(گزشتہ سے پیوستہ)
ایک اور بات اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں فرمائی ہے ”لتفسدن فی الارض مرتین ولتعلن علوًا کبیرًا“ (الاسراء ۴) کہ ہم نے بنی اسرائیل کو یہ کہہ دیا تھا، تورات میں لکھ دیا تھا کہ تم دو دفعہ بڑے فساد کرو گے اور دو دفعہ دنیا پر اپنی چوہدراہٹ جتانے کی کوشش کرو گے، اور ہم دونوں دفعہ تمہیں سزا دیں گے۔ یہ دونوں واقعات گزرچکے ہیں۔ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی بخت نصر کے ذریعے ”بعثنا علیکم عبادًا لنا اولی باس شدید فجاسوا خلال الدیار“ (الاسراء ۵)۔ دوسری دفعہ ان کو سزا دی طیطس رومی کےذریعےجس نےبیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ایک بات اور بھی فرمائی ہے ”و ان عدتم عدنا“ (الاسراء ۸) اگر تم دوبارہ اپنی انہی حرکات پر لوٹو گے تو ہم بھی تمہیں وہی سزا دیں گے۔ تاریخ کے ایک طالبعلم کے طور پر میں سمجھتا ہوں، میرا اندازہ ہے، میں یقینی بات نہیں کر رہا کہ اب ”ان عدتم عدنا“ کا ماحول پیدا ہو رہا ہے، یہودی دنیا میں دوبارہ اکٹھے ہو رہے ہیں بلکہ اکٹھے ہو چکے ہیں، اور یہود ایک طرف ہیں باقی دنیا دوسری طرف ہے، اور پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کے یہود کی حرکتوں کے حوالے سے جذبات آپ کے سامنے ہیں۔
میں اس پر ایک واقعہ بیان کرتا ہوں، والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے جب علامات قیامت پر یہ حدیث پڑھی کہ یہودیوں کے ساتھ تمہاری جنگیں ہوں گی، والد محترم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے استاذ محترم سے سوال کیا تھا کہ یہودی تو دنیا میں کہیں بھی اکٹھے نہیں ہیں، ان کی کہیں ایک ریاست بھی نہیں ہے، اور ہم جیسے تیسے بھی ہیں بہرحال ہماری ریاستیں ہیں، قومیں ہیں، ملک ہیں، علاقے ہیں۔ یہودیوں کی ہم سے لڑائیاں کیسے ہوں گی؟ تو استاد محترم نے کہا تھا کہ بات تو سمجھ میں نہیں آتی لیکن ایسے ہی ہوگا کیونکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے تو ہمارا ایمان ہے کہ ایسے ہو گا۔ والد گرامی فرماتے تھے کہ جو بات ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی وہ ہم نے اپنی آنکھوں سے ہوتی دیکھی کہ دنیا بھر سے یہودی ایک جگہ اکٹھے ہو رہے ہیں اور بڑی تعداد اکٹھی ہو چکی ہے اور ساری دنیا سے جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔
اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ”ان عدتم عدنا“ کی تیاری کے مراحل ہیں کہ یہودی دوبارہ جمع ہو رہے ہیں، ساری دنیا کے خلاف محاذ آرائی کیے ہوئے ہیں، اور حالات اس طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس میں ہمارے لیے بھی بہت آزمائش کی باتیں ہیں، دجال کا ظہور وغیرہ ابھی بہت سی علامات باقی ہیں۔
آج سے سو سال پہلے یہود کی یہ کیفیت نہیں تھی جو آج ہے۔ خیبر سے جلاوطنی سے لے کر آج سے سو سال پہلے تک یہود کا مسلمانوں کے ساتھ کہیں کوئی تنازعہ، لڑائی نہیں تھی۔ عیسائیوں کے ساتھ ان کے تنازعات تھے اور ہم انہیں پناہ دیا کرتے تھے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ”لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا“ (المائدہ ۸۲) کہ پوری نسل انسانیت میں مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہودی ہیں۔ اب منظر یہ ہے کہ یہودی اور عیسائی اکٹھے ہوگئے ہیں، دماغ یہود کا ہے، یہود کے پاس پیسے ہیں، باقی وسائل و اسباب عیسائیوں کے ہیں۔ یہود نے آج سے دو صدیاں قبل پہلے پروٹوکول کے نام سے جو منصوبہ بندی کی تھی وہ بتدریج آگے بڑھ رہی ہے، اس کے دو مظاہر میں عرض کرنا چاہوں گا۔
اس وقت امریکہ سب سے بڑی طاقت ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ظاہری اعتبار سے، مادی اعتبار سے، عسکری اعتبار سے اور سیاسی اعتبار سے امریکہ دنیا کی سب سے بڑی قوت ہے اور اس کے دعوے کو کوئی بھی چیلنج نہیں کر رہا۔ افغانستان کے جہاد تک دنیا میں دوبڑی قوتیں شمارکی جاتی تھیں: امریکہ اورروس۔انکے درمیان سرد جنگ (کولڈ وار) انیسویں صدی تک رہی ہے۔ افغانستان کی جنگ کے خاتمے پر امریکہ نے نیو ورلڈ آرڈر کے نام سے یہ اعلان کیا کہ اب وہ واحد عالمی سپرپاور ہے، یک قطبی طاقت ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ یہ بات فطرت کے خلاف ہے۔ دنیا میں کبھی یک قطبی طاقت نہیں رہی، اللہ تبارک وتعالیٰ کا سوسائٹی میں یہ نظام چلا آ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ بیلنس رکھتے ہیں، فرمایا ”ولولا دفع اللّٰہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع وبیع وصلوات ومساجد یذکر فیھا اسم اللّٰہ کثیرًا“ (الحج ۴۰)۔ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ میں لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے روکتا رہتا ہوں، ایک طاقت بڑھتی ہے تو مقابلے میں دوسری طاقت آجاتی ہے۔ افغانستان کی جنگ کے خاتمے تک صورتحال یہ رہی ہے کہ دو طاقتیں آمنے سامنے تھیں۔ یورپ کے سامنے ہٹلر تھا، بعد میں امریکہ اورمغربی طاقتوں کے سامنے روس آ کھڑا ہوا تھا اور امریکہ اور روس کے مابین سرد جنگ چلتی رہی ہے۔
جب افغانستان کی جنگ عروج پر تھی اور امریکہ اس کی سپورٹ میں آگیا تھا تو یہ نظر آرہاتھا کہ افغانستان اور پاکستان کے مجاہدین کی قربانیاں اور اس کی پشت پر امریکہ کی طاقت سےیوں محسوس ہونے لگا تھا کہ روس شکست کھائے گا، اور پھر اس نے شکست کھائی بھی۔ اس وقت ہمارے بعض اہل علم دانشور حضرات نے یہ کہا، خود مجھ سے ہمارے بعض اساتذہ نے بات کی کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ امریکہ کے مقابلے میں روس کی طاقت درمیان سے ہٹ جائے گی اور امریکہ یک قطبی طاقت ہوگا۔ اور پھر وہی ہوگا جو امریکہ چاہے گا، اس کا کوئی سامنا کرنے والا نہیں ہوگا۔(جاری ہے)