Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ بات درست تھی کہ جب دو طاقتیں آمنے سامنے تھیں تو دنیا کے ہر ملک کو سہارا تھا کہ امریکہ کا کیمپ زیادتی کرتا تو روس کا کیمپ پناہ دینے کے لیے موجود تھا۔ اور اگر روس کا کیمپ زیادتی کرتا تو امریکہ کا کیمپ پناہ دینے کے لیے موجود تھا۔
موجودہ صورتحال میں یہودکا کردار کیا ہے؟ میں یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ یہود کے کردار کو سمجھنے کے لیے امریکہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کی اصل آبادی کو تو ریڈ انڈین کہہ کر انہوں نے کناروں پرلگا دیا ہے۔ اسپین میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی، اس وقت اسپین کی ملکہ ازابیلہ کے کہنے پرکولمبس وغیرہ دنیا میں سیاحت کرتے ہوئے سمندر میں سفر کر کے دوسرے کنارے تلاش کر رہے تھے، اسی میں امریکہ دریافت ہوا جو بہت بڑا براعظم ہے۔ اس میں امریکہ،کینیڈا،میکسیکو،برازیل،جنوبی امریکہ اور شمالی امریکہ سب شامل ہیں۔ اب جو امریکہ کی موجودہ آبادی ہے یہ یورپ، جرمن، اسپین، فرانس اور برطانیہ وغیرہ سے گئے ہوئے لوگ ہیں جنہوں نے امریکہ کو آباد کیا تھا۔ یہ پہلے وہاں کی لوکل آبادی سے کام لیتے رہے، پھر افریقہ سے ملازم اور غلام بھرتی کر کےلے جاتے رہے۔ امریکہ کو آباد کیا، اسے ترقی دی، اسے آرگنائز کیا، اسے سماجی بھلائی، تمدن و تہذیب سب کچھ فراہم کیا۔ اس وقت بھی آپ کو امریکہ میں مختلف نسلوں کے لوگ ملیں گے اور بہت سے ملکوں کے شہروں کے نام بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے مثلاً برمنگھم وغیرہ۔ امریکہ میں اسپینش سب سے زیادہ ہیں اور انگلش کے ساتھ اسپینش زبان امریکہ کی دوسری سرکاری زبان ہے۔ یہ اسپین کے لوگ تھے جو اسپین سے بھاگے تھے وہ وہاں جا کر آباد ہوئے۔ اسپینش جو وہاں آباد ہیں ان کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی اولاد ہے۔
جب امریکہ میں مختلف ممالک سے لوگ جا کر آباد ہونے لگے، یہود نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور امریکہ میں آباد ہونا شروع ہو گئے، اور صرف آباد ہونا شروع نہیں ہوئے۔ عیسائیوں اور یہودیوں کی کشمکش آج سے سو سال پہلے تک قائم تھی، عیسائی سیاست دان اور عیسائی علماء بھی یہود کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کی حیثیت ایک اقلیت کی تھی، ایسی اقلیت جس کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ امریکہ میں یہودیت کے ارتقا کی تاریخ ڈیڑھ سو سال سے زیادہ نہیں ہے۔ انہوں نے وہاں نئے براعظم میں آباد ہو کر نئے سرے سے منصوبہ بندی کی، نئی صف بندی کی۔ تعلیم، سائنس، معیشت اور تجارت کے راستوں سے یہود نے وہاں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا اور ایک منظم پلان کے ساتھ آہستہ آہستہ وہاں کے کلیدی مناصب پر، کلیدی شعبوں میں اپنا کنٹرول قائم کیا۔ اس وقت بقول اقبالؒ فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے-یورپ میں بھی انہوں نے ایسے ہی کیا، محاذ آرائی بالکل چھوڑ دی اور خفیہ خفیہ تعلیمی شعبے میں آگے آگئے۔ معیشت میں ان کی ہمیشہ سے بالادستی رہی ہے اور ان کا دماغ بھی بہت کام کرتا ہے۔ ان کے سازشی دماغ کو سمجھنا ہو تو اس کے لیے قرآن کریم نے ان کے جو گزشتہ واقعات بیان کیے ہیں وہی کافی ہیں۔ آہستہ آہستہ انہوں نے یورپ اور امریکہ دونوں براعظموں میں اپنا اثرورسوخ بنانا شروع کیا۔ یورپ میں تو یہ ایک حد تک ہیں، یورپ پوری طرح ان کے ساتھ نہیں ہے اور اس کا کنٹرول ان کے پاس ایک حد سے زیادہ نہیں لیکن امریکہ میں یہ مکمل کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ امریکہ کے تھنک ٹینکس میں، امریکہ کی سیاسی قیادت، معاشی قیادت، امریکہ کے بینکنگ کے نظام میں نوے فیصد کنٹرول یہود کا ہے۔ پالیسی سازی کے مراکز تک رسائی حاصل کرنا اور کنٹرول حاصل کرنا، یہ یہودیوں کی تکنیک رہی ہے۔
اور یہاں میں یہ بات یاد دلانا چاہوں گا کہ یہ بات علامہ اقبال مرحوم نے قادیانیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے اسی پس منظر میں کی تھی۔ قادیانیوں کا جو طریقہ انگریزوں کے دور میں تھا کہ اعلیٰ مناصب تک پہنچ کر اعلیٰ محکموں میں رسوخ حاصل کر کے کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ انگریزوں کے دور سے ان کی یہ تکنیک چلی آرہی تھی۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک نے قادیانیوں کو بریک لگائی۔ اقبالؒ نے اسی پس منظر میں کہا تھا کہ قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے۔ اس وقت امریکہ میں یہود کی آبادی بمشکل ایک یا ڈیڑھ فیصد ہو گی لیکن امریکہ کی پالیسیوں پر کنٹرول یہود کا ہے، جس کی ایک بات تو میں نے اقبالؒ کے حوالے سے ذکر کی ہے۔
دوسرے میں یہ ذکر کرنا چاہوں گا کہ جب ۱۹۷۴ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو بھٹو مرحوم اپنے اس فیصلے کے دفاع میں جو باتیں کہا کرتے تھے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے جیل میں اپنے نگران کرنل رفیع سے کہا کہ احمدی پاکستان میں وہی پوزیشن حاصل کرنا چاہتے ہیں جو امریکہ میں یہودیوں کو حاصل ہے۔ آگے وضاحت کی کہ ملک کی کوئی پالیسی ان کی مرضی کے بغیر طےنہ ہونےپائے۔ بھٹو مرحوم نے کہا تھا کم ازکم میں تو یہ نہیں ہونے دوں گا کہ پاکستان کی پالیسیوں کا کنٹرول ایک اقلیتی گروہ کے ہاتھ میں چلا جائے۔ فرق یہ ہوا کہ یہودیوں کے راستے میں کوئی مزاحمت نہیں تھی، عیسائی علماء نے مزاحمت کی کوئی قوت کھڑی نہیں کی، اور یہودی مزاحمت کے بغیر آگے بڑھتےچلے گئے اور تقریباً ایک صدی میں انہوں نے امریکہ کے معاملات کو اپنے کنٹرول میں لے لیاجبکہ قادیانیوں کو مزاحمت کا سامناتھا، اگر قادیانیوں کو ۱۹۵۳ء کی تحریک کی مزاحمت کا سامنا نہ ہوتا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں