Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

خواتین کی ذمہ داریاں

عورت انسانی معاشرے کی بنیاد اور تہذیب و تمدن کی تشکیل میں ایک مرکزی کردار رکھتی ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں عورت کا وجود محض ایک فرد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک نسل ساز، اقدار کی محافظ اور معاشرتی سمت متعین کرنے والی قوت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم موجودہ دور میں عورت کے مقام اور کردار کے بارے میں شدید فکری انتشار پایا جاتا ہے۔ آزادی، مساوات اور حقوق کے نام پر ایسے تصورات پیش کئے جا رہے ہیں جو بظاہر عورت کی فلاح کے علمبردار ہیں، مگر حقیقت میں اس کی شناخت، مقصد اور ذمہ داریوں کو دھندلا رہے ہیں۔اس فکری کشمکش میں سب سے زیادہ متاثر خود عورت ہو رہی ہے، جو ایک طرف جدید نعروں کی چکاچوند میں الجھی ہوئی ہے اور دوسری طرف اپنی فطری اور دینی ذمہ داریوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ عورت کو حقوق ملنے چاہییں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان حقوق کا تعین کس بنیاد پر ہو اور ان کا استعمال کس مقصد کے تحت ہو۔ اگر عورت کو اس کی اصل ذمہ داریوں سے کاٹ دیا جائے تو یہ نہ صرف اس کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں عورت کے نام پر سب سے زیادہ نعرے وہی لوگ لگاتے ہیں جو عملا عورت کو سب سے زیادہ استعمال اور استحصال کا نشانہ بناتے ہیں۔ آزادی، مساوات اور حقوقِ نسواں کے خوشنما نعروں کے پیچھے ایک ایسا نظام کارفرما ہے جو عورت کو عزت کے بجائے محض ایک نمائش، ایک شے اور ایک ذریعہ تجارت بنا چکا ہے۔ مغربی معاشرہ بظاہر عورت کو بااختیار دکھاتا ہے، مگر حقیقت میں اسے اشتہارات، میڈیا اور صارفیت کی منڈی میں سب سے سستی جنس بنا کر پیش کرتا ہے۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اسی فکری یلغار کے زیرِ اثر ہمارے معاشروں میں بھی کچھ حلقے دانستہ یا نادانستہ طور پر انہی نظریات کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔
آزادی نسواں کے نام پر عورت کو اس کے فطری مقام، خاندانی رشتوں اور اخلاقی ذمہ داریوں سے کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے نعرے متعارف کروائے جا رہے ہیں جو بظاہر دلکش ہیں مگر درحقیقت عورت کو بغاوت، انتشار اور بے سمتی کی طرف دھکیلنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔اسلام عورت کو نہ تو قید کرتا ہے اور نہ ہی بے لگام چھوڑتا ہے، بلکہ اسے عزت، وقار اور مقصد عطا کرتا ہے۔ اسلام کا تصورِ حیات مرد و عورت دونوں کے لئے متوازن، جامع اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ عورت کو ماں، بیٹی، بہن، بیوی اور داعیہ کے طور پر جو مقام دیا گیا ہے، وہ کسی بھی انسانی نظام میں نایاب ہے۔ ایمان والی عورت محض گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ وہ معاشرے کی اصلاح، نسل کی تربیت اور دین کی حفاظت میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ اہلِ ایمان مرد و عورت دین کے کام میں ایک دوسرے کے ساتھی اور مددگار ہیں۔ یہ رفاقت محض گھریلو یا معاشی معاملات تک محدود نہیں بلکہ نیکی کے فروغ، برائی کے انسداد اور حق کے قیام تک پھیلی ہوئی ہے۔ جس طرح گمراہی اور باطل کے علمبردار مرد و عورت مل کر اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہیں، اسی طرح اہلِ ایمان پر بھی لازم ہے کہ وہ دین کی بنیاد پر ایک منظم قوت بنیں۔تاریخ اسلام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی امت نے عروج پایا، اس کے پیچھے ایمان والی خواتین کا کردار نمایاں رہا۔ حضرت خدیجہؓ کی مالی قربانی، حضرت عائشہؓ کا علمی مقام، حضرت فاطمہؓ کی سادگی و صبر، اور صحابیات کی دعوت و خدمتیہ سب مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام میں عورت کو کبھی غیر مثر یا غیر فعال نہیں سمجھا گیا۔اس کے برعکس، منافقانہ رویہ یہ ہے کہ زبان پر دین کا نام ہو مگر عمل اس کے خلاف ہو۔ ایسے مرد و عورت معاشرے میں برائی کو عام کرتے ہیں، نیکی کو مشکل اور مذاق بنا دیتے ہیں، اور دین کے اجتماعی تقاضوں سے جان چھڑانے کے لیے مختلف حیلے بہانے تراشتے ہیں۔ وہ خود بھی قربانی سے بھاگتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جو امت کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔ایسے حالات میں ایمان والی خواتین کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی شناخت کو پہچانیں، اپنے مقصد کو سمجھیں اور اپنی صلاحیتوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کریں۔ سب سے پہلے گھر، کیونکہ گھر ہی معاشرے کی پہلی درسگاہ ہے۔ اگر ماں باکردار، باخبر اور باایمان ہو تو نسلیں سنور جاتی ہیں۔
بچوں میں ایمان، غیرت، حیا اور سچائی کی قدریں راسخ کرنا عورت کا عظیم ترین کارنامہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ، خواتین کو معاشرتی سطح پر بھی نیکی کے پیغام کو عام کرنا ہوگا۔ دعوت، تعلیم، اصلاح اور خدمت کے میدان ان کے لئے کھلے ہیں، بشرطیکہ یہ سب قرآن و سنت کے دائرے میں ہو۔ عورت کا کردار خاموش تماشائی کا نہیں بلکہ باشعور داعیہ کا ہونا چاہیے، جو فتنوں کو پہچانے، ان کا فکری جواب دے اور اپنی ذات و نسل کو محفوظ رکھے۔ آج کا دور فتنوں کا دور ہے۔ بے حیائی کو معمول، گناہ کو آزادی اور دین سے دوری کو روشن خیالی کہا جا رہا ہے۔ ایسے میں ایمان والی عورت اگر مضبوطی سے کھڑی ہو جائے، تو یہ امت کے لیے ڈھال بن سکتی ہے۔ اس کے کردار کی مضبوطی سے گھر محفوظ، معاشرہ متوازن اور امت باوقار ہو سکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایمان والی خواتین خود احتسابی کریں، اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لیں اور یہ طے کریں کہ وہ کس صف میں کھڑی ہیں۔ کیا وہ محض نعروں سے متاثر ہو کر اپنی اصل ذمہ داریوں سے غافل تو نہیں ہو رہیں؟ یا وہ شعوری طور پر دین کی سربلندی کے لئے اپنا حصہ ڈال رہی ہیں؟جب اہلِ ایمان مرد و عورت اخلاص، اتحاد اور قربانی کے ساتھ ایک صف میں کھڑے ہو جائیں، تو اللہ کی مدد ضرور شامل حال ہوتی ہے۔ تاریخ اس کی شاہد ہے اور مستقبل بھی اسی اصول کا پابند ہے۔ ایمان والی خواتین اگر اپنے کردار کو پہچان لیں اور عمل کے میدان میں اتریں، تو امت کی تقدیر بدل سکتی ہے، خلاصہ یہ کہ عورت کا اصل مقام نعروں، جذباتی دعوں یا وقتی فکری رجحانات سے متعین نہیں ہوتا بلکہ اس کی پہچان اس مقصد سے جڑی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کیا ہے۔ جب عورت اپنی دینی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں کو شعوری طور پر قبول کرتی ہے تو وہ صرف ایک فرد نہیں رہتی بلکہ ایک خاندان، ایک معاشرے اور بالآخر ایک امت کی تعمیر کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس کے کردار کی مضبوطی سے اقدار محفوظ رہتی ہیں، نسلیں سنورتی ہیں اور فتنوں کے سامنے ایک مضبوط دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین اپنے کردار کو دوسروں کے طے کردہ پیمانوں کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھیں۔ آزادی وہی بامعنی ہے جو بندگی کے دائرے میں ہو، اور ترقی وہی پائیدار ہے جو اخلاق اور ایمان کے ساتھ جڑی ہو۔ اگر ایمان والی عورت خود کو پہچان لے، اپنی ترجیحات درست کر لے اور اخلاص کے ساتھ دین و معاشرے کی خدمت میں جت جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ امت دوبارہ عزت و وقار کی راہ پر گامزن نہ ہو۔آخرکار، عورت کا اصل حسن اس کے کردار، اس کی حیا، اس کے شعور اور اس کے مقصد میں ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو نہ صرف اسے باوقار بناتا ہے بلکہ پوری انسانیت کے لئے خیر کا ذریعہ بنتا ہے۔ ان شا اللہ۔

یہ بھی پڑھیں