Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
بلکہ آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ ایک چوتھی قوم کا دعویٰ بھی فلسطین پر ہے، بہائیوں کا۔ جو مرزا بہاءاللہ شیرازی اور محمد علی الباب کے پیرو ہیں، اور قادیانیوں کے ساتھ ساتھ یہ ایران میں مستقل مذہب چل رہا ہے اور وہ دنیا بھر میں موجود ہیں۔ بہائیوں کا قبلہ ”عکہ“ ہے جو کہ فلسطین میں ہے۔ جب ایرانیوں نے انہیں نکالا تو بہاء اللہ شیرازی وہاں جا کر آباد ہو گئے۔ ان کی قبربھی وہیں ہے، ان کے بیٹے عبدالبہاء بھی وہیں ان کے جانشین بنے۔ بہائی کمزور نہیں ہیں، تعداد میں تھوڑے ہیں لیکن بااثر ہیں۔ اس وقت جو فلسطین کے باضابطہ صدر ہیں محمود عباس، یہ بہائی ہیں۔
چنانچہ چار قوموں کے قبلے ہیں فلسطین میں۔
اقوام متحدہ کی تقسیم میں فلسطین یہودیوں کو دے دیا گیا، اورچونکہ فلسطین پر عیسائیوں کااپنا دعویٰ بھی تھا،تو بیت المقدس (یروشلم) کواس سے الگ رکھا۔ بیت المقدس نہ یہودیوں (اسرائیل) کو دیا، نہ مسلمانوں (فلسطینیوں) کو دیا۔ اسے عارضی طور پر اردن کے کنٹرول میں دے دیا، یہ کہہ کر کہ اس کا فیصلہ بعد میں بین الاقوامی سطح پر کریں گے۔ اور بعد میں فیصلہ کرنے کے حوالے سے عیسائی قیادت کا ذہن یہ ہے کہ وہاں تینوں مذاہب کی مشترکہ کمیٹی قائم کر کے اس کا کنٹرول اس کو دے دیا جائے۔ جو اسرائیل کا باضابطہ نقشہ ہے، اس میں بیت المقدس اسرائیل کا حصہ نہیں ہے، اردن کا حصہ ہے۔
جب اسرائیل بنا تو اسرائیل کو یورپی ممالک، امریکہ اور روس نے تسلیم کیا، اسے سپورٹ کیا، ریاست بنوائی، اسباب مہیا کیے، اس کو مستحکم کیا۔ بعد میں ۱۹۶۷ء میں اسرائیل کی تین ملکوں مصر، شام اور اردن کے ساتھ بیک وقت جنگ ہوئی۔ یہ میرے طالبعلمی کے زمانہ کی بات ہے، میں بھی جلوس وغیرہ نکالنے میں شامل تھا جمعیت طلبہ اسلام کے نام سے۔ اس جنگ میں اسرائیل نے تینوں ملکوں کو شکست دے کر مصر کے صحرائے سینا پر قبضہ کر لیا، شام کی گولان یہاڑیوں پر قبضہ کر لیا، اور اردن کے یروشلم (بیت المقدس) پر قبضہ کر لیا۔
تب سے بیت المقدس اسرائیل کے قبضے میں ہے جو کہ اردن کے ساتھ ہی ہے، عمان سے تین چار گھنٹے کی ڈرائیو ہے۔ اسرائیل نے قبضہ کر کے اس کو اپنے ساتھ شامل کر لیا۔ اس کے بعد مصر نے تو اپنا علاقہ جنگ کر کےچھڑوا لیا لیکن شام کے مقبوضات اور یروشلم ابھی تک اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔
اس وقت موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء میں اقوام متحدہ نے جو سرحدیں طے کی تھیں اس کے مطابق اسرائیل الگ تھا، فلسطین الگ،اور یروشلم الگ تھا۔ اسرائیل کے ۱۹۶۷ء کے قبضے کو عالمی برادری تسلیم نہیں کر رہی۔ بیت المقدس متنازعہ سمجھا جا رہا ہے، اقوام متحدہ بھی اسے متنازعہ ہی کہتی ہے، اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اس دوران اسرائیل نے اسے دارالحکومت قرار دینے کا اعلان کر دیا کہ بیت المقدس ہمارا دارالحکومت ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ملکوں کے سفارت خانے دارالحکومت میں ہوتے ہیں، عالم اسلام نے احتجاج کیا اور کہا کہ جو ملک بھی اپنا سفارت خانہ وہاں لے جائے گا ہم اس کے بارے میں پالیسی طے کریں گے کہ اس کا ہمارے ساتھ کیا تعلق ہے، اس لیے بہت سے ملک ہچکچاتے رہے ہیں۔
امریکہ اسرائیل کے ساتھ ہے لیکن اس بارے میں ہچکچاتا رہا، لیکن بعد میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ صاحب نے اعلان کر دیا کہ ہم اپنا سفارت خانہ یروشلم میں منتقل کریں گے۔ سفارت خانہ یروشلم میں منتقل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیل کا باضابطہ دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں حالانکہ وہ بین الاقوامی معاہدات میں متنازعہ ہے اور عالم اسلام کے ہاں بھی متنازعہ ہے بلکہ ہمارے نزدیک تو پورا فلسطین متنازعہ ہے۔
میں نے عرض کیا تھا کہ اللہ رب العزت نے یہود کے بارے میں قرآن مجید میں بیسیوں باتیں فرمائی ہیں، ان میں سے ایک کا حوالہ میں نے دیا تھا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا ”ضربت علیھم الذلۃ این ما ثقفوا الی بحبل من اللّٰہ و حبل من الناس“ (آل عمران ۲۱۱)۔ اللہ کی رسی، جس کی تفصیل مفسرین یوں فرماتے ہیں کہ دین اسلام قبول کر لیں۔ لوگوں کی رسی سے مراد یہ کہ لوگوں کی کوئی بڑی طاقت ان کا سہارا بن جائے۔ ”بحبل من الناس“ کا منظر آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ یہودیوں کا سب سے بڑا سہارا بنا ہوا ہے، اور اس حد تک سہارا بنا ہوا ہے کہ پوری دنیا کی اجتماعی رائے کو رد کر کے امریکہ کا صدر ٹرمپ یہودیوں کی حمایت میں اور بیت المقدس پر یہودیوں کا استحقاق جتانے کے لیے بڑی مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے۔ ایک تو اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں یہ فرمایا تھا کہ یہودیوں کو عزت نصیب نہیں ہوگی سوائے دو طریقوں کے، ”بحبل من اللّٰہ“ یا ”بحبل من الناس“۔ آج پوری دنیا کی اجتماعی رائے اس بات کو تسلیم نہیں کر رہی کہ بیت المقدس اسرائیل کا حصہ ہے لیکن ”بحبل من الناس“ کی سب سے بڑی علامت صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو اسرائیلیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ہر قیمت پر یہ کریں گے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں