تاریخ گواہ ہے کہ طاقت ہمیشہ شور نہیں مچاتی، بعض اوقات وہ خاموشی میں سرکتی ہے۔ سلطنتیں اکثر میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ نقشوں کی میز پر بنتی اور بگڑتی ہیں۔ وہ خطے جو کل تک حاشیے پر تھے، اچانک مرکز بن جاتے ہیں، اور جو مرکز میں ہوتے ہیں، بے خبری میں کنارے لگ جاتے ہیں۔ اکیسویں صدی کی عالمی سیاست بھی اسی اصول پر آگے بڑھ رہی ہے جہاں توپ و تفنگ سے زیادہ جغرافیہ، وسائل اور راستے بول رہے ہیں۔
گرین لینڈ اسی بدلتے ہوئے عالمی تناظر کی ایک علامت ہے۔ ایک ایسا جزیرہ جو بظاہر برف پوش تنہائی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر درحقیقت بڑی طاقتوں کے لیے مستقبل کی امیدبنتا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا اسے خریدنے کا خواب ، محض ایک سہانہ سپنا نہیں بلکہ ایک تعبیر کے حصول کی سنجیدہ آرزو ہے جو امریکہ کے عالمی طاقت کے تفاخر کی علامت ہے ۔وہ تفاخر اور گھمنڈجو اتحادیوں پر سفارت کاری سے زیادہ اجارہ داری کا رعب جمانے کے لئے ہے۔گرین لینڈ اپنے محلِ وقوع کے اعتبار سے طاقت کا قدرتی پل اور دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جو شمالی بحرِ اوقیانوس اور بحرِ منجمد شمالی کے سنگم پر واقع ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ شمالی امریکا کے قریب اور یورپ سے نسبتاً دوری پر ہے، مگر سیاسی طور پر ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خودمختار خطہ ہے۔ یہی جغرافیائی تضاد اسے عالمی طاقتوں کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل بنادیتا ہے۔یہ جزیرہ دراصل امریکا، یورپ اور روس کے درمیان ایک قدرتی اسٹریٹجک پل ہے۔ جو طاقت یہاں مضبوط وجود رکھتی ہے، وہ نہ صرف آرکٹک بلکہ شمالی نصف کرے کی عسکری اور معاشی حرکیات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔جب برف پگھلتی ہے اور موسم ذرا تمازت پکڑتا ہے تو سیاسی ماحول میں بھی حدت در آتی ہے۔ یوں موسمیاتی تبدیلی آرکٹک کو عالمی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ برف کے پگھلنے سے نئے بحری راستے کھل رہے ہیں جو یورپ اور ایشیا کے درمیان فاصلے کم کر سکتے ہیں۔ یہ راستے صرف تجارت نہیں بلکہ طاقت کی ترسیل بھی بدل سکتے ہیں۔
اسی کے ساتھ وہ قدرتی وسائل بھی قابلِ حصول ٹھہریں گے جو اب تک برف کی قید میں تھے۔ تیل، گیس، یورینیم اور نایاب معدنیات اور وہ عناصر جو مستقبل کی معیشت، دفاع اور گرین ٹیکنالوجی کی بنیاد ہیں۔ جو ریاستیں ان وسائل تک پہلے پہنچیں گی، وہ آنے والی دہائیوں میں عالمی معیشت کا رخ متعین کرنے کی ذمہ دار ہونگی۔
اپنے گزشتہ دور اقتدار میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جب گرین لینڈ کو خریدنے کی بات کی تو دنیا نے اسے ایک عجیب مذاق سمجھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بیان امریکی اسٹریٹجک اسٹیبلشمنٹ کے دیرینہ خدشات کا غیر سفارتی اظہار تھا۔امریکا پہلے ہی گرین لینڈ میں Pituffik Space Base کے ذریعے روسی میزائل سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے۔ ٹرمپ کی خواہش اس موجودگی کو محض دفاعی شراکت سے نکال کر مکمل اسٹریٹجک کنٹرول میں بدلنے کی تھی۔جس کے پیچھے تین واضح محرکات تھے۔
1۔چین کا راستہ روکنا 2۔ چین کی آرکٹک میں سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کے ذریعے قدم جمانے کی روش اور 3۔روس کا گھیرائو جس نے آرکٹک کو عسکری قلعہ بنا لیا ہوا ہے۔اس پر مستزاد یہ بھی کہ یورپ پر بالادستی قائم کی جائے۔کہ گرین لینڈ پر کنٹرول یورپ کو مزید امریکی سکیورٹی پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔یہ سب America First کا جغرافیائی اظہار تھا وہی فلسفہ جس میں اتحادی بھی ضرورت پڑنے پر قابلِ استعمال اثاثہ بن جاتے ہیں۔ٹرمپ دور میں امریکا اور یورپ کے تعلقات میں ایک واضح تبدیلی آئی۔ نیٹو کے دفاعی اخراجات ہوں یا تجارتی محصولات امریکا نے پہلی بار یورپ سے برابری کے بجائے فرمانبرداری کا لہجہ اختیار کیا۔گرین لینڈ کے معاملے پر ڈنمارک کا انکار صرف ایک سفارتی ردعمل نہیں تھا بلکہ یورپ کی اجتماعی بے چینی کا اظہار تھا۔ یورپی قیادت کو یہ احساس شدت سے ہونے لگا کہ امریکا اب اتحادی کم اور سرپرست پر زیادہ مصر ہو رہا ہے۔اس دبائو کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ یورپ میں مشترکہ دفاعی خودمختاری کی بحث تیز ہو گئی۔ اگرچہ یہ عمل سست رو رہا مگر اس کی سمت واضح ہوتی رہی۔اب اگر امریکی سخت رویہ یورپ کو واشنگٹن سے دور کرتا محسوس ہوتا ہے تو یہ خلا چین اور روس کے لیے سنہری موقع بن سکتا ہے۔ چین سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور منڈی کے ذریعے یورپ میں اپنی جگہ بنا رہا ہے، جبکہ روس توانائی کے ذریعے اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی راہ پر عمل پیرا ہے۔یوں امریکی اجارہ داری دراصل اسی کثیر قطبی دنیا کو جنم دے رہی ہے جس سے امریکا خود خوف زدہ ہے۔
اگر ہم اس سارے معاملے کو پاکستانی تناظر میں دیکھیں تو یہ امر کھل کر سامنے آتا ہے کہ پاکستان کے لیے گرین لینڈ ایک دور افتادہ جزیرہ سہی ، مگر اس کی کہانی ہمارے لیے آئینہ ہے۔ دنیا میں وہی قومیں باوقار رہتی ہیں جو اپنے جغرافیے، وسائل اور فیصلوں کی قدر جانتی ہیں۔ جواس سب پر دھیان نہیں دیتیں، وہ دوسروں کی سرد جنگوں میں گرم بیانات کا ایندھن بن جاتی ہیں۔پاکستان بھی ایک اسٹریٹجک محلِ وقوع رکھتا ہے، مگر سوال یہ ہے،کیا ہم نے کبھی اپنے جغرافیے کو طاقت میں بدلا؟یا ہم محض دوسروں کے منصوبوں کا راہداری نقشہ بن کر رہ گئے؟
گرین لینڈ برف میں لپٹا ضرور ہے، مگر اس کے نیچے عالمی سیاست کے آتش فشاں سلگ رہے ہیں۔ ٹرمپ کا بیان ایک فرد کی سوچ نہیں بلکہ ایک بدلتی ہوئی عالمی ترتیب کی علامت تھا ۔جہاں طاقت اخلاقیات سے آزاد ہوتی جا رہی ہے۔ یورپ اگر امریکی دبا ئوکو قبول کرتا ہے تو تابع بنے گا، اور اگر مزاحمت کرتا ہے تو دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھے گی اور اس توازن کے فیصلے ان خطوں میں ہوں گے جہاں انسان کم اور مفادات زیادہ ہیں۔شاید یہی اکیسویں صدی کا سب سے تلخ سچ ہے۔گرین لینڈ کی کہانی ہمیں یہ سادہ مگر تلخ سبق دیتی ہے کہ دنیا میں کوئی خطہ، کوئی ریاست اور کوئی جغرافیہ خود بخود اہم نہیں ہوتااسے اہم بنایا جاتا ہے۔ طاقتور اقوام اپنے محلِ وقوع کو تقدیر نہیں، ہتھیار بناتی ہیں، جبکہ کمزور قومیں اسی جغرافیے کو نعرہ بنا کر مطمئن ہو جاتی ہیں۔ پاکستان بھی ایک ایسی ہی دہلیز پر کھڑا ہے جہاں وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطی اور بحیرہ عرب ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اس محلِ وقوع کو قومی مفاد میں ڈھالا؟ یا ہم نے اسے دوسروں کے ایجنڈوں کی تجربہ گاہ بنا دیا؟ عالمی سیاست میں عزت انہیں ملتی ہے جو فیصلے خود کرتے ہیں، نہ کہ وہ جو ہر بدلتی ہوا کے ساتھ رخ بدلتے ہیں۔ اگر پاکستان نے اپنے جغرافیے، وسائل اور خارجہ پالیسی کو باہم جوڑ کر ایک واضح سمت متعین نہ کی تو خطرہ یہ نہیں کہ ہم نظرانداز ہو جائیں گے، بلکہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ زیرِ بحث رہیں گے بغیر اختیار، بغیر وقار اور بغیر فیصلہ سازی کے حق کے۔ یہی گرین لینڈ کا اصل سبق ہے، اور یہی پاکستان کے لیے سب سے بڑا انتباہ۔
