سوئٹزرلینڈ کے مشرق میں واقع ایک الپائن قصبہ جو سطح سمندر سے تقریباً 5.120 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور یورپ کے بلند ترین شہروں میں شمار ہوتا یے ۔ جغرافیائی لحاظ سے جرمنی ،آسٹریا اور اٹلی کے متصل ہے ۔برف پوش پہاڑ،گہری وادیاں اور محدود راستوں کے اعتبار سے فطری طور پر محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے ، اسے Davus کہتے ہیں۔ یہ محض ایک کانفرنس سٹی نہیں بلکہ جدید عالمی سیاست، معیشت اور ایک فکری قوت کے طور پر اپنی پہچان رکھتا ہے ۔ جغرافیائی حیثیت اور تاریخی ترقی نے اسے وہ مقام دے دیا ہے کہ یہ آج عالمی نظام میں نمایاں ہے اور فطری تنہائی، جغرافیائی تحفظ اورسیاسی غیر جانبداری نے اسے عالمی قیادت کے خفیہ ،مگر موثر مکالموں کے لئے منفرد حیثیت عطا کی ہوئی ہے، عالمی سطح پر جب بھی مستقبل کے سنجیدہ مکالمے کی ضرورت پیش آتی ہے تو عالمی اشرافیہ، ریاستی قوتیں کارپوریٹ مفادات پر بات چیت کے لئے ڈیووس ہی کو مستقر بناتی ہیں۔امسال ڈیووس میں فقظ معاشی امکانات یا سرمایہ کاری ہی کو مذاکرات کی میز پر موضوع سخن نہیں بنایا گیا بلکہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اضطراب ، بے یقینی اور عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے امکانات کی نوحہ گری کی گئی۔ اس موقع پر سب سے موثر اور چونکا دینے والی تقریر کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کی جس کی گونج دنیا بھر میں ایک چشم کشا فکری بیانیہ بنکر ابھری۔ کارنی نے بڑے تحمل، مگر غیر معمولی صراحت کے ساتھ کہا کہ دنیا کسی منتقلی (transition) کے مرحلے میں نہیں، بلکہ ایک دراڑ (rupture) سے گزر رہی ہے۔
یہ جملہ اپنی ساخت میں سادہ، مگر اپنے مفہوم میں نہایت بھاری تھا۔ گویا انہوں نے اس خوش فہمی کو رد کر دیا کہ موجودہ عالمی بے ترتیبی عارضی ہے اور سب کچھ جلد پرانے سانچوں میں واپس آ جائے گا۔ ان کے نزدیک ’’قواعد پر مبنی وہ عالمی نظام، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکی قیادت میں تشکیل پایا تھا، اب اپنی اخلاقی اور علمی بنیادیں کھو چکا ہے۔‘‘ یہاں سوال یہ نہیں کہ وزیر اعظم کارنی کا یہ دعویٰ درست یے یا نہیں ، بلکہ انہوں نے یہ بات اس وقت، اس فورم اور اس لہجے میں کیوں کہی؟ کینیڈا کوئی انقلابی ریاست نہیں، نہ ہی مارک کارنی کسی اشتعال انگیز سیاست کے نمائندہ سمجھے جاتے ہیں۔ وہ ایک بینک کار، ماہرِ معیشت اور ادارہ جاتی سوچ کے حامل رہنما کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔ اسی لئے ان کی زبان سے عالمی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کا اعتراف غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔کارنی کے خطاب کا ایک مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ’’آج کی بڑی طاقتیں معیشت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ تجارت، توانائی، سپلائی چین اور مالیاتی نظام اب باہمی فائدے کے بجائے دبائو اور سزا کے اوزار بنتے جا رہے ہیں‘‘ یہ بات بظاہر چین اور امریکہ کی باہمی کشمکش کی طرف اشارہ کرتی ہے، مگر اس کی زد میں یورپ، لاطینی امریکہ اور ترقی پذیر دنیا بھی آتی ہے۔ پابندیاں، ٹیرف، ٹیکنالوجی کی بندش اور مالیاتی رسائی کی پابندیاں اب خارجہ پالیسی کے مستقل آلات بن چکی ہیں۔ اسی تناظر میں کارنی نے مڈل پاورزیعنی درمیانی درجے کی ریاستوں کو ایک واضح پیغام دیا کہ ’’ اکیلے رہنا اب ممکن نہیں۔‘‘ ان کا مشہور جملہ کہ اگر آپ میز پر نہیں ہیں تو آپ مینو میں ہیں محض ایک فقرہ نہیں، بلکہ طاقت کی نئی سیاست کا خلاصہ ہے۔ عالمی فیصلے محدود ہاتھوں میں سمٹتے جا رہے ہیں اور جو ممالک اجتماعی آواز نہیں بناتے، وہ فیصلوں کا موضوع بن جاتے ہیں، شریک نہیں۔ تاہم کارنی کی تقریر کو محض امریکہ مخالف بیانیہ قرار دینا بھی ایک سادہ کاری ہوگی۔ انہوں نے کسی ملک کا نام لئے بغیر ایک عمومی رجحان کی نشاندہی کی کہ ’’طاقت جب احتساب سے آزاد ہو جائے تو نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔‘‘ یہ تنقید محض واشنگٹن پر نہیں، بیجنگ، ماسکو اور دیگر طاقتور مراکز پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ان کا خطاب توازن اختیار کرتا ہے اور یک رخی الزام تراشی سے بچائو کا ہتھیار لگتا ہے ۔
کینیڈا کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ تقریر ایک دفاعی اعلان بھی تھی۔ کینیڈا ایک ایسی معیشت ہے جو کھلے تجارتی نظام، کثیرالجہتی اداروں اور قانونی ضابطوں سے فائدہ اٹھاتی رہی ہے۔ جب یہ ڈھانچہ کمزور ہوتا ہے تو سب سے زیادہ نقصان انہی ریاستوں کو پہنچتا ہے جو نہ عسکری سپر پاور ہیں، نہ مالیاتی اجارہ دار۔ اس لئے کارنی کی فکر دراصل کینیڈا جیسے ممالک کی اجتماعی بے چینی کی نمائندگی کرتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیووس میں کارنی کے خطاب کو جہاں بعض حلقوں نے جرات مندانہ قرار دیا، وہیں کچھ ناقدین نے اسے اخلاقی خطابت (moral rhetoric) کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش بھی کی۔ ان کے مطابق مسئلہ نظام کے ٹوٹنے کا نہیں، بلکہ طاقت کے توازن کی تبدیلی کا ہے اور تاریخ میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔
(جاری ہے)