Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

یہ فیصلہ بھی شریفوں کی حکومت ہی سے ہونا تھا ؟

قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے ’’پیس بورڈ‘‘ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم تاریخ بھول گئے ہیں‘‘ واقعی ہم تاریخ سے نابلد ہوگئے ہیں ورنہ تاریخ تو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ’’ریاستیں اس دن زوال کی طرف پہلا قدم رکھتی ہیں جب وہ فیصلے قوم سے چھپانے لگتی ہیں۔ ‘‘ جمہوریت کی روح مشاورت میں ہے، مگر جب مشاورت کی جگہ خاموشی اور دلیل کی جگہ دستخط لے لیں تو سمجھ لیجیے کہ ریاست آئینی دائرے سے نکل کراقتدارکے اندھے کنوئیں کے کنارے کھڑی اپنی بے راہ روی کا مرثیہ پڑھ رہی ہے ۔یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایوان محض عمارت رہ جاتے ہیں، آئین کتاب اور عوام محض اعداد و شمار کا دھندہ۔پاکستان جیسے نظریاتی ملک میں جس کی بنیاد ہی ایک اخلاقی وعدے پر رکھی گئی تھی، فلسطین محض خارجہ پالیسی کا عنوان نہیں، ضمیر کا پیمانہ ہے۔ یہ وہ کسوٹی ہے جس پر ہر حکومت، ہر لیڈر اور ہر ادارہ پرکھا جاتا ہے۔ یہاں خاموشی سفارت کاری نہیں، اخلاقی پسپائی کی حیثیت رکھتی ہے۔ پیس بورڈ کے حوالے سے ڈیووس میں جو ہوا، وہ خاموشی سے بھی ایک قدم آگے ہے۔
یہ فیصلہ نہ پارلیمنٹ میں زیرِ بحث آیا، نہ سینیٹ میں، نہ قوم کو کی عدالت کے روبرو ۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سوال جنم لیتا ہے کیا پاکستان میں اب خارجہ پالیسی بھی عوامی نمائندگی کے بغیر بنے گی؟کیا قومی غیرت اب چند دستخطوں کی محتاج ہو چکی ہے؟ یہ اظہاریہ نرم الفاظ کا متحمل نہیں۔ یہ وہ تحریر ہے جو سوال نہیں کرتی، جھنجھوڑتی ہے۔ یہ احتجاج ہے ، ضمیر کا، تاریخ کا، اور اس قوم کے زخمی شعورکا۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں فیصلہ عوام سے پہلے بند کمروں میں ہوتا ہے؟ یہ کیسا پارلیمانی نظام ہے جس میں پارلیمنٹ سے پہلے دستخط ہو جاتے ہیں؟ اور یہ کیسی ریاست ہے جس میں فلسطین جیسے تاریخی، اخلاقی اور ایمانی مسئلے پر ، قوم، ایوان، سینیٹ، حتیٰ کہ کابینہ کی اجتماعی دانش کو بھی اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا جاتا؟ یہ محض سفارتی لغزش نہیں، یہ سیاسی بددیانتی ہے۔ یہ جمہوریت نہیں، ڈکٹیٹرشپ کی جدید شکل ہے وہ ڈکٹیٹرشپ جو ٹینکوں سے نہیں، فائلوں اور دستخطوں سے چلتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ فیصلہ کیا تھا ؟ سوال یہ ہے کہ کس اختیار سے کیا گیا ؟ایوان کہاں تھا؟ سینیٹ کیوں سو رہی تھی؟کیا یہ فیصلہ قومی اسمبلی کے فلور پر آیا؟کیا سینیٹ میں بحث ہوئی؟کیا خارجہ پالیسی کی اس کایا کلپ پر کسی پارلیمانی کمیٹی نے رائے دی؟ نہیں ہرگز نہیں، یہ وہی ایوان ہیں جن کے لئے آئین کہتا ہے کہ قوم کی اجتماعی دانش یہاں بولے گی۔ مگر آج ایوان گونگا ہے، دیواریں لرزاں ہیں، اور کرسیوں پر بیٹھے نمائندے اپنی اپنی مصلحتوں میں دبکے ہوئے ہیں۔یہ جمہوریت نہیں، اجتماعی خاموشی کا معاہدہ ہے۔میاں نواز شریف مہر بلب کیوں؟ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ میاں نواز شریف کہاں ہیں؟وہ نواز شریف جنہوں نے ایٹمی دھماکوں پر دبائو کے باوجود قوم کی غیرت کا بیانیہ نہیں بیچا وہ نواز شریف جو ہر بحران میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے رہے۔آج فلسطین پر جہاں بچوں کی لاشیں ملبے سے نکالی جا رہی ہیں، جہاں ہسپتال قبرستان بن چکے ہیں ، آج وہ مہر بلب ہیں۔کیوں؟کیا اقتدار کی شراکت نے ان کی زبان سلب کر لی؟وزراء کی زبانیں گنگ ہیں ، یہ کیسی کابینہ ہے؟کابینہ کے وزراء کہاں ہیں؟وہ جو ہر معمولی بیان پر پریس کانفرنس بلا لیتے ہیں، آج اجتماعی طور پر گونگے کیوں ہیں؟ یہ وہی وزراء ہیں جو سوشل میڈیا پر حب الوطنی کے اسٹیٹس لگاتے تھے، جو فلسطین کے حق میں تصویریں شیئر کر کے ووٹ سمیٹنے کی سعی کرتے ہیں ۔ آج ان کے فون خاموش ہیں، ان کے اکانٹس سنسان۔یہ خاموشی اتفاق نہیں یہ اطاعت ہے۔یہ بے بسی نہیں ،یہ شراکتِ جرم ہے۔کیا سچ مر گیا؟ کیا مسلم حمیت دفن ہو گئی؟یہ سوال جذباتی نہیں، تاریخی ہے۔
کیا ہم اس مقام پر آ گئے ہیں کہ فلسطین پر بولنا سفارتی بوجھ بن گیا ہے ؟کیا امت، مظلوم اور انسانی حقوق اب محض تقریری لفظ رہ گئے ہیں؟ اگر غزہ کے جلتے بچوں پر بھی ریاستی ضمیر نہیں جاگتا تو پھر وہ کون سا لمحہ ہوگا جو ہمیں جھنجھوڑے گا؟یہ محض فلسطین کا سوال نہیں ، یہ پاکستان کے تشخص کا سوال ہے۔ بین الاقوامی بدمعاش کے ساتھ تنہائی میںکیا سودے بازی ہوئی؟دنیا جانتی ہے کہ حماس کو تباہ کرنے کا دعویدار کون ہے۔دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ اس تباہی کی قیمت بچوں، عورتوں اور ہسپتالوں نے پہلے ہی بہت چکائی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس بین الاقوامی بدمعاش کے ساتھ تنہائی میں کیا بات ہوئی؟کون سی یقین دہانیاں لی گئیں اور کرائی گئیں اورکس قیمت پر؟ کس کے بدلے؟کیا قرضوں کی قسط؟ کیا کسی فائل کی منظوری؟یا اقتدار کی بقاء ؟ قوم کو سچ جاننے کا حق ہے کیونکہ یہ فیصلہ قوم کے نام پر کیا گیا۔وزیر اعظم کس منہ سے ملک آئیں گے؟وزیر اعظم صاحب! آپ بیرونِ ملک سے واپسی پر قوم کو کیا عندیہ دیں گے؟کیا آپ اس چہرے کے ساتھ ملک میں قدم رکھیں گے جس پر مداہنت سجی ہے ۔ کیا آپ ان بچوں کی تصویروں سے آنکھ ملا سکیں گے جو ہمارے دستخطوں کی خاموشی میں مر گئے؟تاریخ یاد رکھتی ہے اور تاریخ معاف نہیں کرتی۔یہ صرف سیاسی نہیں اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ریاستیں غلطیاں کرتی ہیں، مگر غلطی مان کر۔یہاں غلطی نہیں، انکار ہے۔ یہاں وضاحت نہیں، خاموشی ہے۔یہاں مشاورت نہیں،نا فرمانی ہے۔ ہر رکن ایوان کو سراپا سوال بن جانا چاہیے کہ یہ کسی جماعت کا مسئلہ نہیں طرزِ حکمرانی کے خلاف فردِ جرم ہے۔یہ سوال ہے ان سب سے جو اقتدار میں ہیں، یا اقتدار کے سائے میں محفوظ ہیں۔اگر فلسطین پر بولنا جرم ہے تو یہ جرم قبول کرنا چاہیئے، اگر سچ کہنا جرم ہے تو یہ جرم کرنا چاہیئے۔کیونکہ جو ریاست مظلوم کے حق میں نہیں بولتی، وہ ایک دن اپنے ہی شہریوں کے لیے ظالم بن جاتی ہے اور یاد رکھیں قومیں خاموشی سے نہیں، سوالوں سے زندہ رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں