما ہیں ۔ جبکہ میرے نزدیک مولانا کو مذہبی رہنما یا روایتی سیاست دان کے طور پر دیکھنا ان کے کردار کو محدود کر دینا ہے۔ وہ ایک ایسا پیچیدہ سیاسی وجود ہیں جن میں دینی روایت، سیاسی بصیرت اور اقتدار کی کشش تینوں ایک ساتھ سانس لیتی نظر آتی ہیں۔ یہی امتزاج انہیں پاکستانی سیاست کا مستقل مگر متنازع حوالہ بناتا ہے۔مولانا کی فکری تربیت ایک خالص دینی ماحول میں ہوئی۔ مدرسے کی روایت، فقہی استدلال، اور مذہبی متون سے گہری واقفیت ان کی شخصیت کا بنیادی حصہ ہے۔ وہ مذہب کو محض جذباتی نعرے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک منظم فکری نظام کے طور پر سمجھتے اور پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو میں مذہبی دلیل اکثر سیاسی موقف کو جواز فراہم کرتی دکھائی دیتی ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ فکری روایت سیاست کو رہنمائی دیتی ہے، یا سیاست اس فکر کو اپنی سہولت کے مطابق برتتی ہے؟
یہیں سے مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا وہ پہلو سامنے آتا ہے جو انہیں صرف ایک عالم نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک چابک دست سیاسی مدبر بنا دیتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاست نعروں سے نہیں، سودے بازی سے چلتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اقتدار تک پہنچنے کے راستے صرف اصولوں سے نہیں بلکہ سمجھوتوں سے بنتے ہیں۔
مولانا کی سیاست کی سب سے نمایاں خصوصیت یہی ہے کہ وہ کبھی بھی خود کو مکمل طور پر اقتدار سے باہر نہیں ہونے دیتے۔ وہ اپوزیشن میں ہوں تو بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتے، اور اقتدار کے قریب ہوں تو نظریاتی شدت کم کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ بعض لوگوں کو موقع پرستی لگتا ہے، مگر سیاست کے طالب علم جانتے ہیں کہ یہ رویہ طاقت کے توازن کو سمجھنے کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مولانا فضل الرحمن سیاست کو اخلاقی معرکہ نہیں بلکہ ایک عملی فن سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اقتدار بذاتِ خود مقصد نہیں، مگر اقتدار کے بغیر فکر کو نافذ کرنا ناممکن ہے۔ یہی سوچ انہیں ہر اس قوت کے قریب لے جاتی ہے جو ریاستی طاقت کے مرکز میں ہو۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں ان پر سب سے زیادہ تنقید ہوتی ہے۔ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ مولانا نے مذہب کو سیاست کی سیڑھی بنا لیا۔ وہ دینی بیانیے کو اس وقت نرم کر دیتے ہیں جب اقتدار قریب ہو، اور جب اقتدار دور ہو تو وہی بیانیہ سخت ہو جاتا ہے۔ یہ تنقید بے بنیاد نہیں، مگر یہ مکمل تصویر بھی نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن مذہب کو جامد نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک مذہب ایک ایسی تعبیر ہے جو وقت، حالات اور قوت کے مراکز کو سمجھ کر اپنا راستہ بناتی ہے۔ یہ تعبیر ہمیں پسند آئے یا نہ آئے، مگر اسے محض منافقت کہہ کر رد کر دینا فکری دیانت نہیں ۔ مولانا کا سیاسی تدبر اسی نکتے سے جنم لیتا ہے۔ وہ ریاستی طاقت کے ڈھانچے کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے براہِ راست ٹکرائو ہمیشہ نقصان دہ ہوتا ہے، اس لیے وہ محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ رویہ انہیں وقتی طور پر فائدہ بھی دیتا ہے اور طویل المدت تنقید کا نشانہ بھی بناتا ہے۔
ان کی سیاست میں ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ عوامی جذبات کو ابھارنے کے فن سے بھی واقف ہیں، مگر اس فن کو آخری حد تک نہیں لے جاتے۔ وہ جانتے ہیں کہ حد سے بڑھی ہوئی مزاحمت نظام کو تو ہلا سکتی ہے، مگر خود سیاست دان کو بھی مٹا دیتی ہے۔ اس لیے وہ احتجاج کو دبائو کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، انقلاب کے وعدے کے طور پر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریکیں اکثر فیصلہ کن موڑ پر جا کر رک جاتی ہیں۔ ناقدین اسے پسپائی کہتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایک حساب شدہ واپسی ہوتی ہے۔
مولانا فضل الرحمن کی اقتدار سے رغبت کو سمجھنے کے لیے یہ ماننا ہوگا کہ وہ اقتدار کو محض ذاتی مفاد نہیں سمجھتے، بلکہ ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں سے مذہبی طبقے کی نمائندگی ممکن ہو۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ نمائندگی اکثر اشرافیہ کی سیاست میں ضم ہو جاتی ہے، اور عام آدمی تک اس کے ثمرات کم ہی پہنچتے ہیں۔یہی وہ تضاد ہے جو مولانا کی سیاست کو مسلسل سوالات کے گھیرے میں رکھتا ہے۔
وہ ایک طرف مذہبی اخلاقیات کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف اقتدار کی سیاست میں وہی چالیں چلتے ہیں جو دیگر سیاست دانوں کا خاصہ ہیں۔ یہ تضاد شاید ان کی کمزوری نہیں بلکہ پاکستانی سیاست کی مجبوری ہے، جہاں نظریات یا تو اقتدار کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہیں یا تاریخ کے حاشیے پر چلے جاتے ہیں۔
مولانا نے حاشیے پر جانے کے بجائے مرکز میں رہنے کا انتخاب کیا۔ یہ انتخاب انہیں طاقت بھی دیتا ہے اور الزام بھی۔
آج مولانا فضل الرحمن کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اہم نہیں کہ وہ مذہبی ہیں یا سیاسی، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس حد تک اپنی فکری روایت کو اقتدار کی سیاست میں محفوظ رکھ پائے ہیں۔ کیا ان کی سیاست نے مذہب کو طاقت دی، یا سیاست نے مذہب کو نرم کر دیا؟
اس سوال کا جواب شاید خود مولانا کے پاس بھی مکمل طور پر نہیں۔
لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستانی سیاست کے ان چند کرداروں میں سے ہیں جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ وہ نظام کے اندر رہ کر کھیلنے والے سیاست دان ہیں، اور ایسے سیاست دان ہمیشہ متنازع مگر موثر ہوتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کی سیاست ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اس ملک میں فکر، تدبر اور اقتدار کبھی الگ الگ نہیں چلتے۔ جو انہیں الگ رکھنے کی کوشش کرتا ہے، وہ یا تو ناکام ہوتا ہے یا خاموش۔
اور شاید یہی مولانا کی سب سے بڑی کامیابی بھی ہے، اور سب سے بڑا سوال بھی۔