جمہوری نظام کی اصل روح پارلیمنٹ میں سانس لیتی ہے۔ یہی وہ ایوان ہوتا ہے جہاں قوم کی اجتماعی عقل، باہمی ضمیر اور مشترکہ مفادات کو قانون کی صورت دی جاتی ہے۔ مگر جب یہی ایوان عقل سے خالی، ضمیر سے عاری اور اختیار سے محروم ہو جائے تو قانون سازی قومی مفاد نہیں، طاقت کے مراکز کی خواہشات کی تکمیل بن جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب پارلیمان محض شطرنج کی بساط بن جائے، تو ریاستیں اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ آج کا پاکستان بھی اسی المیے سے گزر رہا ہے ایک ایسا المیہ جس میں منتخب نمائندے نمائندہ نہیں رہے، بلکہ اسٹیج کی پتلیاں بن چکے ہیں جنہیں مقتدرہ اور اسٹیبلشمنٹ اپنی انگلیوں پر نچاتے ہیں، جن کی جنبشِ لب بھی کہیں اور سے متعین ہوتی ہے۔ یہ وہ پتلیاں ہیں جو آئین کی دسترس سے بھی ماورا ہیں ۔یہ طاقت کے ان مراکز کے ہاتھ میں ہیں جو ہر دور میں پارلیمان کو اپنی مرضی کی بساط سمجھتے آئے ہیں۔
آج پارلیمنٹ ایک سنجیدہ ادارہ کم اور حکومت کی بساط زیادہ نظر آتی ہے، جہاں مہرے اپنی چالیں خود نہیں چلتے، بلکہ دستخطوں کی مشینیں بن چکے ہیں ،ایسی مشینیں جنہیں نہ بل کے متن سے دلچسپی ہے، نہ اس کے مضمرات سے آگہی، نہ اس سوال سے کوئی سروکار کہ یہ قانون ملک اور قوم کو کس سمت لے جائے گا۔
یہ وہ نمائندے ہیں جن کی اپنی کوئی رائے نہیں، کوئی فکری خودمختاری نہیں، کوئی ایسا ضمیر نہیں جو انہیں رات کے سناٹے میں جھنجھوڑ کر پوچھے ، کیا تم نے واقعی عوام کے حق میں ووٹ دیا؟ عقل و خرد سے ماورا یہ طرزِ عمل محض نااہلی نہیں، ایک منظم جرم ہے ، ریاست کے مستقبل کے خلاف جرم۔حالیہ منظور ہونے والے بل اسی المیے کی بدترین مثال ہیں۔ ایسے بل جن پر نہ صرف قانونی ماہرین نے سوال اٹھائے، نہ صرف سول سوسائٹی نے تشویش ظاہر کی، بلکہ ملک کے صدرِ مملکت نے بھی کھلے لفظوں میں اعتراضات درج کیے۔ صدر کا معترض ہونا کوئی معمولی بات نہیں ، یہ اس بات کا اعلان ہے کہ قانون سازی کے عمل میں کچھ نہ کچھ بنیادی طور پر غلط ہوا ہے۔مگر افسوس! ہمارے اراکینِ اسمبلی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ ایوان میں نہ بحث ہوئی، نہ دلائل دیے گئے، نہ ترمیم کی سنجیدہ کوشش نظر آئی۔ بل ایسے منظور ہوئے جیسے کوئی فائل ہو جو ایک میز سے دوسری میز پر دستخط کے لیے گھومتی ہے۔ یہ پارلیمان نہیں، یہ تو محض ایک ربڑ اسٹیمپ ادارہ بن چکا ہے۔اسی سارے عمل نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کے مابین اختلاف کی قلعی بھی کھول دی ہے۔ برسوں سے ایک دوسرے پر جمہوریت کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرنے والی یہ جماعتیں، اقتدار کے مفاد پر آکر ایک دوسرے کے سامنے بے نقاب ہو گئیں۔ اصول، جمہوریت اور آئین سب ثانوی ٹھہرے ، اصل چیز اقتدار کی شراکت اور طاقت کے مراکز کی خوشنودی بنی رہی۔
پیپلز پارٹی، جو خود کو آئین کی محافظ اور پارلیمانی بالادستی کی علمبردار کہتی ہے، ان بلوں پر وہ مزاحمت دکھانے میں ناکام رہی جس کی اس سے توقع کی جا رہی تھی۔ زبانی بیانات، نیم دلانہ تحفظات اور رسمی اختلافات یہ سب کچھ اس حقیقت کو نہیں چھپا سکا کہ عملی طور پر پی پی پی بھی اسی کھیل کا حصہ بنی رہی۔
دوسری جانب مسلم لیگ(ن) جو خود کو ووٹ کی حرمت کی علمبردار کہتی ہے، اس سارے عمل میں سب سے زیادہ مطیع اور فرمانبردار دکھائی دی۔ وہ جماعت جو ماضی میں اسی مقتدرہ کے ہاتھوں سیاسی زخم کھانے کا دعویٰ کرتی رہی، آج اسی مقتدرہ کی چھتری تلے قانون سازی کرتی نظر آئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار میں آتے ہی اصول تبدیل ہو جاتے ہیں؟ یا اصول کبھی تھے ہی نہیں؟
یہ اختلاف دراصل اصولوں کا نہیں، مفادات کا ہے۔ دونوں جماعتیں اس بات پر متفق نظر آئیں کہ پارلیمان کو کس حد تک بے اختیار رکھا جائے اختلاف صرف یہ تھا کہ کریڈٹ کون لے اور نقصان کا بوجھ کون اٹھائے۔ صدر کے اعتراضات نے اس سارے بندوبست کو بے نقاب کر دیا، ورنہ شاید یہ بل خاموشی سے تاریخ کے صفحات میں دفن ہو جاتے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کون سا بل منظور ہوا، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیسے منظور ہوا۔ پارلیمانی جمہوریت میں طریق کار ہی اصل ضمانت ہوتا ہے۔ جب طریقہ ہی مشکوک ہو جائے، تو نیت پر بھی سوال اٹھتا ہے اور جب نیت مشکوک ہو، تو قانون ریاست کے لیے زہر بن جاتا ہے۔
آج پارلیمان میں بیٹھا نمائندہ یہ بھول چکا ہے کہ اس کی طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، نہ کہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے۔ وہ یہ بھی بھول گیا ہے کہ تاریخ معاف نہیں کرتی۔ اقتدار عارضی ہوتا ہے، مگر فیصلے مستقل ہوتے ہیں۔ جو قانون آج مصلحت کے تحت منظور کیا جا رہا ہے، وہ کل کسی اور کے ہاتھ میں ہتھیار بن سکتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ قوم سنجیدگی سے سوال اٹھائے، کیا ہم واقعی جمہوریت میں جی رہے ہیں، یا صرف جمہوریت کا ڈراما رچایا جا رہا ہے؟
کیا ہمارے نمائندے واقعی نمائندے ہیں، یا صرف مہرے؟
جب تک یہ سوال زندہ نہیں ہوں گے، تب تک پارلیمان موم کے پتلے بناتی رہے گی ،اور قوم ہر بار نئی شکل میں پگھلتی رہے گی۔
