(گزشتہ سے پیوستہ)
دنیا اس وقت جس دوراہے پر کھڑی ہے، وہاں سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ ’’ہم ٹوٹ پھوٹ کو محض عبوری شور سمجھ کر نظر انداز کر دیں۔‘‘ڈیووس کی اس گونج کو سننا اس لیے ضروری ہے کہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ طاقت کس کے پاس ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت کن اصولوں کے تابع ہے اور جب اصول کمزور پڑ جائیں، تو سب سے پہلے وہی چیخ سنائی دیتی ہے جو آج ڈیووس کے ایوانوں میں سنائی دی ایک ٹوٹتے ہوئے عالمی بیانیے کی چیخ۔اگر ہم پاکستان کی داخلی سیاست سے جوڑ کر دیکھیں تو وزیر اعظم مارک کارنی کا یہ خطاب محض عالمی سیاست کی بازگشت نہیں، بلکہ پاکستان کی طاقت، ریاست، معیشت اور سیاسی اشرافیہ کے رویوں کی نشاندہی آ ہے جو ڈیووس سے اسلام آباد تک ٹوٹتے عالمی نظام اور پاکستانی سیاست کی الجھنوں کا آئینہ ہے۔
جب کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے ڈیووس میں کہا کہ ’’دنیا کسی منتقلی نہیں بلکہ دراڑ‘‘ کے مرحلے میں ہے تو یہ جملہ محض عالمی طاقتوں کے لئے نہیں تھا۔ یہ ان تمام ریاستوں کے لیے ایک انتباہ تھا جو ابھی تک یہ سمجھ رہی ہیں کہ بحران عارضی ہیں، کہ سب کچھ معمول پر لوٹ آئے گا، اور یہ کہ پرانا عالمی نظم کسی نہ کسی صورت برقرار رہے گا۔
بدقسمتی سے پاکستان بھی انہی ریاستوں میں شامل ہے جو عالمی ٹوٹ پھوٹ کو بیرونی خبر سمجھ کر پڑھتی ہے، داخلی سیاست سے جوڑ کر نہیں دیکھتی ۔ پاکستان کی داخلی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ عالمی نظام کو ایک مستقل، جامد اور قابلِ بھروسا حقیقت سمجھ کر اپنی حکمتِ عملی ترتیب دیتی رہی ہے۔ کبھی امریکہ ہمیشہ کا دوست بنا، کبھی چین ابدی متبادل قرار پایا اور کبھی مشرقِ وسطیٰ کو معاشی نجات دہندہ سمجھ لیا گیا۔ مارک کارنی کا خطاب اس خوش فہمی کی جڑ کاٹتا ہے کہ عالمی طاقتیں مستقل ہوتی ہیں اور اصولوں پر چلتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ طاقت مفاد دیکھتی ہے، اور مفاد بدلتا رہتا ہے۔کارنی نے جن مڈل پاورز کے اتحاد کی بات کی، پاکستان خود کو نہ مڈل پاور سمجھتا ہے نہ اس درجے کی تیاری رکھتا ہے۔ ہم داخلی طور پر اس قدر منقسم ہیں کہ خارجہ پالیسی بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا شکار ہو چکی ہے۔
پاکستان میں خارجہ تعلقات اب ریاستی حکمتِ عملی نہیں، بلکہ سیاسی جماعتوں کے بیانیے بن چکے ہیں۔ کوئی امریکہ مخالف ہو کر محبِ وطن کہلاتا ہے، کوئی چین نواز ہو کر حقیقت پسند اور کوئی خلیجی قربت کو بقا ء کی ضمانت سمجھتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ پاکستان میز پر بیٹھنے کے بجائے اکثر مینو میں شامل نظر آتا ہے۔کارنی کی ایک اہم بات یہ تھی کہ آج معیشت ہتھیار بن چکی ہے۔ یہ بات پاکستانی سیاست دانوں کے لیے خاص طور پر لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان کی معیشت برسوں سے قرض، امداد اور رعایتوں پر کھڑی ہے۔ مگر ہماری داخلی سیاست میں معیشت کو کبھی قومی سلامتی کا درجہ نہیں دیا گیا۔
بجٹ تقریریں سیاسی نعرے بن گئیں، اصلاحات ووٹ ہارنے کا خوف بن گئیں اور ادارہ جاتی فیصلے اقتدار کے کھیل کی نذر ہو گئے۔ نتیجہ یہ کہ جب عالمی نظام سخت ہوتا ہے، تو پاکستان سب سے پہلے دبائو میں آتا ہے۔ پاکستانی سیاست کی ایک اور کمزوری یہ ہے کہ ہم عالمی تبدیلیوں کو سازش کے طور پر دیکھتے ہیں، ساختی تبدیلی کے طور پر نہیں۔ پاکستان کی داخلی سیاست عالمی سطح پر غیر سنجیدہ سمجھی جاتی ہے۔ جب ایک ملک میں ہر الیکشن آخری جنگ بن جائے، ہر مخالف غدار قرار پائے اور ہر ادارہ سیاسی تنازع کا حصہ بن جائے، تو دنیا اسے ایک غیر مستحکم شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہے۔ پاکستان کے لیے سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ہم ابھی تک کثیرالجہتی سیاست (multilateralism) کو اپنانے میں ناکام ہیں۔ ہم یا تو طاقت کے ایک کیمپ میں جانا چاہتے ہیں یا دوسرے میں۔ مارک کارنی نے واضح کیا کہ ’’یک طرفہ وابستگی اب کمزور ممالک کے لئے خطرناک ہو چکی ہے۔‘‘مگر پاکستانی سیاست میں یہ فہم ابھی تک جنم نہیں لے سکا۔ ہر نئی حکومت پچھلی خارجہ ترجیحات کو رد کر دیتی ہے، گویا ریاست نہیں بلکہ پارٹی حکومت کر رہی ہو۔داخلی سطح پر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی بیانیہ کبھی مستقل نہیں بنتا۔ کبھی ہم خود کو عالمی مزاحمت کی علامت کہتے ہیں، کبھی عالمی برادری کے مظلوم رکن، اور کبھی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ملک۔ یہ تضاد عالمی نظام کی دراڑ سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ اندر سے ریاست کو کھوکھلا کرتا ہے۔مارک کارنی نے انسانی حقوق اور خودمختاری کو عالمی استحکام سے جوڑا۔
پاکستانی سیاست میں مگر انسانی حقوق کو یا تو مغربی سازش کہا جاتا ہے یا سیاسی ہتھیار۔ جب ایک ریاست اپنے شہریوں کے حقوق پر متفق نہ ہو، تو وہ عالمی فورمز پر اصولی موقف بھی نہیں اپنا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اکثر عالمی مباحث میں دفاعی پوزیشن میں نظر آتا ہے، قائدانہ نہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ڈیووس کی اس گونج کو سننے کے لئے تیار ہے؟ ادارہ جاتی کمزوری، سیاسی انتشار، معاشی غیر سنجیدگی اور عالمی تبدیلیوں سے انکار۔دنیا واقعی ایک دراڑ سے گزر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اس دراڑ میں پھسلے گا یا اس کے کنارے پر کھڑے ہو کر نئی سمت کا تعین کرے گا۔ فیصلہ ڈیووس میں نہیں، اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پشاور کی سیاست میں ہوگا۔